وائن سٹین پر جنسی ہراس کا الزام لگانے والی خواتین کون ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وائن سٹین پر جنسی ہراس کے الزامات کی بوچھاڑ ہو رہی ہے اور کئی بڑی اداکاراؤں اور اداکاروں نے ان کی فعل کی مذمت کی ہے

ہالی ووڈ میں فلموں کے اہم پروڈیوسروں میں سے ایک ہاروی وائن سٹین کے خلاف کئی خواتین نے جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا ہے۔

ہاروی وائن سٹین نے یہ تو تسلیم کیا ہے کہ ان کے رویے کی وجہ سے کئی افراد 'کافی تکلیف ہوئی ہے' لیکن انھوں نے اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ بہت سے الزامات بے بنیاد ہیں۔

جنسی ہراس کے الزامات پر آسکر اکیڈمی کا ہنگامی اجلاس

اینجلینا جولی کا ہالی وڈ پروڈیوسر پر ہراساں کرنے کا الزام

ان پر الزام لگانے والوں میں سے چند حسب ذیل ہیں:

گوینتھ پالٹرو

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گوینتھ پالٹرو اور ہاروی وائن سٹین کے ایک 2008 کی تصویر جب وہ کسی محفل میں ایک مہمان سے بات کر رہے ہیں

اخبار نیو یارک ٹائمز کو دیے گئے اپنے بیان میں پالٹرو نے کہا کہ وائن سٹین نے 1996 میں فلم ’ایما‘ میں کاسٹ کرنے کے بعد انھیں اپنے کمرے میں بلایا۔

انھوں نے کہا کہ اس کمرے میں وائن سٹین نے ان پر اپنا ہاتھ رکھا اور مساج کا مشورہ دیا۔

انھوں نے بتایا کہ 'میں کم عمر تھی۔ اُن کے ساتھ معاہدہ تھا۔ میں بہت خوف زدہ تھی۔'

پالٹرو کہتی ہیں کہ اس واقعے کے بارے میں انھوں نے اپنے اس وقت کے بوائے فرینڈ بریڈ پِٹ کو بتایا۔ جس کے بعد انھوں نے ہاروی سے سختی سے بات کی۔

وہ کہتی ہیں کہ 'مجھے لگ رہا تھا کہ مجھے نکال دیا جائے گا‘۔

انجلینا جولی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انجلینا جولی نے دوسروں کو بھی مشورہ دیا تھا کہ وہ ہاروی کے ساتھ کام نہ کریں

اداکارہ انجلینا جولی کہتی ہیں کہ وائن سٹین نے 1998 میں فلم ’پلیئنگ بائے ہارٹ‘ کی ریلیز کے وقت انھیں جنسی تعلق کی پیشکش کی تھی۔

جولی نے کہا کہ 'میرا ہاروی وائن سٹین کے ساتھ تجربہ بہت برا تھا اور اسی بنا پر میں نے اُن کے ساتھ دوبارہ کبھی کام نہیں کیا اور دوسروں کو بھی اُن کے بارے میں خبردار کیا‘۔

'کسی بھی ملک میں خواتین کے ساتھ کسی بھی شعبے میں یہ رویہ ناقابلِ قبول ہے‘۔

ہیدر گراہم

تصویر کے کاپی رائٹ REX/SHUTTERSTOCK
Image caption ہیدر اور ہاروی 1999 میں ایک فلم پارٹی کے دوران

’دی بوگی نائٹس‘ کی اداکارہ نے ورائٹی میگزین کو بتایا کہ سنہ 2000 کے اوائل میں جب وہ انھیں ایک فلم میں کام کرنے سے متعلق بات کرنے کے لیے ملیں تو وائن سٹین نے انھیں بھی جنسی تعلق کی پیش کش کی تھی۔

انھوں نے الزام لگایا کہ وائن سٹین نے ان پر حاوی ہونے کی کوشش کی اور بتایا کہ ان کی بیوی کو اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ ملاقات کے بعد بڑی پریشانی کے عالم میں تھیں۔

کارا دیلے وین

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کارا دیلے وین نے الزام لگایا ہے کہ ہاروی وائن سٹین نے زبردستی ان کے ہونٹ چومنے کی کوشش کی تھی

برطانوی ماڈل اور اداکارہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وائن سٹین نے ہوٹل کے ایک کمرے میں ایک اور خاتون کی موجودگی میں ان کو ہراساں کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہ وہاں ایک فلم کے کردار پر بات کرنے گئی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ جب میں نے کہا کہ میں جانا چاہتی ہوں تو 'وہ مجھے دروازے تک چھوڑنے آئے اور اس کے سامنے کھڑے ہو کر میرے ہونٹوں کو چومنے کی کوشش کی۔ میں نے انھیں روکا اور کمرے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئی‘۔

ذو بروک

Image caption ذو بروک کا الزام ہے کہ ہاروی وائن سٹین ان کے سامنے برہنہ آ گئے تھے

ماڈل اور اداکارہ ذو بروک نے کہا ہے کہ انھیں 1997 میں وائن سٹین کے ہوٹل کے کمرے میں مختلف بہانوں سے لایا گیا تھا۔

انھوں نے ریڈیو 4 کے ٹوڈے پروگرام کو بتایا کہ وہ ہوٹل کے سویٹ کے حصے سے برہنہ حالت میں تھے اور مساج کے لیے کہا۔

'میں یہ نہیں کرنا چاہتی تھی اور انھوں نے پوچھا کہ کیا وہ مجھے مساج دیں۔ مجھے کچھ پتہ نہیں تھا کہ میں کیا کروں اور میں نے سوچا کہ اگر انھیں تھوڑا ہاتھ لگانے دوں تو شاید وہ میرے وہاں سے چلے جانے کے لیے راضی ہو جائیں‘۔

آسیا ارجینٹو

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اطالوی اداکارہ اور ڈائریکٹر آسیا ارجینٹو نے وائن سٹین پر ریپ کا الزام لگایا ہے

اطالوی اداکارہ اور ڈائریکٹر آسیا ارجینٹو کی وائن سٹین سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ ان کی کمپنی میرامکس کے کرائم ڈرامہ ’بی مونکی‘ میں کاسٹ کی گئیں۔

انھوں نے کہا کہ انھیں یہ بتا کر کہ وہ میرامکس کی پارٹی پر جا رہی ہیں ڈائریکٹر آسیا ارجینٹو نے انھیں فرنچ روئیارا ہوٹل کے ایک کمرے میں تنہا چھوڑ دیا۔

انھوں نے کہا کہ وہ نہ چاہتے ہوئے انھیں مساج دینے پر راضی ہوئیں لیکن بعد میں وائن سٹین نے ان کا ریپ کیا۔

ارجینٹو نے اس سے پہلے کبھی اس موضوع پر بات نہیں کی۔ وہ کہتی ہیں کہ انھیں ڈر تھا کہ اس کی وجہ سے ان کا مستقبل داؤ پر لگ جائے گا۔

لوشیا شٹولر

سٹولر، جو اب لوشیا ایونز کہلائی جاتی ہیں، کہتی ہیں کہ ان کا وائن سٹین سے سامنا 2004 میں نیو یارک کے ایک کلب میں ہوا تھا۔ اس وقت وہ ایک اداکارہ بننے کی خواہش مند تھیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ جب وہ وائن سٹین کے دفتر کاسٹنگ کے لیے ان سے ملنے گئیں تو فلم پروڈیوسر نے ان سے جنسی زیادتی کی۔

انھوں نے جریدے دی نیو یارکر کو بتایا کہ 'جیسا کنٹرول انھوں نے استعمال کیا، وہ بہت حقیقی تھا۔۔۔ ان کی تو موجودگی ہی ڈرانے والی تھی۔'

میرا سوروینو

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption میرا سوروینو اس سال جنوری میں وائن سٹین کمپنی کی پارٹی میں

میرا نے وائن سٹین کی کافی فلموں میں کام کیا ہے۔ انھوں نے دی نیو یارکر کو بتایا کہ فلم پروڈیوسر نے انھیں جنسی طور پر ہراساں کیا اور ان سے جسمانی تعلق رکھنے کے لیے دباؤ ڈالا۔

انھوں نے بتایا کہ 1995 میں ٹورونٹو میں بین الاقوامی فلمی میلے کے دوران جہاں وہ اپنی فلم ’مائٹی ایفروڈائیٹ‘ کی تشہیر کے لیے گئی تھیں، وہ اور وائن سٹین ایک ہوٹل کے کمرے میں ساتھ تھے جب وائن سٹین نے 'میرے کندھے دبانا شروع کر دیے، جس کی وجہ سے میں بہت پریشان ہوئی، اس کے بعد وہ مزید آگے بڑھنے لگے، میرے پیچھے بھاگنا شروع ہو گئے‘۔

لوئزے گائس

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لوئزے گائس ایک پریس کانفرنس میں ہاروی وائن سٹین پر الزامات لگاتے ہوئے

اداکارہ اور پروڈیوسر لوئزے گائس نے الزام لگایا کہ وائن سٹین نے 2008 میں سن ڈانس فلم فیسٹول کے دوران ان پر حملہ کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ وہ وائن سٹین کو ان کے دفتر میں جو ایک ہوٹل کے کمرے میں تھا، اپنا فلم سکرپٹ سنانے گئیں۔ ملاقات کے آدھے گھنٹے کے بعد وائن سٹین غسل خانے میں چلے گئے اور بعد میں ایک گاؤن پہن کر نکلے جو آگے سے کھلا تھا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ وائن سٹین نے اصرار کیا کہ وہ اپنے گرم ٹب میں ان کی کہانی سنیں گے، اس کے بعد انھوں نے کہا کہ وہ انھیں خود لذتی کرتا دیکھیں۔ جب لوئزے نے کہا کہ وہ جا رہی ہیں تو وائن سٹین نے ان کا بازو پکڑ لیا، انھیں غسل خانے میں کھینچا اور کہا کہ وہ اس وقت ہی ان کے سکرپٹ کو ہری بتی دکھائیں گے جب وہ انھیں دیکھیں گی۔

'میرے آنسو نکلنے والے تھے لیکن میں نے اپنے آپ کو مضبوط رکھا اور جلدی سے باہر نکل گئی‘۔

متعلقہ عنوانات