بکر پرائز 2017 امریکی مصنف جارج سانڈرز کے نام

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جارج سانڈرز کا تعلق امریکی ریاست ٹیکساس سے ہے۔ اس سے پہلے وہ مختصر کہانیوں کے مجموعے چھاپتے رہے ہیں

ناول نگاری کا معروف برطانوی ایوارڈ ’مین بکر پرائز‘ اس سال امریکی مصنف جارج سانڈرز کو ان کے پہلے مکمل ناول ’لنکن ان برڈو‘ کے لیے دیا گیا ہے۔

جارج سانڈرز دوسرے امریکی مصنف ہیں جنھیں 50 ہزار پاؤنڈ کا یہ انعام دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ ابتدا میں بکر پرائز صرف برطانوی مصنفوں کے لیے ہوتا تھا تاہم اب اس سے قومیت کی بندش ہٹا دیا گئی ہے۔

اس ناول میں امریکی صدر ابراہم لنکن کی اپنے چھوٹے بیٹے کی ہلاکت کے بعد غم سے نمبٹنے کی کہانی ہے۔

مین بکر انعام پال بیٹی کے ناول کے نام

اس ناول کے حوالے سے بکر پرائز کے ججز کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی نیا اور شدید بہترین کام تھا۔

سانڈرز ان چھ مصنفوں میں سے تھے جنھیں اس انعام کے لیے شارٹ لسٹ پر منتخب کیا گیا تھا۔ ان میں برطانوی مصنف علی سمتھ اور فیئونا موضلی، امریکی پال ایسٹر اور ایملی فردلنڈ اور پاکستانی نژاد برطانوی مصنف محسن حامد تھے۔

جارج سانڈرز کا تعلق امریکی ریاست ٹیکساس سے ہے۔ اس سے پہلے وہ مختصر کہانیوں کے مجموعے چھاپتے رہے ہیں جن کے لیے انھیں مختلف اعزاز دیے جا چکے ہیں۔ یہ ان کا پہلا مکمل ناول مگر نویں کتاب ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں