سپیسی پر الزام، نیٹ فلیکس نے ہاؤس آف کارڈز کو اپنی سٹریمنگ سروس سے ہٹا لیا

سپیسی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کیون سپیسی کے بارے میں ایک اداکار نے کہا ہے کہ 14 برس کی عمر میں سپیسی نے انھیں جنسی طور پر ہراساں کیا تھا

نیٹ فلیکس نے ہاؤس آف کارڈز کو اپنی سٹریمنگ سروس سے ہٹا لیا ہے جس کی وجہ ایک روز قبل اس کے مرکزی اداکار کیون سپیسی پر ایک نوعمر لڑکے کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام بنی ہے۔

میڈیا سٹریمنگ کمپنی نیٹ فلیکس کا کہنا ہے کہ اداکار ایتھنی راپ کی جانب سے لگایا جانے والا الزام 'بہت پریشان کن' تھا۔

جنسی ہراس کے الزامات پر آسکر اکیڈمی کا ہنگامی اجلاس

بزفیڈ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں راپ نے کہا کہ سنہ 1986 میں جب ان کی عمر 14 برس تھی تب سپیسی نے انھیں جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔

سپیسی کہتے ہیں کہ وہ یہ کہانی سن کر بہت خودفزدہ ہوئے ہیں تاہم انھیں ایسی کوئی ملاقات یاد نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اینتھنی پر معافی واجب الادا ہے اس سب کے لیے جو انھوں نے کہا۔ سپیسی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اینتھنی نے نشے کی حالت میں نامناسب رویہ اپنایا ہوگا۔

سپیسی نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ اب ایک ہم جنس پرست آدمی ہیں تاہم آسکر انعام یافتہ اداکار اس موقع پر یہ بیان دیے جانے پر شدید تنقید کی زد میں ہیں۔

ادھر ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان کا کہنا ہے کہ جنسی طور پر ہراسگی کے الزامات کو سپیسی کی جنسیت کے لیے معافی کی وجہ گردانا ہم جنس پرست کمیونٹی کے لیے نقصان دہ ہے۔

خیال رہے کہ ہاؤس آف کارڈز میں کیون سپیسی ایک ظالم امریکی سیاستدان فرینک انڈروڈ کا کردار ادا کر رہے ہیں اور اب اس معروف ڈرامے کی چھٹی سیریز فلمائی جا رہی ہے۔

نیٹ فلیکس کا کہنا ہے کہ یہ سیریز آخری ہو گی جبکہ بہت سی رپورٹس میں بھی یہ خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ ان الزامات سے پہلے ہی پروڈیوسرز اس سیریز کو ختم کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں