کیا حقیقی حسن اس طرح دکھائی دیتا ہے؟

MIHAELA NOROC تصویر کے کاپی رائٹ MIHAELA NOROC

فوٹوگرافر میخائلا نوروک کہتی ہیں کہ گوگل امیجز پر جائیں اور خوبصورت خواتین کے الفاظ لکھ کر سرچ کریں۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ جب انھوں نے یہ کیا تو ہزاروں تصاویر کی صورت میں نتائج ملے۔

انھوں نے کہا کہ آپ نے کیا دیکھا؟ ’ڈھیروں جنس زدہ تصاویر۔'

’مرد خواتین سے بہتر ہیں‘ کیا بچے یہی پڑھتے ہیں؟

کیا صوفیہ کو سعودی خواتین سے زیادہ حقوق حاصل ہیں؟

’ویل چیئر میری شخصیت کا تعین نہیں کرتی‘

یہاں سرفہرست تصاویر میں بہت ساری خواتین نے اونچی ایڑی کے جوتے اور باریک کپڑے پہن رکھے تھے اور زیادہ تر کی جسمانی ساخت ایک جیسی تھی جس میں نوجوان، دبلی پتلی، بلونڈ تھیں اور ان کی جلد بہت نازک تھی۔

میخائلا نوروک کہتی ہیں کہ خواتین کو ’اشیا کی طرح اور جنسی انداز میں پیش کرنا بدقسمتی ہے‘۔

خواتین ایسی نہیں ہیں، ہماری اپنی کہانیاں اور جدوجہد اور ہماری طاقت ہے لیکن صرف ہمیں اس کی نمائندگی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ نوجوان خواتین ہر روز اسی طرح کی تصاویر دیکھتی ہیں، تو انھیں مزید خود اعتمادی کی ضرورت ہے کہ ان کو ایسے دیکھا جائے جیسی وہ ہیں اور انھیں خوبصورت تصور کیا جائے۔

انھوں نے مزید کہا کہ'گوگل ہم ہیں کیونکہ ہم سب ان تصاویر پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔'

میخائلا نوروک نے حال ہی میں ایٹلس آف بیوٹی کے نام سے پہلی فوٹوگرافی کی کتاب جاری کی ہے جس میں ان کی 500 سو تصاویر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ MIHAELA NOROC

لیکن رومانیہ کی اِس فوٹوگرافر کی خوبصورتی کی تعریف بظاہر یہ نظر آتی ہے کہ خوبصورتی کی کوئی تعریف نہیں، کتاب میں شامل کی گئی خواتین کی عمریں، شعبے اور پس منظر مختلف ہیں۔

فوٹوگرافر نے وضاحت کی کہ لوگ میری تصاویر میں دلچسپی لیتے ہیں کیونکہ یہ ہمارے اردگرد کے لوگوں کی عکاسی کرتی ہیں جیسا کہ ہر روز اپنی گلی میں دکھائی دینے والے لوگ۔

’عام طور پر جب ہم خوبصورتی اور خواتین کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہم بہت اونچے اور ناقابل حصول میعار طے کر لیتے ہیں۔

’میری تصاویر بہت سادہ اور قدرتی ہیں اور یہ بڑی حد تک حیران کن کر دینے والی ہیں کیونکہ عام طور پر ہم ایسے دکھائی نہیں دیتے۔‘

اس بارے میں مزید پڑھیے

’انسیا‘ مسلم معاشرے کی گھٹن کی عکاس

Metoo# مونیکا لیونسکی نے کس تجربے کی بات کی

’جنسی ہراس کے معاملے سے منہ موڑ کر اسے بڑھاوا دیا‘

’کسی کو آپ کے ریپ سے کیا ملے گا؟‘

تصویری کتاب میں موجود تمام 500 تصاویر کے نیچے معلومات درج ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ یہ تصویر کہاں کھینچی گئی اور بعض معاملات میں اس میں نظر آنی والی شخصیت کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے۔

یہ تصاویر نیپال، ایتھیوپیا، اٹلی، جنوبی کوریا، جرمنی، میکسیکو، انڈیا، افغانستان، برطانیہ، امریکہ اور ایمزون کے جنگلات میں کھینچی گئی ہیں۔

تاہم بعض مقامات پر دوسروں کے برعکس زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

’میں نے خواتین سے گلی میں تصویر لینے کے بارے میں بات کی اور انھیں اپنے منصوبے کے بارے میں بتایا۔ بعض اوقات ان کی جانب سے ہاں میں جواب ملتا تو بعض اوقات جواب نہ میں ہوتا تھا اور اس کا انحصار ان کے ملک پر ہوتا تھا۔‘

جب آپ زیادہ قدامت پسند سماج میں جائیں تو اس صورت میں ایک خاتون کو معاشرے کی جانب سے یقیناً دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں اس کی روز مرہ زندگی پر کوئی دوسرا گہری نظر رکھتا ہے۔

تو وہ اپنی تصویر کو با آسانی قبول نہیں کرے گی، ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے خاندان کے مردوں سے اجازت حاصل کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MIHAELA NOROC

دنیا کے دیگر حصوں میں میخائلا بہت زیادہ احتیاط کرتی ہیں کیونکہ کولمبیا جیسے ملک میں اپنی سلامتی کے بارے میں تحفظات ہو سکتے ہیں جس میں اگر وہ ہاں کہتی ہیں تو اس کے بعد وہ ممکنہ طور پر اغوا ہو سکتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ' اگر کوئی مردوں پر اس نوعیت کا منصوبہ شروع کرے تو یہ بہت آسان ہو گا کیونکہ انھیں اپنی بیویوں، بہنوں اور ماؤں سے اجازت درکار نہیں ہو گی۔'

میخائلا نوروک کبھی کبھار فوٹو شاپ کر کے اپ لوڈ کرتی ہیں لیکن اس کی وہ وجوہات نہیں جو آپ سوچ رہے ہیں۔

جب آپ تصویر کھینچتے ہیں تو عام طور پر یہ خام شکل میں ہوتی ہے اور اس کا مطلب ہے کہ یہ پینٹنگ کی طرح ہوتی ہے اور اس میں وہ رنگ دکھائی نہیں دیتے جو حقیقت میں موجود ہوتے ہیں۔

’میں اس کو اصل شکل میں لانے کے لیے اسے رنگدار اور جاذب نظر بناتی ہوں، لیکن میں کسی کو دبلی پتلی یا اس طرح کی نہیں بناتی کیونکہ یہ بہت تکلیف دہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ MIHAELA NOROC

’لیکن چونکہ میں نے خاتون ہوتے ہوئے خود بھی مختلف مشکلات اور مسائل کا سامنا کیا ہے، میں بعض معاملات میں دبلی پتلی ہونا چاہتی تھی اور یہ ان جعلی تصویر سے بھی منسلک تھا جس کو میں روز مرہ کی زندگی میں دیکھتی تھی۔

’یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ 2015 کی بک آف سیلفی شائع کرنے والی کمِ کاریڈیشیئن سے میخائلا نوروک کی فوٹوگرافی کی کتاب قدرے مختلف ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MIHAELA NOROC

’ان دنوں بلاگروں، دنیا کی مشہور شخصیات نے جعلی اور لاحاصل خوبصورتی کا جو معیار طے کیا ہے، ایک خاتون ہونے کے ناطے ہمارے لیے بہت مشکل ہے کہ ہم اس سے قربت حاصل کر سکیں۔ کمِ کاریڈیشیئن کے انسٹا گرام پر دس کروڑ فالورز ہیں اور میرے دو لاکھ ہیں، تو فرق کا تصور کریں، یہ حیرت انگیز ہے لیکن میرے خیال میں آہستہ آہستہ خالص حسن کا پیغام دنیا بھر میں پھیل جائے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ MIHAELA NOROC

میخائلا نوروک کی جانب سے فوٹو گرافی کے لیے کسی کو ایک اچھا مشورہ کیا ہو سکتا ہے۔ کیا اچھے معیار کا کیمرا خریدیں اور لینز اور اینگلز کے بارے میں سیکھیں؟

میحائلا نوروک نے مسکراتے ہوئے کہا کہ نہیں ایسا نہیں،'آپ اچھے جوتے خریدیں کونکہ آپ نے پیدل چلنا اور بہت کھوج کرنی ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں