انڈیا ہالی وُڈ پر کیسے اثر انداز ہو رہا ہے؟

  • لایا مہیشوری
  • بی بی سی کلچر
پرینکا چوپڑا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈین اداکارہ پرینکا چوپڑا نے امریکی سکرین پر نمودار ہو کر بڑی دھوم مچائی ہے لیکن ہالی وُڈ پر انڈین اثرات محض یہیں تک محدود نہیں بلکہ ہندوستانی سرمایہ کار اب ہالی وُڈ کے کاروبار میں پیسہ بھی لگا رہے ہیں۔

انڈیا میں فلم کو ریلیز ہونے سے پہلے بہت پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ سینسر کی تلوار تو ہمہ وقت سر پہ لٹکتی رہتی ہے۔ کبھی کوئی منظر عریانی کے باعث قینچی کی زد میں آجاتا ہے اور کبھی کسی معاشرتی گروہ کے افراد احتجاج کرتے ہیں کہ فلم میں اُن کے طبقے کی درست نمائندگی نہیں کی گئی اور کبھی کوئی سیاسی دھڑا پروڈیوسر کو مجبور کرتا ہے کہ آمدنی کا ایک حصّہ سزا کے طور پر بھارتی فوج کو دان کر دیا جائے کیونکہ فلم میں ایک پاکستانی اداکار کو کاسٹ کرنے کی جرآت کی گئی تھی۔

لیکن فلم 'چوری چوری چپکے چپکےٰ' پر جو اعتراض کیا گیا وہ بالکل مختلف نوعیت کا تھا - یعنی یہ کہ اس فلم کی مالی معاونت ممبئی کے بدنامِ زمانہ مافیا نے کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAlamy

،تصویر کا کیپشن

چوری چوری چپکے چپکے میں اداکارہ پریٹی زنٹا نے اہم کردار ادا کیا تھا

اس فلم میں سلمان خان، رانی مکھر جی اور پریٹی زنٹا جیسے سٹار کام کر رہے تھے، لیکن ریلیز سے پہلے ہی انڈیا کے مرکزی ادارۂ تحقیقات یعنی سی بی آئی نے فلم کے سارے پرنٹ ضبط کر لیے۔

یہ بھی پڑھیں

کالے دھن کو فلم سازی میں استعمال کرنے کا معاملہ اب کوئی راز نہیں رہا۔ برسوں تک یہ سلسلہ اِس طرح کامیابی سے چلتا رہا کہ ٹیکس کے نظام سے ماورا رہ کر جو ناجائز پیسہ جمع کیا جاتا تھا، اُسے فلموں کی سرمایا کاری میں لگا دیا جاتا۔

لیکن مافیا کی کارروائی محض یہیں تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ معروف اداکاروں کو اپنی فلموں میں کام کرنے پر مجبور کرتے اور مقابلے میں آنے والی فلموں کی شوٹنگ اِلتوامیں ڈالنے کے غلیظ حربے بھی استعمال کرتے۔

،تصویر کا ذریعہDANGAL

،تصویر کا کیپشن

فلم دنگل سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم ثابت ہوئی

اِس مافیا نے کئی اداکاروں پر حملے بھی کروائے اور کچھ اداکار بدمعاشی کی اِن وارداتوں سے تنگ آکر ملک ہی چھوڑ گئے۔

اس انارکی کا ایک سبب یہ تھا کہ انڈیا کے فلمی کاروبار کو کبھی قانونی طور پر ایک 'صنعت' کا درجہ نہیں دیا گیا تھا۔ چنانچہ سرمایا کاری کا جائز کام کرنے والے ادارے یعنی بینک اور فنانس کمپنیاں فلم سازی کے لیے قرضے مہیا نہیں کرتی تھیں۔

اس خلا کو پورا کرنے کےلیے مافیا میدان میں آگیا اور اِس بری طرح سے فلم انڈسٹری پر چھا گیا کہ بالی وُڈ کا ساٹھ فیصد کاروبار مافیا نے ہتھیا لیا۔ تا ہم سنہ 2001 میں جب فلم انڈسٹری کو بالآخر ایک صنعت کا درجہ مِل گیا تو یہ گمبھیر صورتِ حال بدلنی شروع ہوئی اور بینکوں نے فلم سازی کے لیے قرضے مہیا کرنے شروع کر دیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

عرفان خان ہالی وڈ کی کئی فلموں میں نظر آئے ہیں

ہالی وُڈ جو بِلا شبہہ دنیا کی امیر ترین فلمی صنعت ہے، ہمیشہ انڈیا کی فلمی صنعت کو رشک کی نگاہوں سے دیکھتی رہی ہے۔ کیونکہ وہاں ہالی وُڈ سے زیادہ فلمیں بنتی ہیں، تماشائیوں کی مجموعی تعداد بھی زیادہ ہے چنانچہ ٹِکٹوں کی فروخت بھی ہالی وُڈ سے زیادہ ہے۔

اسی لیے دس برس پہلے ہالی وُڈ کے بڑے بڑے اداروں یعنی ڈزنی، فوکس، وایاکام اور سونی پکچرز نے انڈیا میں اپنی شاخیں کھول لیں۔ بڑے بجٹ کی فلمیں تو پہلے بھی بن رہی تھیں، لیکن اب فلموں کی تشہیر اور پروموشن پر بھی بے تحاشا پیسہ خرچ ہونے لگا۔

ایک مثبت اثر یہ بھی ہوا کہ پہلے جن مغربی فلموں کے چربے چوری چھپے بنالیے جاتے تھے اب باقاعدہ اجازت لیکر اُن کے بھارتی روپ فلمائے جانے لگے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

شاہ رخ خان اور دیپکا پاڈوکون کی فلم 'اوم شانتی اوم' دیوالی کی مناسبت سے ایک دھڑکتی پھڑکتی فلم تھی

سنہ 2007 میں سونی پکچرز نے اپنی پہلی انڈین فلم 'سانوریا' پیش کی جو دوستو فسکی کے ناول ٰ'وائٹ نائٹس' سے ماخوذ تھی۔ اگرچہ اس کے ہدایتکار انڈیا کے معروف ڈائریکٹر سنجے لیلا بھنسالی تھے لیکن بد قسمتی سے یہ فلم دیوالی کے موقعے پر ریلیز کی گئی جب مارکیٹ میں مقابلہ بہت سخت ہوتا ہے۔

سانوریا جیسی سنجیدہ ڈرامائی فلم کو بھی شاہ رخ خان کی 'اوم شانتی اوم' سے واسطہ پڑا جو کہ دیوالی کی مناسبت سے ایک دھڑکتی پھڑکتی فلم تھی اور سانوریا کی سنجیدگی اس کے سامنے ایک پل بھی نہیں ٹھہر سکی۔

سانوریا کی ناکامی کے ساتھ ہی سونی پکچرز نے انڈیا میں اپنی بساط لپیٹ لی۔ سنہ 2008 میں ڈِزنی نے مقامی کمپنی یش راج پکچرز کے ساتھ مل کر فلم ٰ'روڈ سائیڈ رومیو' بنائی لیکن یہ کارٹون کامیڈی بہت بری طرح ناکام رہی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

سنہ 2007 میں سونی پکچرز نے اپنی پہلی انڈین فلم 'سانوریا' پیش کی جو دوستو فسکی کے ناول ٰ'وائٹ نائٹس' سے ماخوذ تھی

اگلے برس یعنی سنہ 2009 میں وارنر برادر کی پہلی انڈین پیشکش ٰ'چاندنی چوک ٹو چائنہ' کا بھی یہی حشر ہوا۔ آخر غیر ملکی فلم ساز کمپنیاں انڈیا میں ناکام کیوں ہوئیں۔

اس ناکامی کی بہت سی وجوہات تھیں۔ سب سے پہلے تو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیےکہ فلم سازی ایک آرٹ ہے سائنس نہیں۔

پھر انڈیا کی فلم انڈسٹری ہمیشہ نچلے درمیانے طبقے کے مزاج اور موڈ کی مرہونِ منت رہی ہے۔ جو چیز اس طبقے کو راس نہ آئے وہ کامیاب نہیں ہو سکتی۔

غیر ملکی ادارے کاروبار کا ایک لگا بندھا معیار اور طریق کار لے کر آئے تھے لیکن اُن کا یہ کاروباری ماڈل انڈیا کے مخصوص حالات میں کام نہ کر سکا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

دیپکا پاڈوکون نے کئی ہالی وڈ فلموں میں اداکاری کی ہے

مثلاً فلم کی پروموشن پر خرچ ہونے والا زرِ کثیر ایک ایسے ملک میں بالکل بے جواز تھا جہاں کے ملٹی پلیکس سنیما میں بھی ٹکٹ کی اوسط قیمت صرف تین ڈالر ہو۔

غیر ملکی کمپنیوں کی عمومی ناکامی کے باوجود چند انفرادی واقعات قابلِ توجہ ہیں۔ مثلاً ڈزنی نے انڈیا میں اپنی پے در پے ناکامیوں کے بعد پچھلے سال فلم 'دنگل' پیش کی جو انڈیا کی فلمی تاریخ میں اب تک کی سب سے زیادہ پیسہ کمانے والی فلم ثابت ہوئی اور اِس نے عالمی سطح پر تین سو ملین ڈالر کا بزنس کیا۔

جتنے پیسے 'دنگل' نے انڈیا میں کمائے، اُس سے دُگنے پیسے چین سے کمائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

سانوریا فلم میں سونم کپور اہم کردار ادا کر رہی تھیں

بہر حال امریکی فلم کمپنیاں فی الحال تو انڈیا میں اپنا کاروبار سمیٹ چکی ہیں صرف فوکس ابھی باقی ہے، اور وہ بھی دھرما پروڈکشن کے ساتھ مِل کر کام کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

دوسری طرف خود انڈین سرمایہ کار ہالی وُڈ اور برطانیہ میں سرمایا کاری کر رہے ہیں جسکی نمایاں ترین مثال ریلائنس گروپ ہے جو کہ سٹیون سپیل برگ کی کمپنی میں 20 فیصد کا حصے دار ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ہندوستانی اداکارہ پرینکا چوپڑا کو یہاں ہالی وڈ اداکارہ اولیویا وائلڈ کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے

دیکھا جائے تو بین الاقوامی سرمایہ کاری میں اس وقت چین چھایا ہوا ہے۔ وہ ایک طرف امریکی کمپنیوں کے ساتھ مِل کر وہاں کی فلم انڈسٹری میں سرمایہ کاری کر رہا ہے تو دوسری جانب انڈیا کی فلم انڈسٹری میں بھی پاؤں جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

اب تک صرف سرمائے کی بات ہو رہی تھی لیکن سرمائے کے ساتھ ساتھ اب انڈیا کے آرٹسٹ بھی امریکہ میں اپنے فن کا لوہا منوا رہے ہیں۔ دیپکا پاڈوکون اور عرفان خان کئی فلموں میں نمودار ہوچکے ہیں اور علی فضل نے ملکہ وکٹوریا کے محبوب اتالیق عبدل کا کردار ادا کر کے ساری دنیا کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

فلم وکٹوریہ اینڈ عبدل میں علی فضل اداکارہ جوڈی ڈینچ کے ساتھ نظر آ رہے ہیں

شہرت کی چکا چوند کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پرینکا چوپڑا یقیناً پہلے نمبر پر ہے۔ جس نے نہ صرف 'بے واچ' میں اپنے حسن کے جلوے بکھیرے بلکہ امریکی چینل اے بی سی پر اپنا ذاتی شو بھی شروع کیا جو کہ اب تیسرے سیزن میں پہنچ چکا ہے۔

پرینکا آج کل اے بی سی کے لیے ایک سلسلے وار کامیڈی ڈرامہ بھی تیار کر رہی ہے جو کہ مادھوری دیکشت کی زندگی کے واقعات پر مبنی ہے۔

ایک زمانہ تھا کہ مغرب میں انڈین فنکاروں کا ذکر صرف 'بنڈ اٹ لائک بیکھم' جیسی ایک آدھ فلم تک محدود تھا، لیکن اب یہ سلسلہ اتنا پھیل گیا ہے کہ اس کے مکمل تذکرے کے لیے کئی کتابیں درکار ہوں گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

سٹیون سپیل برگ ہالی وڈ کے معروف ہدایت کار ہیں

۔