بالی وڈ مغرب کو کس رنگ میں دیکھتا ہے؟

دل والے دلھنیا لے جائیں گے تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بالی وڈ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہاں کی فلموں میں انڈیا کی ایک گھسی پِٹی تصویر پیش کی جاتی ہے لیکن دیکھا جائے تو خود انڈین فلموں میں بھی مغرب کا ایک لگا بندھا تصّور پیش کیا جاتا ہے اور وہاں جا کر آباد ہو جانے والے ہندوستانیوں کو بھی ایک خاص نظر سے دکھایا جاتا ہے۔

سن 2015 میں جب صدر اوباما کو انڈیا کی یومِ جمہوریہ کی پریڈ میں مہمانِ خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا تو اُن کے لیے ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ تقریب سے خطاب کے دوران کس مقبولِ عام فلم کا کونسا چلتا ہوا مکالمہ استعمال کریں کیونکہ کچھ عرصہ قبل بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے نیویارک کے ایک عوامی پارک میں تقریر کرتے ہوئے’سٹار وارز‘ کا یہ مشہور جملہ بولا تھا۔ ’مے دا فورس بی ود یو‘۔

پرینکا چوپڑا کا اسرائیلی اداکارہ سے سخت مقابلہ

دیپکا پر مغربی اور انڈین میڈیا میں ٹھن گئی

کیا ہالی وڈ جانا بیوقوفی ہے؟

ہالی وڈ میں ہٹ، بالی وڈ میں فلاپ

صدر اوباما کو اس کے مقابلے میں بولنے کے لیے آخر کار ایک مقبولِ عام انڈین فلمی جملہ ہاتھ آ گیا: ’دِل والے دلھنیا لے جائیں گے‘

اس فلم کے ابتدائی مناظر میں امریش پوری لندن کے ٹریفالگر سکوئر میں کبوتروں کا دانہ ڈال رہے ہیں اور ان کے ذہن میں وطنِ مالوف کے سر سبز کھیت لہلہا رہے ہیں۔ جہاں وہ اسی طرح کبوتروں کو دانہ ڈالا کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Yash Raj Films

شاہ رخ خان اور کاجل کی 1994 میں ریلیز ہونے والی یہ فلم بیرونِ ملک آباد انڈین کے لیے ایک ایسا سدا بہار تحفہ ہے جس کی مقبولیت میں آج تک کم نہیں ہوئی۔

خود ہندوستان میں رہنے والے لوگوں کی اکثریت اپنے اُن ساتھیوں کو ہمیشہ شک و شبہے اور رشک و حسد کی نگاہ سے دیکھتی ہے جو ہندوستان چھوڑ کر برطانیہ، امریکہ، کینیڈا ملائیشیا یا جنوبی افریقہ میں آباد ہو گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Yash Raj Films

بالی وڈ کی اکثر فلموں میں باہر جا کر بسنے والوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور انھیں ایسے منفی کرداروں کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے جو عیش و عشرت کی خاطر مغرب کے آزاد ماحول میں جا بسے ہیں۔

’دِل والے دلھنیا لے جائیں گے‘ میں غالباً پہلی بار بیرونِ ملک آباد انڈین کو مثبت انداز میں پیش کیا گیا۔ جس کی وجہ سے بریڈ فورڈ، برمنگھم، ٹاٹنگھم، لیڈز، لسٹر، گلاسکو اور ایڈنبرا وغیرہ میں آباد ہندی الاصل باشندوں کے سینے بھی فخر سے پھول گئے اور ہندوستان میں بھی ان لوگوں کی واہ واہ ہونے لگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Mukta Arts

’دِل والے دلھنیا لے جائیں گے‘ نے یہ واضح کیا کہ ’ہندوستانیت‘ کا تعلق محض کسی جغرافیائی خطے سے نہیں بلکہ یہ روایت و اقدار کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو ہماری روحوں میں بسا ہوا ہے۔ اور انڈین لوگ دنیا کے کسی خطے میں بھی آباد ہوں، یہ سوچ اور رویہ اُن کے ساتھ رہتا ہے۔ ’دِل والے دلھنیا‘ کا ہیرو اور اس کی ہیروئن انھی تہذیبی اقدار کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں اور وہ اخلاقی پاکیزگی اور والدین کے احترام کو ہمیشہ ملحوظِ خاطر رکھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PARAMOUNT

اس فلم نے کامیابی کی نئے ریکارڈ قائم کئے اور ممبئی کے مراٹھا مندر سنیما میں یہ پچھلے 20 سال سے مسلسل چل رہی ہے۔

لیکن اس طویل عرصے میں اس کے نقالوں کی ایک پوری فوج میدان میں آگئی ہے۔ سنہ 2001 میں برطانوی اور انڈین ناظرین کے لیے ’کبھی خوشی کبھی غم‘ کا تحفہ پیش کیا گیا لیکن امریکہ میں آباد انڈین کی تفریح طبع کے لیے اس سے پہلے ہی فلم ’پردیس‘ منظرِ عام پر آچکی تھی جس میں وِلن تمام تر امریکی برائیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے شراب نوشی، عیاشی، خود غرضی اور بے وفائی کا مظاہرہ کرتا ہے جبکہ ہیرو (شاہ رخ خان) ہندوستانی روایات کا پاس دار ہے اور امریکہ میں آباد ہندوستانی بزرگ ( امریش پوری) تو براہِ راست یہ گانا بھی گاتا ہے۔ ’آئی لو مائے انڈیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ PATHE

آٹھ فلم فیئر ایوارڈ جیتنے والی نِکھل ایڈوانی کی فلم ’کل ہو نہ ہو‘ میں بھی مرکزی منظر امریکہ ہی ہے لیکن آدتیہ چوپڑا نے دل والے دلھنیا کے 20 برس بعد ’بے فکرے‘ کے نام سے جو فلم بنائی اس میں انگلینڈ یا امریکہ کی جگہ پیرس کی لوکیشن کو اپنایا لیکن اس فلم میں بھی فرانس کے ساتھ کہانی میں وہی سلوک روا رکھا گیا جو دیگر فلموں میں امریکہ یا برطانیہ کے لیے تھا، یعنی انڈیا کا باشندہ دنیا میں کہیں بھی ہو اس کا ’دل ہے ہندوستانی‘

اس طرح کی فلموں میں ہندوستانی کلچر کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مغرب میں نہ تو شادی بیاہ کی رسومات میں کوئی دلکشی ہے نہ وہاں کے کھانے مزے دار ہیں۔

ان فلموں میں اگر کوئی سیاہ فام کردار شامل کر لیا جائے تو عموماً وہ انتہائی منفی نوعیت کا ہوتا ہے، جیسے 2014 میں ریلیز ہونے والی فلم ’فیشن‘ میں پریانکا چوپڑا کو نشے میں دھت ہو کر ایک سیاہ فام آدمی کی ہوس کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Yash Raj Films

آخر میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ’دِل والے دلھنیا‘ جیسی فلمیں آج سے بیس پچیس برس کی اُس ذہنیت کی نمائندگی کرتی ہیں جو ترکِ وطن کرنے والی پہلی نسل کا خاصا تھی۔

جو بچے پچھلے پچیس برس میں بیرونِ ملک پیدا ہو کر وہیں جوان ہوئے ہیں، انھیں ایسی فلموں پر ہنسی آتی ہے جن کے ہیرو لندن پیرس یا نیویارک میں رہتے ہوئے بھی ہندی بولتے ہیں اور اگر ایک آدھ جملہ انگریزی میں بولیں تو اُن کا لہجہ اور تلفظ بالکل انڈین ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ دا بگ سک، دا نیم سیک اور میٹ دا پٹیلز جیسی فلمیں، بیرونِ ملک پیدا ہونے والے نوجوانوں میں بے حد مقبول ہوئی ہیں ان فلموں میں نہ تو چھوڑے ہوئے وطن کے گُن گائے گئے ہیں اور نہ ہندوستانیت کے حق میں لمبی اور جذباتی تقریریں کی گئی ہیں بلکہ تارکینِ وطن کی نئی نسل کے اصل مسائل کو سامنے لایا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں