امریکہ میں جنوبی ایشیائی نژاد کامیڈینز کی مقبولیت

حسن منہاج تصویر کے کاپی رائٹ JUAN GASTELUM
Image caption انڈین نژاد کامیڈین حسن منہاج نے وائٹ ہاؤس میں اپنی کامیڈی کے جوہر دکھا کر راتوں رات شہرت حاصل کر لی

پاکستان اور انڈیا سے تعلق رکھنے والے امریکی کامیڈین مقبولیت کی نئی حدوں کو چھو رہے ہیں اور معاشرے کے تمام طبقوں میں پذیرائی حاصل کر رہے ہیں۔

امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس میں ہر برس نامہ نگاروں کے لیے ایک شاندار ڈنر کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ پچھلے برس اس اہم تقریب کی میزبانی کا فریضہ امریکہ کے مشہور اداکار، صحافی، مصنف، پروڈیوسر اور کامیڈین لیری وِل مور کو سونپا گیا جنھوں نے چار ماہ تک اس تقریب کے لیے تیاری کی کیونکہ بطور صدر، یہ براک اوباما کا آخری ڈنر تھا۔

اس زبردست تقریب کے ایک برس بعد جب صدر ٹرمپ کے دورِ حکومت کا پہلا ڈنر منعقد ہوا تو کوئی فنکار اس تقریب کے پاس بھی نہیں بھٹکنا چاہتا تھا۔

آخر کار بڑی تگ و دو کے بعد ایک نسبتاً غیر معروف ایشیائی نژاد کامیڈین حسن منہاج کے نام سامنے آیا جنھوں نے صرف 19 دن کے قلیل عرصے میں تقریب کے لیے تیاری کر لی اور حاضرین سے مخاطب ہو کر کہا کہ یہ اعزاز امریکہ کو ہی حاصل ہے کہ انڈیا سے آکر امریکہ میں آباد ہونے والا ایک شہری، وائٹ ہاؤس میں کھڑا ہو کر امریکی صدر کا مذاق اڑا سکتا ہے۔

اس تقریب نے حسن منہاج کو راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا اور ان کی وائٹ ہاؤس والی تقریب کو اب تک دنیا بھر میں 60 لاکھ سے زیادہ افراد یو ٹیوب پر دیکھ چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

بالی وڈ مغرب کو کس رنگ میں دیکھتا ہے؟

انڈیا ہالی وُڈ پر کیسے اثر انداز ہو رہا ہے؟

ٹرمپ کا استقبال بالی وڈ نغموں سے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عزیز انصاری نے اپنے ٹی وی شو 'ماسٹر آف نن' میں اپنے حقیقی والد سے اپنے باپ کا کردار کروایا

امریکی میڈیا پر عرصہ دراز تک سفید فام امریکی مردوں کا قبضہ رہا ہے اور کامیڈی کے میدان میں بھی وہی لوگ پیش پیش رہے ہیں۔ لیکن اب پاکستان اور انڈیا سے آبائی تعلق رکھنے والے امریکی شہری بڑی تعداد میں سامنے آ رہے ہیں۔

ان لوگوں نے کامیڈی کے میدان میں نئے جھنڈے گاڑے ہیں اور امریکی معاشرے کے تمام طبقوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔ اِن نئے فنکاروں میں غالباً معروف ترین نام عزیز انصاری کا ہے جنھوں نے ملک بھر میں شو منعقد کر کے اپنی سٹینڈ-اپ کامیڈی کا لوہا منوایا ہے اور ٹیلی ویژن کے مختلف پروگراموں میں پیش ہو کر لاکھوں گھروں تک رسائی حاصل کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

امریکە میں اسلام بذریعہ ٹرمپ

’بالی وڈ کے فنکار بے خوف نہیں ہیں‘

ہالی وڈ میں ہٹ، بالی وڈ میں فلاپ

ایک سروے کے مطابق جس امریکی فلم پر اس برس سب سے اچھے تبصرے ہوئے وہ ایک پاکستانی نژاد کامیڈین کمیل ننجیانی اور ان کی امریکی بیوی ایملی گورڈن کے لکھے ہوئے سکرپٹ پر مبنی فلم 'بِگ سِک' تھی۔ کمیل نے اس فلم میں مرکزی کردار بھی ادا کیا ہے۔ یہ فلم 50 لاکھ ڈالر کے معمولی بجٹ میں تیار ہوئی لیکن باکس آفس پر اس نے پانچ کروڑ امریکی ڈالر سے زیادہ کمائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حسن منہاج ایک ٹاک شو میں اپنے ہنر کا جادو جگاتے دیکھے جا سکتے ہیں

عزیز انصاری نے اپنے ٹی وی شو 'ماسٹر آف نن' یعنی ’کسی ہنر میں ماہر نہیں‘ میں اپنے حقیقی والد سے اپنے باپ کا کردار کروایا اور کمیل ننجیانی نے اپنی حقیقی زندگی کے واقعات کو اپنی فلم 'بِگ سِک' میں فلمایا۔

اور اس فلم کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ پاکستانی پس منظر رکھنے والے کردار انگلش بولتے ہوئے اچانک اردو میں گفتگو شروع کر دیتے ہیں اور کافی دیر تک اردو بولتے رہتے ہیں۔ ظاہر ہے ایسے تمام مناظر کی 'سب ٹائٹلنگ' کی گئی ہے۔

یہ پیش رفت اس لحاظ سے اہم ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے لوگ، جو امریکی فلموں میں محض چھوٹے کرداروں میں دکھائی دیتے تھے، اب مرکزی حیثیت اختیار کر گئے ہیں اور امریکی عوام مختلف رنگ و نسل کے لوگوں کی کہانیاں بڑے شوق سے دیکھ رہے ہیں۔

حسن منہاج جب اپنے ٹی وی شو میں بتاتے ہیں کہ کس طرح ان کی سفید فام محبوبہ کے والد نے انھیں مسترد کیا اور بیٹی کو ان کے ساتھ تصویر لینے سے بھی منع کر دیا ۔۔۔ تو یہ بیان کرتے ہوئے ان کا لہجہ غمگین اور آنکھیں نمناک ہو جاتی ہیں اور کیمرے میں دیکھتی ڈبڈبائی آنکھوں کا کلوز اپ ناظرین کو بھی مسحور کر دیتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کمیل ننجیانی نے 21ویں ہالی وڈ فلم ایوارڈز میں اپنا شو 'بگ سک' پیش کیا تھا

امریکہ اور کینیڈا میں آباد انڈین اور پاکستانی فنکاروں کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا کے وہ آرٹسٹ بھی مقبول ہو رہے ہیں جو عارضی طور پر شو کرنے کے لیے مغربی ملکوں میں آتے ہیں۔

ممبئی کی خاتون کامیڈین آدِتی مِتّل گذشتہ موسمِ گرما میں مغربی ممالک کے دورے پر نکلیں اور جہاں بھی گئیں ناظرین کو ششدر کر دیا۔ سکاٹ لینڈ کے 'ایڈنبرا فیسٹیول' میں تو انھوں نے واقعی میلہ لوٹ لیا۔

آدتی مِتّل کا کہنا ہے کہ کسی زمانے میں انڈیا اور پاکستان کے فنکار مغربی ملکوں میں جا کر صرف اپنے ہم وطنوں کی تفریح کا سامان مہیا کرتے تھے، لیکن آج کل صورتِ حال بدل چکی ہے۔ اور واقعی اگر آپ آدتی مِتّل کے کسی شو میں جا کر دیکھیں تو ہال سفید فام ناظرین سے بھرا ہوگا اور ایشائی باشندے خال خال ہی نظر آئیں گے۔

Image caption کامیڈین آدِتی مِتّل کا تعلق ممبئی سے ہے

حسن منہاج، آدتی مِتل اور کمیل جیسے فنکاروں کے منظرِعام پر آنے سے ایک فرق یہ پڑا ہے کہ بہت سے ایسے مسائل جنھیں مقامی سفید فام آرٹسٹ مؤثر طریقے سے متعارف نہیں کروا سکتے تھے، وہ بھی اب زیرِ بحث آگئے ہیں۔ مثلاً سنہ 2015 میں جب امریکی سپریم کورٹ نے ہم جنس شادیوں کو جائز قرار دیا تو امریکہ میں آباد آدھے سے زیادہ مسلمانوں نے اس کی مخالفت کی۔

اس موقعے پر کامیڈین حسن منہاج نے ایک خط تحریر کیا جس میں کہا کہ ہم جنس پرستوں کے خلاف تعصب رکھنا ایک تکلیف دہ عمل ہے اور مسلمانوں کو سوچنا چاہیے کہ امریکہ میں خود اُن کے ساتھ تعصب برتا جاتا ہے تو وہ کیا محسوس کرتے ہیں۔

پاکستان اور انڈیا سے آبائی تعلق رکھنے والے دیگر امریکی فن کار بھی اس بات سے متفق ہیں کہ مختلف النسل فنکار جب ایک ساتھ کام کرتے ہیں تو اس سے معاشرے میں بھائی چارے اور باہمی برداشت کے جذبات فروغ پاتے ہیں۔

اسی بارے میں