نکاح پہ نکاح ثابت ہوا تو ذمہ دار خود میرا ہوں گی: فیملی کورٹ

میرا
Image caption میرا نے تکذیبِ نکاح کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کی فیملی کورٹ نے اداکارہ میرا کو دوسری شادی سے روکنے کے لیے دائر متفرق درخواست مسترد کر دی ہے۔

میرا کے تکذیبِ نکاح کے مقدمے میں متفرق درخواستوں کی سماعت بدھ کو لاہور کی فیملی کورٹ کے جج بابر ندیم نے کی۔

مرکزی مقدمے کے فریقین کی جانب سے دائر کردہ متفرق درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ پہلے نکاح نامے کا تعین ہونا باقی ہے اور میرا اگر پھر نکاح کرتی ہیں تو اس کی ذمہ دار وہ خود ہوں گی۔

سیکس ویڈیو سکینڈل سے صدمہ پہنچا ہے: اداکارہ میرا

'ہوٹل' میرا کی آخری فلم؟

اداکارہ میرا نے عدالت میں تین درخواستیں دائر کی تھیں۔

انھوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ وہ معروف شخصیت ہیں اور عدالت میں آتے ہوئے ان کی جان کو خطرہ ہے اس لیے انھیں عدالت میں حاضر ہونے سے استثنی دیا جائے اور ان کی شہادت بذریعہ وڈیو لنک ان کے گھر سے ہی قلم بند کی جائے۔

عدالت نے درخواست یہ کہہ کر خارج کر دی کہ 12 فروری 2011 کو میرا کی شہادت اور جرح مکمل ہو چکی ہے اس لیے اس درخواست کا جواز نہیں بنتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مقدمے کے دوسرے فریق عتیق الرحمن نے اپنی درخواست میں استدعا کی ہے کہ اس مقدمے کے فیصلے تک میرا کو دوسرا نکاح کرنے سے روکا جائے۔

اس پر عدالت نے کہا کہ مرکزی کیس میں ابھی جرح باقی ہے اور اب تک صرف میرا کی جرح مکمل ہوئی ہے۔

عدالت نے کہا کہ 25 اکتوبر 2017 کو میرا نے عدالت میں یہ بیان دیا ہے کہ عتیق الرحمان نے ان کو نکاح سے روکنے کی درخواست صرف پریشان کرنے کے لیے دائر کی ہے۔

فیملی کورٹ ایکٹ 1964 کے تحت اس حوالے سے عدالت کوئی حکم امتناعی جاری کرنے کا اختیار نہیں رکھتی اور موجودہ دعوے میں نکاح ثابت کرنے کا بارِ ثبوت عتیق الرحمن پر ہے۔

فیملی کورٹ کا کہنا تھا تھا کہ اگر دوران دعویٰ میرا کسی اور شخص سے نکاح کرتی ہیں اور مقدمے کے آخر میں عتیق الرحمن میرا سے اپنا نکاح ثابت کر دیتے ہیں تو کسی غیر قانونی فعل کی ذمہ دار خود میرا ہوں گی۔

Image caption اداکارہ میرا پاکستانی فلموں کے علاوہ انڈین فلموں میں بھی اداکاری کر چکی ہیں

عدالت نے کہا کہ موجودہ دعویٰ 2010 میں دائر ہوا تھا جس میں میرا کو شہادت کے لیے اور عتیق الرحمن کو جرح کے لیے بہت مواقع دیے گئے ہیں لیکن میرا کے علاوہ کسی اور گواہ کی شہادت قلمبند نہ ہو سکی۔

فیملی کورٹ کے مطابق سات سال گزرنے کے باوجود مقدمہ ابتدائی مراحل میں ہے اس لیے اب روزانہ کی بنیاد پر اس کی سماعت ہو گی اور 30 دسمبر 2017 سے پہلے اس کا فیصلہ سنا دیا جائے گا۔‘

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اداکارہ میرا نے کہا کہ وہ فیصلے سے خوش ہیں اور انھیں انصاف ملا ہے۔ میرا کا کہنا تھا کہ انھیں عدلیہ پر بھروسہ ہے۔

اسی بارے میں