کیا رانی پدماوتی کا کردار حقیقی ہے

تصویر کے کاپی رائٹ STR
Image caption دپیکا پادوکون کی فلم پدما وتی تنازع کا شکار ہے

تنازعات کا شکار سنجے لیلا بھنسالی کی فلم ’پدماوتی‘ یکم دسمبر کو نمائش کے لیے پیش کی جانی ہے لیکن اسے ابھی سینسر بورڈ کا سرٹیفکیٹ ملنا باقی ہے۔

اور اب اتر پردیش کی حکومت نے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ اس فلم کی نمائش سے ریاست میں نقص امن کا خطرہ ہوسکتا ہے، اور یہ کہ سرٹفکیٹ جاری کرنے سے پہلے سینسر بورڈ کو ان دعووں پر بھی غور کرنا چاہیے کہ اس میں تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ STR
Image caption فلم یکم دسمبر کو رلیز ہونی ہے

اس سے پہلے بی جے پی کے سینئر لیڈر سبرامنیم سوامی نےکہا تھا کہ ' اس فلم میں دبئی کا پسہ لگا ہوا ہے، دبئی کے لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمان راجاؤں کو ہیرو کے طور پر پیش کیا جائے، وہ یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ ہندو عورتیں ان سے رشتے بنانے کے لیے تیار تھیں۔۔۔یہ ایک سازش چل رہی تھی جس کے تحت رانی پدمنی کو بھی ہلکے طور پر(منفی طور پر) دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔'

ملک میں بہت سی راجپوت تنظیمیں اس فلم کی ریلیز کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان میں راجستھان کے سابق شاہی گھرانے بھی شامل ہیں جن کا کہنا ہے کہ اس فلم میں چتوڑ کی رانی پدماوتی کی غلط تصویر پیش کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ DEEPIKA PADUKONE, TWITTER
Image caption دپیکا نےسنجے لیلی بھنسالی کے ساتھ باجی راؤ مستانی میں مستانی کا کردار ادا کیا تھا

دلی کے سلطان علاؤالدین خلجی نے 1303 عیسوی میں چتوڑ پر حملہ کیا۔ بہت سے راجپوت مانتے ہیں کہ علاؤ الدین خلجی نے راجہ رتن سنگھ کی اہلیہ پدماوتی کے حسن کے قصے سن کر چتوڑ کے لیے کوچ کیا تھا۔

لیکن مورخین کے مطابق اس دور کی دستاویزات میں کہیں رانی پدماوتی کا ذکر نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پدماوتی کا کردار شاعر ملک محمد جائسی نے سولہویں صدی میں تخلیق دیا تھا اور ان کی کہانی پدماوت صرف ایک کہانی ہے، تاریخ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

لیکن راجپوت تنظیمیں اپنے موقف پر قائم ہیں۔ وہ یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ پدماوتی کا کرداد افسانوی ہے اور یہ کہانی چتوڑ پر علاؤ الدین خلجی کے حملے کے تقریباً ڈھائی سو سال بعد لکھی گئی تھی۔

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ فلم میں کوئی ایسا سین نہیں ہونا چاہیے جس سے یہ تاثر بھی ملے کے الاوالدین خلجی اور پدماوتی میں کوئی قربت یا محبت تھی، چاہے یہ سین ڈریم سیکوئنس کے طور پر ہی کیوں نہ فلمایا گیا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ SUJIT JAISWAL
Image caption دپیکا اس وقت بالی ووڈ کی کامیب ترین ہیروئن ہیں

دویا کماری کا تعلق جے پور کے سابق شاہی گھرانے سے ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ پدماوتی نے جوہر کیا، یعنی راجپوتوں کی اس قدیم رویت پر عمل کیا تھا جس کے تحت عورتیں اپنی عزت بچانے کے لیے خود اپنی جان لے لیتی تھیں۔۔۔اور ان کی غلط تصویر کشی کرنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کی جائے گی۔

چند روز قبل سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مداخلت کرنے سے انکار کردیا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ یہ کام سینسر بورڈ کا ہے۔ لیکن بورڈ کے بعض ارکان پہلے سے ہی فلم کے خلاف سخت زبان استعمال کر رہے ہیں۔

سنجے لیلا بھنسالی کا کہنا ہے کہ فلم میں خلجی اور پدماوتی کا کوئی ایسا سین نہیں ہے جس سے کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچ سکتی ہو۔

فلم میں پدماوتی کا کردار دیپیکا پاڈوکن نے نبھایا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ فلم ہر قیمت پر ریلیز ہوگی اور لوگوں کو فلم دیکھنے سے پہلے کوئی رائے قائم نہیں کرنی چاہیے۔

فلم کی مخالفت میں اترنے والوں کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

بس مسئلہ یہ ہے کہ اس فلم میں کچھ حقیقت ہے اور کچھ افسانہ، اور آجکل دونوں میں فرق کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔