کچھ مرد ڈانس کیوں نہیں کرتے؟

اوٹی مبوس اور جونی پیکوک
Image caption جونی پیکوک مقابلے میں حصہ لینے سے پہلے کبھی ڈانس نہیں کرتے تے

بی بی سی ریڈیو فائو لائیو کی جانب سے ایک ہزار مردوں پر ہونے والے ایک سروے میں سامنے آیا ہے کہ برطانیہ میں تین چوتھائی مرد ایسے ہیں جو کبھی ڈانس نہیں کرتے یا پھر شاذو نادر ہی کبھی کر لیتے ہیں۔

انھوں نے سروے میں بتایا کہ شرمندگی کا احساس ان کے ڈانس فلور سے دور رہنے کی بڑی وجہ ہے۔

دس فیصد کا یہ بھی کہنا تھا کہ توجہ کا مرکز بننے کا خوف، مزاق اڑائے جانے یا پھر ان کے بارے میں رائے قائم کیے جانے کا ڈر بھی انھیں ڈانس کرنے سے روکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بالی وڈ کے کروڑوں کے گانے

’پھر ہم نے رقص کیا اور کہانی یہیں سے شروع ہوئی‘

سندھ میں رقص کی تعلیم پر پابندی کے خلاف حکومتی ایکشن

خود اعتمادی

دو مرتبہ پیرالمپک چیمپیئن رہ چکے جونی پیکوک نے اعتراف کیا کہ برطانوی ٹی وی شو سٹرِکٹلی کم ڈانسنگ میں حصہ لینے سے پہلے وہ ان لوگوں میں سے ایک تھے جو ڈانس سے پرہیز کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اس مقابلے سے پہلے میں کبھی ڈانس فلور پر قدم نہیں رکھتا تھا۔ ایسا نہیں ہے کہ مجھے ڈانس کرنے میں مزہ نہیں آتا۔ لیکن برے ڈانس سے شرمندگی ہوتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Gareth dew
Image caption گیریتھ اپنی شادی کے لیے ڈانس کرنا سیکھ رہے ہیں

ایسے خیالات صرف جونی پیکوک کے نہیں ہیں۔ ایسے خیالات رکھنے والے مردوں کی بڑی تعداد ہے۔

ایک شخص نے بتایا کہ ’میں ایسی صورت میں ڈانس فلور پر زیادہ مشکل محسوس کرتا ہوں جب وہاں زیادہ لوگ نہ ہوں۔ اگر زیادہ بھیڑ ہوتی ہے تو میں خوش رہتا ہوں۔‘

ہمت کی ضرورت

کچھ مردوں کا کہنا ہے کہ ڈانس فلور پر جانے کے لیے انہیں شراب پینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسا کرنے سے انہیں بہتر محسوس ہوتا ہے۔

ایک شخص نے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ میں بہت اچھا ڈانسر ہوں اس لیے ڈانس فلور تک جانے کے لیے مجھے شراب سے ہمت چاہیے ہوتی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیں

’میں برا ڈانسر ہوں اور کیوٹ بھی نہیں‘

افغانستان ہم جنس پرستوں کی خفیہ زندگی

’تمہارے بعد اب کبھی ڈانس نہیں کروں گا‘

پینتیس سالہ گیریتھ ڈیو نے بتایا کہ ’میں کبھی کبھی ہی شراب نوشی کرتا ہوں۔ لیکن اگر مجھے معلوم ہو کہ مجھے ڈانس کرنا پڑے گا تو میں اعصاب کو قابو میں رکھنے کے لیے وِسکی پی لیتا ہوں۔‘

شادی کے موقع پر ڈانس

فائیو لائیو کے سروے میں 75 فیصد مردوں نے کہا کہ انہوں نے کسی شادی میں ڈانس کیا ہے۔ گیریتھ بھی اپنی شادی کے لیے ڈانس سیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اگلے سال اکتوبر میں ان کی شادی ہے اور انہیں امید ہے کہ تب تک وہ تھوڑا بہت ڈانس تو سیکھ ہی لیں گے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
امریکہ میں ثقافت اور تشخص کو محفوظ کروانے کے لیے بچوں میں روایتی ہوپ ڈانس کی تعلیم متعارف

سٹرکٹلی کم ڈانسنگ کے پیشہ ور ڈانسر نیل جونس کا خیال ہے کہ شادیوں میں دلہے کو نچانے والی دلہن ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میرے پاس بہت سے لوگ شادیوں پر ہونے والے ڈانس کے بارے میں پوچھنے آتے ہیں اور وہ ہمیشہ خواتین ہوتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں میں چاہتی ہوں کہ وہ ڈانس کرے لیکن وہ ڈانس کرنا ہی نہیں چاہتا‘۔

گیریتھ نے بتایا کہ ان کی منگنی سے پہلے بھی ان کی منگیتر نے انہیں اعتماد حاصل کرنے میں مدد کی۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نے پچھلے چھ ماہ میں اتنا ڈانس کیا ہے جتنا اپنی پوری زندگی میں نہیں کیا تھا‘۔

انہوں نے اپنی منگیتر شینا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’اب میرا جسم تو تال سمجھنے لگا ہے لیکن میری ٹانگیں اور میرے بازو ابھی بھی نہیں تھرکتے۔ مجھے نہیں معلوم مجھے کیا کرنا چاہیے۔ لیکن اس کے ساتھ ہونے کی وجہ سے میں پر سکون ہوتا ہوں اور آج بہتر ڈانس کر پا رہا ہوں‘۔

متاثر نہیں اظہار کرنے کے لیے ڈانس

سوال یہ ہے کہ ڈانس کی ہچکچاہٹ سے نجات کیسے پائی جائے؟

پیکوک کہتے ہیں کہ ‘اس بارے میں خود آپ سے زیادہ کوئی اور نہیں سوچ رہا ہوتا۔ حالانکہ آپ کو ایسا لگتا ہے جیسے ہر شخص آپ کو ہی دیکھ رہا ہے اور ہر کوئی یہ یاد رکھے گا کہ آپ کتنے برے ڈانسر ہیں۔‘

گیریتھ کہتے ہیں کہ ’پہلے میں اتنے تناؤ میں ڈانس کرتا تھا کہ میرا جسم اکڑ جاتا تھا۔ میرے خیال میں ڈانس کرنے کے لیے آپ کو پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ آپ کا اپنے جسم کے بارے میں پر اعتماد ہونا ضروری ہے۔‘

اسی بارے میں