امل حجازی کی گلوکاری سے کنارہ کشی کے بعد پیغمبر اسلام کی مداح سرائی

امل حجازی تصویر کے کاپی رائٹ AMAL HIJAZI
Image caption گلوکارہ امل حجازی نے تین ماہ قبل ستمبر میں پاپ گلوکاری سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا

لبنان کی ایک پاپ سٹار امل حجازی نے گلوکاری سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے بعد پیغمبر اسلام کی مداح میں ایک نعت کے ساتھ اپنے نئے کریئر کا آغاز کیا ہے۔

حال ہی میں لبنانی گلوکارہ امل حجازی کے گلوکاری سے ریٹائر ہونے اور اسلامی شعار کے مطابق زندگی گزارنے کے فیصلے نے ان کے لاکھوں مداح کو حیران کر دیا تھا۔

امل حجازی نے اپنا پہلا ریکارڈ سنہ 2001 میں جاری کیا تھا اور اس کے ایک سال بعد انھوں نے اپنا دوسرا البم جاری کیا تھا جو کہ بہت مقبول ہوا۔

جبکہ نئی صدی کی پہلی دہائی کے اواخر تک وہ عرب دنیا کی اہم ترین سٹارز میں شمار ہونے لگیں۔

حجازی کا سنہ 2002 میں ریلیز ہونے والا البم ’زمان‘ عربی پوپ کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے ریکارڈز میں سے ایک تھا۔ ستمبر میں گلوکاری کی مقبول صنف سے ان کے ریٹائرمنٹ کے اعلان نے ان کے مداح کو سکتے میں ڈال دیا تھا۔

انھوں نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر لکھا: ’اللہ نے بالآخر میری دعاؤں کو قبولیت بخشی۔‘ اس کے ساتھ انھوں نے حجاب میں اپنی ایک تصویر بھی پوسٹ کی۔

یہ بھی پڑھیں

٭ ’بیگم اختر کی آواز مدینہ میں بھی گونجی‘

٭ ’یہاں کوئی فقہ نہیں سب ایک صف میں ہیں‘

انھوں نے لکھا: ’میں کئی سال تک اپنے محبوب فن اور اپنے عزیز مذہب کے درمیان متصادم رہی۔ میں اپنی اس اندرونی کشمکش کے ساتھ جی رہی تھی کہ اللہ نے میری دعاؤں کو قبولیت بخشی۔'

انھوں نے کہ کہا کہ بالآخر انھیں جس خوشی کی تلاش تھی وہ مل گئی۔

انھوں نے اپنے نئے انداز کے ساتھ سوشل میڈیا پر گذشتہ روز نعت کا ویڈیو جاری کیا ہے۔

یہ گیت پیغمبر اسلام کے یوم ولادت پر اظہار عقیدت ہے اور اسے اب تک 80 لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھا اور ڈھائی لاکھ سے زیادہ مرتبہ شیئر کیا جا چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AMAL HIJAZI
Image caption امل حجازی نے کہا ہے کہ وہ حجاب میں 'فخر' محسوس کرتی ہیں

اس پر تقریباً 15 ہزار کمنٹس آئے ہیں جن میں بہت سے لوگوں نے امل حجازی کی حمایت کی ہے۔

لیکن بعض لوگوں نے ان کی ’نئی پاکیزہ لُک‘ اور اسلام میں خواتین کی گلوکاری کے ممنوع ہونے پر تبصرہ کیا ہے۔ بہت سے لوگوں نے سوال کیا ہے کہ خواتین کی آواز کا نامحرم تک پہنچنا کہاں تک جائز ہے۔

یہ بھی پڑھیں

٭ ’ہم نے ایک فنکار کو کھو دیا ہے‘

٭ 2016: موسیقی میں تجربوں کا سال

ایک فیس بک صارف ابو محمد ال اصطل نے عربی زبان میں جواب دیا: ’وہ جو کر رہی ہیں، جائز نہیں ہے۔ ایک خاتون کا گانا جائز نہیں ہے۔ اگر وہ اذان دے گی تو اس پر خدا کی لعنت ہوگی۔‘

ایک دوسری صارف زینب مسلمانی نے انگریزی میں لکھا: ’لوگو بیدار ہو جاؤ اور جس چیز کو خدا نے حرام کیا ہے اس کے لیے اس کی تعریف نہ کرو، انھیں ہدایت کی ضرورت ہے نہ کہ حوصلہ افزائی کی۔ ہمارا مذہب بہت سے لوگوں کے لیے مذاق بن کر کیوں رہ گیا ہے۔‘

بہر حال بہت سے مداحوں نے تعریفی کلمات سے ان کا خیر مقدم کیا ہے۔

دینا میشک نے انگریزی میں لکھا: ’آپ ایک ایسی خاتون کو تنقید کا نشانہ کیسے بنا سکتے ہیں جس نے خود کو مذہب میں ممنوع چیز سے روکا، حجاب زیب تن کیا اور پیغمبر کی شان میں گیت گائے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں