’را اور آئی ایس آئی ایجنٹ کی محبت پر مبنی فلم ٹائیگر زندہ ہے پر ’پاکستان میں پابندی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Yashraj Films
Image caption س سے پہلے 2012 میں بھی فلم 'ایک تھا ٹائیگر' پر بھی پاکستان میں اسی وجہ سے پابندی عائد کی گئی تھی( فائل فوٹو)

انڈین خفیہ ایجنسی را اور پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے ایجنٹ کی ایک دوسرے سے محبت کی کہانی 'ایک تھا ٹائیگر' کے سیکوئل 'ٹائیگر زندہ ہے' کو درآمد کے لیے پاکستانی حکومت نے این او سی جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

سلمان خان اور قطرینہ کیف کی یہ فلم 22 دسمبر کو سینیما گھروں کی زینت بننے جا رہی تھی۔

پاکستان میں فلموں پر پابندی سے متعلق مزید پڑھیے

’ورنہ‘ کیا؟ سینسر بورڈ کو غصہ کیوں آتا ہے؟

بالی وڈ میں موسم معافی تلافی کا

وزارتِ اطلاعات و نشریات نے اس فلم کے مقامی تقسیم کار یا ڈسٹریبیوٹر کو این او سی جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مرکزی فلم سینسر بورڈ کے چیئرمین مبشر حسن نے بتایا کہ یہ قدم مرکزی سینسر بورڈ کی سفارش پر کیا گیا ہے۔

’کیونکہ فلم کے ٹریلر، اور میڈیا پر موجود دیگر مواد کو دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس فلم میں پاکستانی کے سکیورٹی اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، افراد اور چند ریاستی عناصرکی بے توقیری اور تحقیر کی گئی ہے اور پاکستان کے مرکزی سینسر بورڈ کی اس ضمن میں پالیسی بالکل واضح ہے کہ وہ قومی حمیت پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس فلم نے پاکستان کے کوڈ آف سینسرشپ آف فلم مجریہ 1980 ایم پی او کی بری طرح خلاف ورزی کی ہے۔

جیو فلمز کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سلیمان لالانے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں سینسر بورڈ کی جانب سے زبیانہ طور پر صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ ٹائیگر زندہ ہے کو این او سی جاری نہیں کیا جاسکتا اور انہیں اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جیو فلمز نے مروجہ طریقہ کار کے تحت اس فلم کی این او سی کے لیے درخواست دی تھی اور فلم دیکھے بغیر ہی اس پر پابندی عائد کرنے سے بہتر ہوتا کہ اگر اس فلم کو این او سی جاری کرکے ایک مرتبہ سینسر بورڈ اس فلم کو دیکھ لیتا اور پھر اس کی نمائش کی اجازت دینے یا نہ دینا کو فیصلہ کرتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر اس فلم میں کوئی پاکستان یا اسلام مخالف بات ہو تو ہم خود اس کی نمائش کے لیے نہیں کہیں گے۔ ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فلم کے ٹریلر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس فلم میں دونوں مل کر عراق میں کسی مشن پر کام کر رہے ہیں

تاہم ان کا کہنا تھا کہ سینسر بورڈ اور حکومت کو ایسا کرنے کا پورا اختیار ہے اور انہیں امید ہے کہ جمعرات کو انہیں وزارتِ اطلاعات کی جانب سے اس فلم پر پابندی کی وجوہات سے تحریری طور پر آگاہ کردیا جائے گا

واضع رہے کہ کسی بھی فلم کے پاکستان میں درآمد کے معاملے کا اختیار اب وزارتِ اطلاعات کے پاس ہے جو مرکزی فلم سینسر بورڈ کی سفارش پر کسی بھی فلم کو درآمد کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتی ہے اور این او سی جاری کرتی ہے۔

یاد رہے کہ’ٹائیگر زندہ ہے‘ میں بالی وڈ کے اداکار سلمان خان اور قطرینہ کیف بالترتیب سابق را ایجنٹ اور سابق آئی ایس آئی ایجنٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

فلم کے ٹریلر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس فلم میں دونوں مل کر عراق میں کسی مشن پر کام کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے 2012 میں بھی فلم ’ایک تھا ٹائیگر‘ پر بھی پاکستان میں اسی وجہ سے پابندی عائد کی گئی تھی کہ اس میں سلمان خان کو را کا ایجنٹ اور کترینہ کیف کو آئی ایس آئی کا ایجنٹ دکھایا گیا تھا جو ایک دوسرے سے پیار کر بیٹھتے ہیں اور پھر دونوں ہی اپنی اپنی ایجنسی کو چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی پاکستان میں کئی بالی وڈ فلموں پر اسی قسم کی وجوہات کی بنا پر پابندی عائد کی جا چکی ہے جن میں سیف علی خان اور کرینہ کپور کی ایجنٹ ونود، شاہ رخ خان اور ماہرہ خان کی رئیس، مومل شیخ اور ابھے دیول کی ہیپی بھاگ جائے گی، جان ابراہم اور ورن دھون کی ڈشوم اور علی ظفر کی تیرے بن لادن شامل ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں