پاکستان میں انڈین فلمیں لگ رہی ہیں تو انڈیا میں ہماری فلمیں بین کیوں؟ شان

تصویر کے کاپی رائٹ Syed Noman Alam
Image caption ’جس تیزی سے پاکستانی فلم انڈسٹری آگے بڑھ رہی ہے اس حساب سے اگلے پانچ سالوں میں ہمیں نئے خطوں میں داخل ہو کر نئے فلمی گاہک ڈھونڈنے ہیں‘

پاکستانی اداکار شان شاہد نے 1982 کی مشہور بالی وڈ فلم ارتھ کا ریمیک بنایا ہے۔ اس فلم میں مرکزی کرداروں میں شان کے ساتھ حمائمہ ملک، عظمیٰ اور محب مرزا نظر آئیں گے جبکہ فلم 21 دسمبر پاکستان سمیت دنیا بھر میں ریلیز کی جا رہی ہے۔

انڈین فلمساز مہیش بھٹ سے اس فلم کے رائٹس خریدنے کے بعد پاکستان اور انڈیا کے درمیان بننے والی یہ فلم پہلی مشترکہ کوشش ہے۔

آخر فلم ارتھ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ بالی وڈ میں کبھی نہ کام کرنے والے شان نے خود ایک بالی وڈ ریمیک بنائی؟

’میرے لیے ارتھ ایک ریمیک سے بڑھ کر ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر اتنا عرصہ میں نے انڈیا میں کام نہیں کیا ہے اور میں ہمیشہ کہتا رہا ہوں کہ میں اداکار کے طور پر انڈیا نہیں جانا چاہتا، ان کے پاس بہترین اداکار ہیں جو بہترین کام کر رہے ہیں۔‘

’میرا خیال ہے کہ فلم ارتھ کو بنانے کی وجہ یہ ہے کہ ہماری جو ایک بزنس کمیونٹی ہے فلم کی، کاروبار کی، مستقبل جو ہے فلم کا، اس پر اگر ہم تھوڑا سا زور دیں تو ارتھ اس کا حصہ ہے۔ میری ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ پاکستانی فنکاروں کو اور پاکستانی فلم انڈسٹری کو اتنی ہی عزت اور شناخت ملے جتنا ہم ان کے اداکاروں کو دیتے ہیں۔ ہمارے اداکار جب وہاں جاتے ہیں تو ذاتی فائدہ الگ لیکن کمیونٹی کے طور پر فلم انڈسٹری کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔‘

شان کے مطابق ’تو میرا یہ نظریہ ہے کہ اگر بالی وڈ والوں کو میری اتنی ہی ضرورت ہے اور بار بار مجھے کہتے ہیں کہ آئیں اور انڈیا میں فلم کریں اور میں نہ کروں تو ایک بدمزگی سے پیدا ہوتی ہے۔ تو میرے لیے ایک فنی منصوبے سے زیادہ یہ ایک بزنس کا منصوبہ ہے۔ کیونکہ جس تیزی سے پاکستانی فلم انڈسٹری آگے بڑھ رہی ہے اس حساب سے اگلے پانچ سالوں میں ہمیں نئے خطوں میں داخل ہو کر نئے فلمی گاہک ڈھونڈنے ہیں تاکہ وہ ہماری انڈسٹری میں سرمایہ کاری کر سکیں۔‘

پاکستانی فلم انڈسٹری کے بارے میں مزید پڑھیے

کلچر کلیش ، مردانگی اور پاکستانی سنیما کی نئی ہِٹ

پاکستانی اداکاروں والی فلمیں نہ دکھانے کا فیصلہ

’حالات بدل گئے،پاکستانی فنکاروں کو کاسٹ نہیں کروں گا‘

پاکستان اور انڈیا میں ثقافتی ہم آہنگی پیدا کرنے کا ایک طریقہ فواد، ماہرہ اور علی ظفر نے اپنایا بالی وڈ میں کام کر کے، شان نے ایسا کیوں نہیں کیا؟

’جس کو جو طریقہ بہتر لگتا ہے تو اس کو اپنا لینا چاہیے۔ ان تینوں کو کہیں کہ اپنی پاکستانی فلمیں انڈیا جا کر سینیما گھروں میں لگائیں، اگر ایسا نہیں ہو پاتا تو ردعمل میں یہ تینوں غصہ اور ناراضگی دکھا سکتے ہیں اور نہیں بھی دکھا سکتے۔ اگر میں ان کی جگہ ہوں تو میں تو بہت غصہ کروں کہ آپ کی فلموں میں ہم کام کر رہی ہیں، اتنی تصویریں ہیں ہماری آپ کے ساتھ اخبار اور میگزین میں چھپتی، اتنی پارٹیاں ہم آپ کی اٹینڈ کرتے ہیں، جو کہتے ہیں آپ، وہ ہم کرتے ہیں۔ تو آپ میری فلم ’ورنہ‘ ریلیز ہوئی ہے تو اس کو ذرا انڈیا میں ریلیز کر دیں۔ وہ نہیں لگائیں گے۔`

تصویر کے کاپی رائٹ Shan
Image caption شان کے مطابق فلم ارتھ میں 11 گانے شامل ہیں

موجودہ حالات میں پاکستانی اداکار تو انڈیا جا کر کام نہیں کر سکتے تو کیا ارتھ جیسی کوششوں سے انڈین اداکار پاکستان آ کر کام کر پائیں گے؟

’میرا خیال ہے کہ اگر دونوں ملکوں کی حکومتیں چاہیں تو جیسے کرکٹ میچز ہوتے ہیں اور دونوں ملکوں کے جھنڈے برابری کی سطع پر لہراتے ہیں، دونوں کی ٹیموں میں برابر کھلاڈی ہوتے ہیں، تو یہ برابری کی سطع کا اطلاق ہر چیز میں ہونا چاہیے، صرف سیاسی کانفرنسز یا کرکٹ میچز میں بلکہ فلموں میں بھی ہونا چاہیے۔ اگر کوئی پاکستانی اداکار انڈیا جاتا ہے تو اس کو بھی سٹیٹ گیسٹ کا درجہ دینا چاہیے اور سکیورٹی ملنی چاہیے۔‘

’انڈین اداکار پاکستان آتے ہیں تو ان کو سرکاری مہمان بناتے ہیں جیسے شتروگہن سنہا کو پروٹوکول دیا گیا تھا۔ اسی طرح جب پاکستان میں انڈین فلمیں لگ رہی ہیں اور کوئی روک تھام نہیں، تو ہمیں بھی اتنی ہی مارکیٹ ملنی چاہیے انڈیا میں جتنی پاکستان نے ان کو دی ہوئی ہے۔‘

اتنے سالوں سے بالی وڈ میں کام کی آفرز ہونے کے باوجود شان شاہد نے کسی انڈین فلم میں کام کیوں نہیں کیا؟

’میرا خیال ہے کہ پاکستان میں ابھی بہت کام کرنا باقی ہے ابھی۔ اگر میں اپنے بینک اکاؤنٹ کی طرف دیکھوں تو مجھے انڈیا چلے جانا چاہیے اور وہاں جا کر کام کرنا چاہیے۔ لوگوں کے رویے دیکھتا ہوں پاکستان میں تو دل کرتا ہے چلا جاؤں لیکن ایک ذمہ داری ہے، ایک عہد ہے جو خود سے کیا ہوا ہے، اس مٹی سے کیا ہوا ہے، اس ملک سے کیا ہوا ہے، ملک کے لوگوں سے کیا ہوا ہے۔ جو توڑا نہیں جاتا۔ ‘

’مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں ایک ڈاکٹر ہوں جو کانگو میں کام کر رہا ہے۔ اس کے پاس دوائیاں کم ہیں لیکن وہ جتنے بھی مریض ٹھیک کر سکتا ہے جتنا بھی کام کر سکتا ہے، اس کا یہاں ہونا ضروری ہے۔‘

کیا فلم ارتھ انڈیا میں ریلیز ہو گی؟

Image caption 'میرا خیال ہے کہ پاکستان میں ابھی بہت کام کرنا باقی ہے ابھی‘

’میں تو چاہوں گا کہ میری فلم انڈیا میں بھی ریلیز ہو لیکن انڈیا میں جو لوگ ہیں اور ان کی حکومت کو یہ دیکھنا ہے کہ یہ فلم ہم نے لگانی ہے کہ نہیں لگانی تو میرا نہیں خیال کہ وہ اس فلم کو انڈین سینیما گھروں میں ریلیز کریں گے۔ حالانکہ اس فلم میں ایسی کوئی سیاسی یا قابل اعتراض بات نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ انڈیا دعوے کرتا ہے کہ وہ ایک سیکیولر ملک ہے تو دکھائے بھی۔ اتنی کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ اگر ہم انڈین فلمیں پاکستانی سینیما میں لگا رہے ہیں، ہر انڈین فلم لگتی ہے، اچھی سے اچھی اور بری سے بری اور کوئی روک تھام نہیں ہے۔

’لیکن انڈیا نے پاکستانی فلموں کی نمائش بند کی ہوئی ہے تو ہمارے یہ تینوں آرٹسٹ فواد، ماہرہ اور علی ظفر جو انڈیا جاتے ہیں، اگر ان کو اس سب کا احساس نہیں ہے تو مجھے ان سے کوئی شکوہ نہیں، یہ ان کا اپنا ذاتی فیصلہ ہے۔ لیکن اگر میں ان کی جگہ پر ہوں تو مجھے تو بات بہت چبھے گی کہ اگر مجھ سے اتنی دوستی ہے تو میری فلم انڈیا میں کیوں نہیں لگاتے۔‘

پاکستانی فلم انڈسٹری کے بارے میں مزید پڑھیے

بالی وُڈ کی فلمیں پاکستان میں کیوں نہیں؟

’اصل زندگی کا ہیرو آن سکرین ہیرو بن جائے‘

رمیز راجہ کا فلم سازی کی طرف رجحان

فلم ارتھ کی شوٹنگ کتنی مدت میں اور کہاں کی گئی؟

’یہ فلم لندن، لاہور اور اسلام آباد میں شوٹ کی گئی ہے۔ 60 دنوں کے دو شوٹنگ سپیل تھے اور ایڈیٹنگ میں ایک مہینہ لگا۔ فلم کے گانے بہت ہی بہترین ہیں، کل 11 گانے ہیں اور بہت عرصے بعد کوک سٹوڈیو کے علاوہ موسیقی سے لگاؤ رکھنے والے افراد کو ان کے ذوق کی موسیقی ملے گے۔‘

’اس فلم کی طاقت ہیں اس کے گانے اور شائقین کو یقینا بہت پسند آئیں گے۔ ارتھ 21 دسمبر کو ریلیز کر رہے ہیں جس کے بعد عید الفطر پر میری اگلی فلم آئے گی ’ضرار‘ جو کہ ایکشن فلم ہے اور پاکستان کی پہلی سپائے فلم ہو گی جس کو ہم نے برطانیہ، افغانستان اور ترکی میں شوٹ کیا ہے۔ فلم کی کاسٹ میں میرے ساتھ کرن ملک ہیں اور باقی تمام کاسٹ برطانوی ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں