سابق حسیناؤں کے بارے میں نازیبا ای میلز پر مس امریکہ کے سربراہ مستعفی

سیم ہسکل تصویر کے کاپی رائٹ MISS AMERICA ORGANIZATION
Image caption سیم ہسکل پہلی صف میں نمایاں طور پر نظر آ رہے ہیں

مس امریکہ آرگنائزیشن (ایم اے او) کے سی ای او سیم ہسکل نے مقابلہِ حسن میں شریک خواتین کے ساتھ نازیبا انداز اختیار کرنے سے متعلق ای میلز منظر عام پر آنے کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔

اپنے بیان میں ادارے کا کہنا ہے کہ فوری طور پر مسٹر ہسکل کا استعفیٰ منظور کیا جاتا ہے اور چیئر پرسن لن ویئڈنر بھی مستعفی ہو رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق افشا ہونے والی ای میلز میں مقابلہ حسن میں کامیاب ہونے والی سابقہ خواتین کے بارے میں نازیبا حوالے دیے گئے ہیں اور ان کی جنسی زندگی کے بارے میں بھی بیہودہ تبصرے کیے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

اس مقابلے میں حصہ لینے والی خواتین نے ان ہولناک انکشافات پر تنقید کی ہے۔

اس تنظیم کے صدر اور چیف آپریٹنگ افسر جوش رینڈل نے بھی عہدہ چھور دیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ 'حالیہ واقعات کی روشنی میں انھوں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔'

ٹوئٹر پر اپنے بیان میں ایم اے او نے کہا ہے کہ مس ویئڈنر جانے سے پہلے انھیں نئی لیڈر شپ کو لانے میں مدد دیں گی۔

مسٹر ہسکل نے ایم اے او کی جانب سے ان کی معطلی کے بیان سے کچھ ہی گھنٹوں بعد اپنا استعفیٰ دیا۔

دی ہفنگٹن پوسٹ نے ہسکل اور ادارے کے دیگر افراد کے درمیان مبینہ طور پر تین سال تک کے ای میلز کے تبادلے کو شائع کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MISS AMERICA ORGANIZATION

ان ای میلز میں مقابلہ حسن میں حصہ لینے والی حسیناؤں کے نام بھی لیے گیے ہیں اور انھیں بے سلیقہ، یا موٹا کہہ کر پکارا گیا ہے۔

این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق مس امریکہ میلورے ہیگن، جن کے بارے میں کچھ ای میلز میں طنزو مزاح کیا گیا ہے، کا کہنا ہے کہ وہ ایک طویل عرصے سے اپنے اردگرد کے لوگوں سے کہہ رہی تھیں کہ یہ سب ہو رہا ہے۔

ادھر اپنے بیان میں مسٹر ہسکل نے کہا ہے کہ میں کوئی عذر پیش نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بتانا چاہتا ہوں کہ دو مس امریکہ کے حملوں کے سبب گذشتہ ایک سال سے دباؤ میں ہیں۔'

اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ اصل کہانی کے ساتھ 'شرارت' کی گئی ہے اور ای میلز کی 'اپنے حساب سے تصحیح کی گئی ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں