ارتھ: بُھلائے جانے کے خلاف ایک چیخ

ارتھ تصویر کے کاپی رائٹ Facebook/Arth - The Destination

ارمغان شاہد، جن کو پاکستانی عموماً شان شاہد کے نام سے جانتے ہیں، پاکستانی فلم کے سب سے بڑے، سب سے پرانے اور کچھ لوگوں کے مطابق واحد سُپرسٹار ہیں۔ 25، 27 سال فلموں میں کام کرنے کے باوجود اب بھی وہ لیڈ اداکار ہی سمجھے جاتے ہیں، اور بڑے بجٹ کی فلموں کی کاسٹنگ کے وقت اُن کا نام سرِفہرست ہوتا ہے۔

لیکن اُن کی شخصیت میں کچھ تضادات نمایاں ہیں۔ مثلاً نوّے کی دہائی میں جہاں سلطان راہی کے قتل کے بعد انھوں نے پنجابی فلموں کو اپنے کاندھوں سے سہارا دیا اور پاکستانی فلمی صنعت کو چلائے رکھا، وہاں اُن کی فلمسازوں کو تنگ کرنے کی کہانیاں بھی بہت مشہور تھیں۔ اُن کے نقّادوں کا کہنا ہے کہ اُن کے رویّے کی وجہ سے، جس میں فلموں کو پورا وقت نہ دینا اور تین تین فلموں میں بیک وقت کام کرنا شامل تھا، پاکستانی فلم بدحال بھی ہوئی۔

پھر اُن کے تجربے اور اداکاری میں مہارت کو جہاں سب مانتے ہیں، وہاں اُن پر یہ الزام بھی لگتا ہے کہ وہ اپنے مقابل اداکاروں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے اور اپنے کردار کی اہمیت اور شاید ایِگو کی خاطر اُن کے کردار کم بھی کروا دیتے تھے۔ اس کے علاوہ شان جہاں عرصے سے پاکستانی اداکاروں کا انڈین فلموں میں کام کرنے اور اُن کی پاکستان میں نمائش کے خلاف آواز اُٹھاتے رہے ہیں، وہاں بطور ہدایتکار اپنی چھٹی فلم کے لیے اُنھوں نے خود ایک مشہور انڈین فلم کو ریمیک کرنے کا سوچا۔

اِس حوالے سے شان کو میڈیا میں خاصی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ شان نے نہ صرف ایک انڈین فلم کی کہانی دوبارہ بنائی بلکہ اس کو تبدیل بھی کر دیا اور ایسا تبدیل کیا کہ جہاں اوریجنل فلم کا محور ایک عورت کی کہانی تھی، وہاں شان کی فلم کا محور خود شان بن جاتے ہیں۔

سچ پوچھیں تو میرا اِن دونوں باتوں سے کوئی زیادہ اختلاف نہیں ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ شان نے مہیش بھٹ کی 1982 کی فلم ’ارتھ‘ کو باقاعدہ مہیش بھٹ کی رضامندی سے ریمیک کیا ہے۔ اور کہانیوں کی، کم از کم میرے خیال میں، کوئی نیشنیلٹی نہیں ہوتی۔ دوسری بات یہ ہے کہ بطور لکھاری اور ہدایتکار شان کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ کہانی میں ردّوبدل کریں۔ (ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں لکھنے والوں نے کسی مشہور کہانی کو نئے زاویے سے پیش کیا ہے۔) اصل بات دیکھنے کی یہ ہے کہ کیا شان کی فلم ’ارتھ ـ دی ڈیسٹینیشن‘ اپنے تئیں کامیاب فلم ہے یا نہیں اور کیا شان اپنے مقصد کو حاصل کر پاتے ہیں یا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شان نے مہیش بھٹ کی 1982 کی فلم 'ارتھ' کو باقاعدہ مہیش بھٹ کی رضامندی سے ریمیک کیا ہے

مہیش بھٹ کی ’ارتھ‘ ایک شادی شدہ عورت پوُجا (شبانہ اعظمی) کے گرد گھومتی ہے جس کا شوہر ایک دوسری عورت کویتا (سمیتا پاٹل) کے عشق میں مبتلا ہے۔ شروع شروع میں پوُجا اپنی شادی کو بچانے کی خاطر سمجھوتے کرتی ہے اور کویتا سے فریاد بھی کرتی ہے۔ لیکن جب وہ اپنے شوہر سے علیحدہ ہونے کی ٹھان لیتی ہے تو اُس کو اپنے اندر کی طاقت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اور وہ زندگی اپنے اصولوں پر گزارنا شروع کردیتی ہے۔ آگے جا کر اُسے ایک اور مرد راج (راج کِرن) کا پیار بھی مل جاتا ہے لیکن پوُجا اُس کی شادی کی پیشکش ٹھُکرا دیتی ہے کیونکہ وہ اپنے اندر کی طاقت کے اُجاگر ہونے کے بعد صرف اپنے آپ پر بھروسہ کرنا چاہتی ہے۔

شان کی ’ارتھ‘ میں کہانی اس دوسرے مرد کے گرد گھومتی ہے (جو شان خود ہیں)۔ کسی زمانے میں مشہور موسیقار علی ایک مشکل طلاق کے بعد لندن سے پاکستان واپس آتا ہے تاکہ اپنا موسیقی کا کیریئر دوبارہ شروع کر سکے۔ لیکن اس کو سب بھول چُکے ہیں اور اب اُسے کوئی گھاس نہیں ڈالتا۔ اِن بُرے حالات میں اُس کی ملاقات ہوتی ہے اپنی ’سب سے بڑی فین‘ عظمیٰ (عظمیٰ حسن) سے جو علی کو گانے لکھنے میں مدد کرنے لگتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ عظمیٰ کا اندر کا لکھاری بھی جاگ جاتا ہے اور وہ اپنی عرصے سے نامکمل کتاب بھی پوری کر لیتی ہے۔ عظمیٰ اصل میں اوریجنل ’ارتھ‘ کی پوُجا ہے۔ اس کا شوہر (محب مرزا) ایک دوسری عورت (حمائمہ ملک جو سمیتا پاٹل کی طرح ایک فلمسٹار کا رول کر رہی ہیں) کے ساتھ چکّر چلا رہا ہے۔ اور جب عظمیٰ کو اس بات کا پتہ چلتا ہے تو وہ اپنا سارا دُکھڑا علی کو سناتی ہے اور علی اس کی مدد کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن دھیرے دھیرے دونوں، یعنی علی اور عظمیٰ، کی دوستی کا رشتہ پیار میں بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔

شان نے کہانی کو ایسے کیوں تبدیل کیا؟ اس کا ایک جواب تو ظاہر ہے: کیونکہ شان کی فلم میں سب سے بڑا سُپر سٹار شان ہی ہیں اور شان اپنے آپ کو چھوٹا سا یا بُرا رول نہیں دینا چاہتے (بُرے آدمی کا رول محب مرزا کے کھاتے میں جاتا ہے)۔ لیکن میرے خیال میں اس کا ایک دوسرا جواب بھی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ شان شاہد کی فلم ارمغان شاہد کے بارے میں بھی ہے۔

شان بیشک پاکستانی فلم کے سُپرسٹار ہیں لیکن وہ اب 50 سال کے لگ بھگ ہوگئے ہیں اور اُن کو بھی یہ معلوم ہے کہ وقت گزرتا جا رہا ہے اور وہ ہمیشہ لیڈ اداکار نہیں رہیں گے۔ نئے نئے لڑکے ہیرو کے طور پر ہر روز سامنے آرہے ہیں جن کو پزیرائی بھی مل رہی ہے۔ شان کی فلم ایک ایسے کردار کے بارے میں ہے جو دوبارہ شہرت کی اُن اونچائیوں کو چھوُنا چاہتا ہے جو کبھی اُس کی زندگی کا حصّہ تھیں۔ یہ فلم بھُلائے جانے کے خلاف ایک چیخ ہے۔ آپ چاہیں تو اس استعارے کو لاہور کی فلم انڈسٹری تک بھی پھیلا سکتے ہیں۔

Image caption فلم کے آخری حصّے میں شان کہانی کو دوبارہ اپنے بارے میں بنانے کی کوشش کرتے ہیں

مزے کی بات یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ شان نے اس فلم کو اپنے بارے میں بنا دیا ہے، اوریجنل ’ارتھ‘ کی کہانی اتنی جاندار ہے کہ شان کی فلم میں بھی وہ کہانی بالآخر اوپر آجاتی ہے۔ اس فلم کا سب سے پیچیدہ اور دلچسپ کردار عظمیٰ کا ہی ہے۔ عظمیٰ حسن کی کاسٹنگ جرات مندانہ ہے (عظمیٰ کی شکل ماڈل ٹائپ نہیں ہے بلکہ زیادہ گھریلو ہے) لیکن اُن کی پرفارمنس عمومی طور پر کسی انکشاف سے کم نہیں ہے۔ وہی اس فلم میں جان ڈالتی ہیں۔ حمائمہ دو تین مناظر میں قدرے اچھا پرفارم کرتیں ہیں لیکن عموماً اُن کا رول یکسانیت کا شکار لگتا ہے۔ محب مرزا اپنے محدود سے رول میں ٹھیک کام کرتے ہیں لیکن اُن کو بھی اظہار کا زیادہ موقع نہیں ملتا۔ شان خود بہت عمدہ پرفارم کرتے ہیں لیکن دیکھنے والے کو اس بات کا اندازہ رہتا ہے کہ کہانی اصل میں کہیں اور ہے۔

مسئلہ یہ بھی ہے کہ فلم بہت حد تک ’لو بجٹ‘ نظر آتی ہے۔ اس کی عکسبندی سے صاف ظاہر ہے کہ یا تو پیسوں کی کمی تھی یا پھر ہدایتکار شان بڑے سکیل پر کام کرنے میں پُراعتماد نہیں تھے۔ یہ بھی شان کے تضادات کا ایک پہلو ہے۔ شان کئی مرتبہ دوسرے فلمسازوں کی اس بات پر کھنچائی کر چُکے ہیں کہ اُن کی فلمیں ٹی وی ڈراموں کی طرح لگتی ہیں اور یہ کہ فلم اور ٹی وی ڈراموں میں واضح فرق ہوتا ہے۔ لیکن سوائے اس کے کہ اُن کی فلم کی موسیقی (جو کہ ساحر علی بگا نے کمپوز کی ہے) فلم میں جان ڈالتی ہے، اُن کی فلم کافی حد تک ٹی وی ڈرامہ ہی لگتی ہے۔ اس میں کوئ بڑے ایکشن سین نہیں ہیں اور بیشتر فلم بند کمروں میں انہی چار کرداروں کے گِرد گھومتی ہے جن کے کچھ مناظر کئی بار ریپیٹ ہوتے ہیں۔ فلم کی تدوین خاص طور پر کمزور ہے اور اس میں کئی نقائص واضح ہیں۔ اس کے علاوہ بےجا انگریزی کے مکالموں کا استعمال فلم کو عام فلم بین سے دور کر دیتا ہے۔

فلم کے آخری حصّے میں شان کہانی کو دوبارہ اپنے بارے میں بنانے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ اُس وقت تک عظمیٰ کی کہانی قدرے حاوی ہو چُکی ہوتی ہے۔ یہاں فلم غیر ضروری طور پر طویل لگنے لگتی ہے اور واضح لگتا ہے کہ کہانی جس رُخ پر چل پڑی تھی اس کو زبردستی شان کی خاطر پلٹا جارہا ہے۔ اداکار شان نہایت ہی تجربہ کار ہیں لیکن شاید ہدایتکار شان کو ابھی تجربے اور مہارت کی اس سطح پر پہنچنا باقی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں