اوپرا ونفری کی تقریر صدارتی امیدواری کا پیش لفظ تو نہیں!

اوپرا ونفری تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اوپرا ایک عرصے تک امریکہ میں ٹاک شوز کی ملکہ رہیں اور انھوں نے فلم سازی کے ساتھ اداکاری بھی کی اور اب وہ ایک کیبل ٹی وی چینل چلاتی ہیں

اتوار کو گولڈن گلوب کی تقریب میں نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے سیتھ مائیرز نے معروف امریکی اداکارہ اوپرا ونفری کی ممکنہ صدارتی مہم کے بارے میں یوں ہی مذاق میں ایک خیال ظاہر کیا تھا۔

مگر جب ونفری انٹرٹینمنٹ کی دنیا میں نمایاں خدمات کے لیے 'سیسل بی ڈی میلے' ایوارڈ حاصل کرنے کے لیے سٹیج پر آئیں اور اس کے بعد انھوں نے جو تقریر کی وہ کوئی مذاق نہیں تھی۔

امریکی میڈیا میں یہ خبریں گشت کر رہی ہیں کہ وہ اس خیال پر سرگرمی کے ساتھ غور کر رہی ہیں۔

وہ ایک عرصے تک امریکہ میں ٹاک شوز کی ملکہ رہیں اور انھوں نے فلم سازی کے ساتھ اداکاری بھی کی اور اب وہ ایک کیبل ٹی وی چینل چلاتی ہیں۔

ان کی تقریر بہت حد تک کسی صدارتی امیدوار کی طرح لگی جو کہ سدھی ہوئی اور مؤثر تھی۔ اور اس کی وجوہات بھی ہیں:

ذاتی احساس

انھوں نے کہا: 'میں سنہ 1964 میں ایک چھوٹی بچی تھی اور ملواکی میں اپنی ماں کے گھر لائنولیم کے فرش پر بیٹھی 36واں آسکر ایوارڈز دیکھ رہی تھی جس میں این بینکروفٹ بہترین اداکار کا ایوارڈ پیش کررہی تھیں۔ انھوں نے لفافہ کھولا اور پانچ تاریخی الفاظ کہے: 'اس کے فاتح سڈنی پوئٹیئر ہیں۔'

حال میں امریکی سیاست میں معتبریت پر بہت زور رہا اور جب ڈونلڈ ٹرمپ نے نفیس سیاستدانوں کے میدان میں قدم رکھا اور وائٹ ہاؤس پہنچے تو اس کے بعد اس پر مزید زور رہا۔

یہ بھی پڑھیں

٭ 75ویں گولڈن گلوب میں سب نے سیاہ لباس کیوں پہنے؟

٭ چوتھے سعودی فلم فیسٹیول میں انتہاپسندی پر منبی فلم کو ایوارڈ

اوپرا ونفری نے اتوار کو اپنی تقریر کی ابتدا اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے کی جب کسی سیاہ فام نے پہلی بار اہم اکیڈمی ایوارڈ حاصل کیا تھا۔

غریب گھرانے کا بیانیہ بہت سے سیاست دانوں کے لیے اہمیت کا حامل رہا ہے اور ونفری نے وسکانسن جیسی ریاست میں 'لائنولیم کے فرش' پر بیٹھنے کے ذکر سے بہت سے ناظرین کے دل کو چھو لیا۔

بامقصد بیان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اتوار کو گولڈن گلوب ایوارڈز کی تقریب میں اوپرا ونفری کے ایک ایک لفظ کو لوگ غور سے سن رہے تھے

انھوں نے اپنی تقریر میں مزید کہا: 'میں یقینی طور پر یہ کہہ سکتی ہوں کہ اپنی حقیقت بیان کرنا ہم سب لوگوں کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔'

واضح رہے کہ امریکی سیاست میں اقتدار کے مقابلے میں صداقت کوئی نئی تھیم نہیں ہے لیکن پھر بھی یہ بہت مؤثر ہے۔

'مطلق سچ' کو سامنے لانے کے لیے جہاں انھوں نے آزاد پریس کی بات کی وہیں انھوں نے گھریلو ملازم، کھیتوں کے مزدور، فیکٹریوں میں کام کرنے والے، ڈاکٹر، سپاہی غرض کے تمام شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین کو پیغام دیا جنھوں نے 'ناانصافی اور مظالم کے دن گزارے ہیں۔'

ایسے میں اگر ونفری صدارتی انتخابات کے میدان میں اترتی ہیں تو ان کے حریف انھیں ہالی وڈ کی شخصیت کہہ کر انھیں حقیقی دنیا سے دور کی چیز ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔

حساس کہانیاں

انھوں نے کہا: 'دس دن قبل ریسی ٹیلر کا اپنے 98 ویں یوم پیدائش سے قبل انتقال ہو گیا۔ انھوں نے سفاک طاقتور مردوں کے ہاتھوں شکست خوردہ ثقافت میں زندگی گزاری جیسی کہ ہم سب نے گزاری ہے۔ اور بہت دنوں تک اگر خواتین نے ان بااختیار مردوں کے سامنے اپنی سچائی رکھنے کی جرات بھی کی تو نہ ان کی باتوں کو نہ سنا گیا اور نہ ان پر یقین کیا گیا۔ لیکن اب ان کا وقت ختم ہو چکا ہے۔'

اپنی تقریر کے درمیان انھوں نے ریسی ٹیلر کا ذکر چھیڑا جسے سنہ 1944 میں چھ سفید فام مردوں نے اغوا کیا اور ان کا ریپ کیا۔

خیال رہے سنہ 1980 کی دہائی میں رونالڈ ریگن نے اپنی بات رکھنے کے لیے اپنے خطابات کے دوران اپنے زندگی کے ذاتی ہیروز کی کہانی کہہ کر اپنی بات کو مؤثر بناتے تھے اور یہ سیاسی تقاریر میں خطابت کا ایک اہم طریقہ رہا ہے جس پر ونفری بھی پوری اترتی ہیں۔

عمل کی دعوت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر ٹرمپ نے جب سنہ 2016 میں اپنی صدارتی مہم کا آغاز کیا تو انھوں نے امریکی سیاست کا رخ بدل دیا

انھوں نے کہا: 'میں یہاں موجود تمام لڑکیوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ افق پر ایک نیا دن نکلنے کو ہے۔ اور جب بالآخر نیا دن نکلے گا تو اس کا سبب بہت سی شاندار خواتین ہوں گی جن میں سے کئی یہاں آج رات اس کمرے میں اور بعض بہت اچھے مرد ہیں جو اس بات کی یقین دہانی کرانے کے لیے برسرپیکار ہیں کہ وہ ہمیں ایک ایسے زمانے میں لے جائیں جہاں پھر سے کسی کو 'می ٹو' نہ کہنا پڑے۔'

ہر ایک مہم کو حسب حال نعروں کی ضرورت ہوتی ہے اور ونفری کا 'ایک نیا دن افق پر آنے کو ہے' ان میں سے ایک ہے۔ ایسا ہی ایک نعرہ 'چمکدار صبح کے لیے' تھا جو انھوں نےاس سے ایک جملہ پہلے کہا تھا۔

آپ ان کی تقریر دوبارہ سنیں اور اس بار آواز بند کر کے سنیں اور اس بات پر غور کریں کہ ناظرین میں بیٹھے مشاہیر ان کے ایک ایک لفظ کو کس طرح لے رہے تھے۔ ونفری نے ان سے جو ربط قائم کیا بہت ممکن ہے کہ گھر میں بیٹھے بہت سے ناظرین سے بھی انھوں نے وہ رشتہ قائم کر لیا ہو۔

اسی بارے میں