’میاں، بیوی اور واہگہ‘ انڈیا جا رہا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AMNA KHESHGI

دبئی میں عموماً انڈیا اور پاکستان سے فنکار آ کر اپنے شو کرتے ہیں لیکن یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ دبئی کا کوئی اپنا مقامی اردو تھیٹر، عالمی سطح پر اپنے فن کا مظاہرہ کرے گا۔

اس بار شاید گنگا اُلٹی بہہ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’میاں، بیوی اور واہگہ‘

خالی پیٹ، تھیٹر کی پرورش

’میاں، بیوی اور واہگہ‘ گذشتہ سال دبئی کا مقبول اردو تھیڑ ڈراما تھا جو پانچ مرتبہ پیش ہوا اور ہر مرتبہ ہاوس فل رہا۔

یہ ڈراما، دبئی کے ہی مقامی جنوبی ایشیائی فنکاروں نے لکھا، ہدایت کاری کی اور پیش کیا گیا ہے۔

اس ڈرامے کی کہانی خط نویسی پر مبنی ہے، جس میں ایک انڈین شوہر اور پاکستانی بیوی کی زندگی کا احوال بتایا گیا ہے۔ کہانی، اصلی واقعات اور تجربات پر مبنی ہے۔

پلے میں سب سے انوکھا کردار واہگہ کا ہے جس میں انڈیا پاکستان کے درمیان کیھنچی سرحد کو انسانی شکل دی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AMNA KHESHGI

واہگہ، پلے میں داستان گو کا کردار ادا کر رہا ہے جو دونوں میاں بیوی کی زندگی میں پیش ہونے والے حالات کا چشم دید گواہ ہے۔

پلے کی ڈائریکٹر دھوروتی شاہ کا کہنا ہے کہ اس کہانی نے لوگوں کے ساتھ ایسا رشتہ جوڑا جو بہت کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

’ہم نے دبئی میں کُل پانچ شوز کیئے ہیں اور ہر روز نہ جانے کتنے لوگ، ہمارے پاس آے اور بتایا کہ اس پلے کا کوئی نہ کوئی خط اُن کی اپنی زندگی سے جڑا ہوا ہے۔‘

شاہ جو خود، دبئی کی جانی مانی تھیڑ ڈائیریکڑ ہیں، کہتی ہیں کہ انہیں امید ہے کہ دہلی والے بھی اس پیشکش کو اپنے دل کے قریب محسوس کریں گے۔

شاہ کو بہت فخر ہے کہ اس بار دبئی والوں کی باری ہے کہ وہ انڈین کو اردو کا ایک دلکش تھیٹر پیش کر رہے ہیں۔

’ہمیشہ ایسا ہوا ہے کہ انڈیا اور پاکستانی ناٹک والے آ کر اپنا کام، دبئی والوں کو دکھاتےتھے۔ اس بار باری ہماری ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AMNA KHESHGI

شاہ نے بتایا کہ دہلی سے اس پلے کے عالمی سفر کا آغاز ہوا ہے، اور اگلے چند ماہ میں یہ کئی اہم شہروں کا سفر کرے گا۔

’ہم نے اپنے سفر کا آغار ایسے شہر سے کیا ہے جو اردو کی جنم بھومی ہے۔ ہمیں اس بات کی بہت خوشی ہے۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ شاہ خود اردو لکھ اور پڑھ نہیں سکتیں۔ وہ آدھی گجراتی اور آدھی مراٹھی ہیں۔ ’اردو سے مجھے بہت محبت ہے۔ اس شو کو ڈائریکٹ کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ اس ناٹک نے مجھے اس زبان سے اور قریب کردیا ہے۔‘

ریحان خان، جو دبئی میں فروغ اردو کے نامور سماجی ادارہ ’بزم اردو‘ کے بانی ہیں، کہتے ہیں، زبان کسی ملک، رنگ نسل کی محتاج نہیں۔ ’ضروری نہیں اردو کو فروغ دینے والے اور چاہنے والے صرف ہندوستان اور پاکستان میں ہوں۔ اس خوبصورت زبان سے محبت کرنے والے دبئی میں بھی بہت ہیں۔ میاں بیوی اور واہگہ کی کامیابی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔‘

خان جن کا تعلق لکھنو سے ہے کہتے ہیں کہ اس پلے کی کامیابی نے اردو تھیٹر کو نئی جہت دی ہے اور اس بات کی گواہی دی کہ دبئی بہت جلد اردو کے نقشے پر اپنا مقام حاصل کرے گا۔

’اگر دبئی والے اتنا اچھا اردو پلے بنا سکتے ہیں تو ہم کو اردو کے مستقبل کی فکر چھوڑ دینی چاہیے۔ اردو کا مسقبل بہت تابناک ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AMNA KHESHGI

میاں بیوی اور واہگہ، جنوری کی 27 اور 28 کو دہلی کے India Habitat Centre میں پیش کیا جائے گا، جوکہ انڈیا میں آرٹ کلچر کے حوالے سے بہت معتبر ادارہ ہے۔

ادارے کی پروگرام انچارج، رینو اوبرائے کہتی ہیں کہ ’دہلی، دبئی کے اس مقبول شو کو تہہ دل سے خوش آمدید کہتا ہے اور امید کرتا ہے کہ یہ دلی والوں کا بھی دل جیت لے گا۔‘

’میاں بیوی اور واہگہ‘ کے تین اہم کرداروں کے علاوہ دوسرے دلچسپ کردار ڈاکیا بابو اور کورا کاغذ ہیں جو خط نویسی میں ایک اہم ستون ہیں۔

پلے کی معاون ہدایت کار شہرزاد کلیم ہیں جن کا کہنا ہے کہ اس ڈرامے کا سب سے اچھوتا پہلو یہ ہے کہ ہر فنکار نے اپنا کردار خود لکھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AMNA KHESHGI

’ہمارے پاس کوئی پروفیشنل ایکٹرز نہیں۔ سوائے دھورتی کہ، ہم سب پہلی بار تھیٹر کر رہے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے ہر آرٹسٹ اس لیے بھی اپنے کردار سے جڑا ہوا ہے کیونکہ اُس نے وہ کردار خود تخلیق کیا ہے اور لکھا ہے۔ جس کی وجہ سے ایک خاص لگاؤ پیدا ہوگیا ہے۔ اور یہ لگاؤ اور سچائی سب کو سٹیج پر نظر آتی ہے۔‘

شہرزاد خود ایک فلم ساز ہیں اور تھیٹر میں معاون ہدایت کاری پہلی بار کر رہی ہیں۔

’مجھے بہت مزا آ رہا ہے۔ فلم بنانے میں آپ کے پاس بہت موقعے آتے ہیں غلطی سدھارنے کے، مگر تھیڑ میں سب سامنے ہو رہا ہے۔ غلطی کی گنجائش کوئی نہیں اور یہی اس کا مزا ہے۔ ہم سب بہت سیکھ رہے ہیں۔‘

ڈرامے کے مرکزی مصنف اور فنکار، احتشام شاہد، آمنہ احتشام خویشگی اور محمد ماجد ہیں جبکہ معاون مصنف اور پرفارمر فراز وقار اور ماہا جمیل ہیں۔ پلے کے موسیقار اور گلوکار یوحان ڈسوزا ہیں۔ پلے کا مجموعی دورانیہ دو گھنٹہ ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ دلی میں اردو کے قدرداں، دبئی سے آئے ہوئے اس خط کا جواب کیا دیتے ہیں۔

اسی بارے میں