فلم کی ریلیز سے پہلے بالی وڈ ستارے کیا کیا کرتے ہیں

بالی وڈ فلم پدماوتی کا ایک منظر تصویر کے کاپی رائٹ VIACOM18 MOTION PICTURES
Image caption بالی وڈ فلم پدماوتی پچیس جنوری کو ریلیز ہونے جا رہی ہے

امتحان کسی بھی طرح کا ہو، نتیجے آنے سے پہلے نروس ہونا بہت عام بات ہے۔ کسی فلم کی نمائش سے پہلے فلمی ستاروں کے لیے بھی امتحان کے نتیجوں کے دن کی طرح ہوتا ہے۔

مہینوں ایک فلم پر کام کرنے کے بعد فلم کی ریلیز کا دن ایک ایسا دن ہوتا ہے جب فلم کے ستاروں اور اس کے ہدایت کاروں سمیت پوری ٹیم پر بہت دباؤ ہوتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ بیشتر بالی وڈ اداکار اپنی تسلی، دل کے سکون اور فلم کی کامیابی کے لیے کیا جتن کرتے ہیں؟

سوشل میڈیا پر بالی وڈ اداکارہ دیپکا پادوکون کی ممبئی کے سدھی ونایک مندر کی تصاویر خوب دیکھی جا رہی ہیں۔ آخر کار ان کی فلم پدماوتی کو ریلیز کیے جانے کی اجازت مل گئی ہے اور 25 جنوری کو فلم ریلیز ہونے جا رہی ہے۔ لیکن یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ دیپکا فلم کی ریلیز سے پہلی سدھی وینایک میں دیکھی گئی ہوں۔

اپنی ہر فلم کے ریلیز ہونے سے پہلے وہ سدھی ونایک مندر ضرور جاتی ہیں۔ صرف دیپکا ہی نہیں بالی وڈ کے شہنشاہ کہے جانے والے امیتابھ بچن اور ان کی بہو ایشوریا رائے بھی اپنی فلموں کے ریلیز کے قریب ممبئی کے سدھی وینایک مندر پوجا کرنے جاتی ہیں۔

اسی طرح اداکارہ کٹرینا کیف اپنی سبھی فلموں کے ریلیز ہونے سے پہلے انڈین ریاست راجستھان کے اجمیر شہر میں واقع خواجہ موئن الدین چشتی کی درگاہ جانا نہیں بھولتی ہیں۔ لگتا ہے ان کا عقیدہ ہے کہ درگاہ پر دعا مانگنے سے فلم کو کامیابی میں مدد حاصل ہو سکتی ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایسا وہ صرف اپنے سکون کے لیے کرتی ہوں۔

ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے دوسرے طریقے

حالانکہ ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے لیے کئی فلمی ہستیاں دوسرے طریقے بھی اختیار کرتی ہیں۔

انڈین فلم ’گینگز آف واسیپر‘ کے ہدایت کار انوراگ کشیپ کی حال ہی میں فلم ’مکا باز‘ ریلیز ہوئی۔ لیکن فلم کی ریلیز سے پہلے ہی انہوں نے اپنی ایک اور نئی فلم ’سیکریٹ گیمز‘ کی شوٹنگ میں خود کو مصروف کر لیا۔ ان کے مطابق ایسا کرنے سے انہیں ذہنی دباؤ سے نمٹنے میں مدد ملتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ RAINDROP MEDIA

انوراگ نے بی بی سی کو بتایاکہ 'ابتدائی دنوں میں جب میں فلم کا بہت انتظار کرتا تھا اور بعد میں فلم کسی وجہ سے رک جاتی تھی، جیسے فلم بلیک فرائڈے اور پانچ، تو پھر میں بہت پریشان ہو جاتا تھا۔ اب میں ریلیز کے وقت اپنے آپ کو اتنا مصروف کر لیتا ہوں کہ اس بارے میں سوچنے کا وقت ہی نا ملے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ فم کی ریلیز کے دن اپنا فون تک بند کر دیتے ہیں۔ انوراگ نے کہا کہ ’اس وقت میں یہ نہیں جاننا چاہتا ہوں کہ لوگ فلم کے بارے میں اچھا کہہ رہے ہیں یا برا۔ اگلے ہفتے اتوار کے بعد ہی دیکھتا ہوں کہ کیا ہو رہا ہے۔ کوئی اور کام نہ ہو تو چھٹی پر نکل جاتا ہوں تاکہ اس ذہنی دباؤ سے دور رہوں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ RAINDROP MEDIA

انوراگ نے کہا کہ 'مجھے بہت پہلے سمجھ آ گیا تھا کہ فلموں کا بازار مجھے سمجھ ہی نہیں آتا ہے۔ جو فلمیں مجھے اچھی لگتی ہیں وہ اکثر نہیں چلتی ہیں اور جو بہت خراب لگتی ہیں وہ بہت چل جاتی ہیں۔'

فلم گینز آف واسے پر اور کہانی سے مقبول ہونے والے اداکار نواز الدین صدیقی کہتے ہیں کہ وہ سائنس کے طالب علم رہے ہیں اس لیے ان کا کسی طرح کی توہمات پر یقین نہیں ہے۔ ان کے لیے ان کا کام اپنے کردار پر توجہ دینا ہے نہ کہ فلم کی ریلیز کے بارے میں پریشان ہونا۔ ایک فلم ختم کر کے وہ اگلی کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔ وہ صرف اپنے کام پر غور کرتے ہیں باقی فکر پروڈیوسروں پر چھوڑ دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نواز الدین صدیقی فلم کی ریلیز کے بارے میں پریشان ہونے کے بجائے اپنے کردار پر محنت کرنا زیادہ ضروری سمجھتے ہیں۔

بالی وڈ ادار بومن ایرانی کا خیال ہے کہ فلم کی کامیابی کے بارے میں سوچنا فلم سائن کرنے سے پہلے اور فلم کی شوٹنگ کو دوران اہم ہوتا ہے۔ انہوں نے بی بی سی سے کہا کہ پوری محنت اور ایمان داری سے فلم میں کام کرنا چاہیے اور اس کے بعد تو آپ جتنی بھی دعائیں کریں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ فرق صرف محنت سے پڑتا ہے۔

بومن ایرانی نے بتایا کہ 'مجھے لگتا ہے کہ آج کے دور میں مارکیٹنگ اور فلم کے پروموشن پر بہت دھیان دیا جاتا ہے۔ حالانکہ پروموشن بہت ضروری بھی ہے اور اس میں کوئی غلط بات نہیں ہے لیکن اس میں بہت تھکان ہو جاتی ہے۔ بہت سے لوگ مندروں اور درگاہوں پر جاتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ انہیں ایسا کرنے میں سکون ملتا ہو گا۔ میں پریمیئر پر ہونے والی پوجا میں ضرور شریک ہوتا ہوں۔ اس سے مجھے بھی سکون ملتا ہے۔ لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ فلم کا نصیب اسی دن طے ہو جاتا ہے جب آپ اپنا آخری شاٹ دیتے ہیں۔'

جلد ہی اکشے کمار کی فلم ’پیڈمین‘ بھی ریلیز ہونے جا رہی ہے جس کا وہ ان دنوں خوب پروموشن کر رہے ہیں۔ لیکن اکشے کے بارے میں یہ شائع ہوتا رہا ہے کہ وہ اپنی فلموں کی ریلیز کے موقع پر ملک سے باہر چلے جاتے ہیں۔ اکشے کو لگتا ہے کہ فلم کی ریلیز کے وقت ان کی موجودگی سے اس کی کامیابی متاثر ہو سکتی ہے۔ حالانکہ اس بارے میں ان کی طرف سے تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں