پدماوت: فرسودہ رسم کی رومانوی پیشکش

دیپکا نے پدماوتی کا کردار ادا کیا ہے تصویر کے کاپی رائٹ DEEPIKA PADUKONE, TWITTER
Image caption دیپکا پڈوکون نے فلم میں پدماوتی کا کردار ادا کیا ہے

’چتوڑ کے آنگن میں ایک اور لڑائی ہو گی جو کبھی کسی نے نہ دیکھی ہوگی نہ سنی ہوگی اور وہ لڑائی ہم شترانیاں لڑیں گی۔‘

یہ جملہ کہتی ہیں ’رانی پدماوتی۔‘ یہ سنجے لیلا بھنسالی کی فلم ’پدماوت‘ کا ڈائیلاگ ہے جو کہ بہت سارے مسئلوں اور جھمیلوں کے بعد آخر کار سینیما گھروں میں لگی ہوئی ہے۔ سیاسی معاملات کو ایک جانب رکھ بھی دیا جائے تو یقیناً ہندوستان کا ہر فرد اس بات کا قائل ہوگا کہ ہندی سینما میں سنجے لیلا بھنسالی ایک باکمال ہدایتکار ہیں۔

ان کی گذشتہ فلمیں، جیسے ’گولیوں کی راس لیلا رام لیلا‘ اور ’باجی راؤ مستانی‘ بھی اس خطے کے سینیما کے پردہ پہ چڑھنے والی حسین ترین فلموں میں سے ہوں گی۔ کوئی شبہ نہیں کہ پدماوت بھی ایک خوبصورت شاہکار ہے۔ لیکن اس شاہکار میں کئی سوالات ہیں اور مزید رنجشیں ہیں، جو بیان کرنا ضروری ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

متنازع فلم ’پدماوت‘ کی ریلیز، سکولوں میں چھٹی

پدماوتی میں کیا کیا نہیں ہے

کیا رانی پدماوتی کا کردار حقیقی ہے

یہ کہانی ہے سنگھل کے جنگل کی ایک رانی پدماوتی کی، جو کردار دیپیکا پادکون نے خوبصورتی سے نبھایا ہے۔ ان کے حسن اور گن کے متوالے مہاراجہ رتن سنگھ، رانی پدماوتی کو سنگھل سے اپنی دوسری رانی بنا کے لاتے ہیں۔ رانی پدماوتی راجپوتوں کی شان بن جاتی ہیں اور شاہد کپور جو کہ مہاراجہ رتن سنگھ کا کردار نبھاتے نظر آتے ہیں، دیپیکا کے حسین ترین اوتار کے سامنے اپنے تئیں اپنا لوہا خوب منواتے نظر آتے ہیں۔

بحیثیت راجہ رتن سنگھ وہ اپنے یکطرفہ کردار کو ایک خوبصورت گہرائی دیتے ہیں جو شاہد جیسا اداکار ہی بخوبی دے سکتا ہے۔ رانی پدماوتی کا کردار دیپیکا پڈوکون ادا کر رہی ہیں جو ایک باصلاحیت اداکارہ ہیں۔ رانی پدماوتی ہرن کا شکار کرتی ہیں اور گو کہ بہت دلیر ہیں مگر جیسے ہی رتن سنگھ ان کو مہارانی بنانے کی پیشکش کرتے ہیں، رانی پدماوتی پرانی انڈو-پاک کی فلموں کی ہیروئن کی طرح زور زور سے سانس لینا شروع کر دیتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ VIACOM18 MOTION PICTURES
Image caption بادشاہ خلجی کا کردار رنویر کپور نے نبھایا ہے

فلم میں رنویر سنگھ کا کردار ادا کر رہے ہیں علاؤالدین خلجی کا، جو کہ ایک مسلمان جنگجو ہیں۔ رنویر ایک بہت محنت کش اور خوبرو اداکار ہیں جنھوں نے فلم ’باجی راؤ مستانی‘ میں باجی راؤ بلاد کا کردار بہت شاندار طریقے سے نبھایا تھا البتہ بطور خلجی ان کے کردار کو محض ایک جنگلی شخص سے زیادہ گہرائی فراہم نہیں کی گئی۔ لہٰذا ان کا کردار باجی راؤ کا ایک جنگلی ورژن دکھائی دیتا ہے۔

فلم پدماوت میں نیلی آنکھوں اور لمبے بالوں والے خلجی، مشہور ڈرامہ سیریل گیم آف تھرونز کے کردار کھال ڈروگو کی طرح رنویر کچا گوشت کھا رہے ہیں۔ گو کہ مسلمان گوشت خور ہیں اور ہندو راجپوت سبزی خور، بحیثیت مسلمان میں غیر مطلع لوگوں کو آگاہ کرنا چاہتی ہوں کہ گوشت پکانے کا سلسلہ مسلمانوں میں خاصا پرانا اور رچا بسا ہے۔ مگر مسلمانوں کے حوالے سے دکھائے جانے والے خیالات اور واقعات میں یہ ایک چھوٹا سا نمونہ ہے۔

فلم میں خلجی کا کردار ایک بدکردار، بددماغ، خبطی انسان کا ہے۔ بیوی سے لے کے چچا تک، وہ سب سے انتہائی برے انداز سے پیش آتا ہے اور اپنے غلام کے ساتھ (جو کردار جم ساربھ نے بہت خوبی سے ادا کیا) بھی ایک کافی استحصالی رویہ رکھتا ہے۔

خلجی اور رتن سنگھ کے درمیان کردار نگاری میں واضح تعصب دکھتا ہے۔ خلجی کُشتی کے بادشاہ ہیں اور رتن سنگھ ہولی اور دیوالی کے شہنشاہ۔ ایک طرف بہادر راجپوت اور دوسری طرف جنگجو مسلمان۔ دونوں کے مابین تصادم جنگ کی اصلی شکل دکھانے سے اس لیے قاصر ہے کیونکہ جنگ دونوں لڑ رہے ہیں مگر سنجے لیلا بھنسالی کے مطابق اخلاقی فتح راجپوت راجہ کی ہے کیونکہ خلجی نہ قول کا پکا ہے اور نہ اصول کا۔

گو کہ فلم آرٹ کا ایک خوبصورت نمونہ ہے، جواہرات، ملبوسات اور تصور نگاری میں ہندو پاک سینیما میں سنجے لیلا بھنسالی کا کوئی ثانی نہیں، مگر فلم ایک بہت ناقابل قبول اور نقصان دہ روایت کو ایک عظیم عمل بنا کے پیش کر رہی ہے۔ رانی پدماوتی چتوڑ محل کی کئی خواتین اور بچیوں سمیت، قابض خلجی سے بچنے کے لیے، آگ میں کود جاتی ہیں۔ فلم میں راجپوت آبرو کو بچانا اتنا ضروری تھا کہ خواتین کا زندہ جل جانا زیادہ گوارا گزرا۔

تصویر کے کاپی رائٹ VIACOM18 MOTION PICTURES
Image caption یہ فلم 14 صدی عیسوی کی ایک ہندو ملکہ اور ایک مسلمان حکمران کی کہانی بیان کرتی ہے

فلم میں ایک لمحے کو راجپوتوں میں اس بات پہ کھلبلی مچتی ہے کہ خلجی رانی پدماوتی کو دیکھنا چاہتا ہے اور رانی صاحبہ اس بات سے سہمت ہوتی ہیں کیونکہ اس سے کئی جانیں بچ سکتی ہیں۔

محبت اور عزت کا یہ عالم ہے کہ خواتین انسان نہیں بلکہ سمندری موتی ہیں جن کو گلے میں پرویا جا سکتا ہے، سنبھال کے رکھا جا سکتا ہے مگر نہ ان کے اندر موجود ہنر کو استعمال نہیں کیا جا سکتا (پدماوتی تیر اندازی کا شوق رکھتی تھیں، مگر وہ شوق گھومر کے آگے سبقت نہ لے سکا) اور نہ ان سے کسی ذہنی ’جوہر‘ کی امید رکھی جا سکتی ہے۔ ہاں البتہ ان کو زندہ جلنے کی اجازت ضرور دی جا سکتی ہے کیونکہ بقول پدماوتی ’ہم تو آپ کی مرضی کے بغیر مر بھی نہیں سکتے۔‘

یہ فلم ایک فنکارانہ جوہر ضرور ہے جس کو اس کے پورے نمبر دیے جا سکتے ہیں مگر سالوں پرانی فرسودہ رسموں کو عظیم اور رومانوی دکھانے کی ایک افسوس ناک اور مایوس کن کوشش ہے جس کی بنا پہ یہ تمام نمبر اس سے واپس بھی لیے جاتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں