تصاویر: ہٹلر، امریکی صدور اور مہاراجاؤں کی ’گاڑیاں‘

انڈیا کی ریاست بہار کے شہر پٹنہ کے رہائشی آصف وصی کے پاس پرانے زمانے کی کاروں کے علاوہ سائیکل اور بائیک کے بھی کئی ماڈلز ہیں۔ پٹہ میں منیش شانڈلے نے کاریں جمع کرنے والے اس فنکار سے بات چیت کی۔

،تصویر کا کیپشن

آصف وصی کے پاس ہٹلر کی مرسڈیز بینز جیسی کار کا ماڈل بھی ہے۔

،تصویر کا کیپشن

یہ ہیں سنہ 1938 کے بعد امریکی صدور کی الگ الگ کاروں کے ڈائیکاسٹ ماڈل۔ ڈائیکاسٹ ماڈل یعنی کسی چیز کا ایسا ہی ماڈل جو دیکھنے میں تو کھلونے جیسا ہوتا ہے مگر یہ محض کھلونا نہیں ہوتا۔ یہ ماڈل اصل چیز کے چھوٹے روپ ہوتے ہیں اور انہی باریکیوں سے مزین ہوتا ہے۔

،تصویر کا کیپشن

1820 میں بنے پہلی سائیکل کا ماڈل۔ آصف وصی کے پاس گذشتہ کئی ادوار کی سائیکلوں کے ماڈلز ہیں۔ ان ماڈل کو دیکھنے کے بعد سائیکلوں کی کہانی آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے۔

،تصویر کا کیپشن

دنیا کی پہلی چار پہیوں والی گاڑی۔

،تصویر کا کیپشن

آصف کی اس کلیکشن کی بات کریں تو موٹر بائیکس میں ان کے پاس بی ایم ڈبلیو، ہارلے ڈیویسن، ڈکاٹی اور ہونڈا کے ماڈلز ہیں۔ ان کے پاس بی ایم ڈبلیو کا وہ ماڈل بھی ہے جس کا استعمال اداکار عامر خان نے فلم سیریز ’دھوم‘ کی ایک فلم میں کیا تھا۔

،تصویر کا کیپشن

1936 کا مرسیڈز کمپنی کا وہ ماڈل جسے کمپنی نے خاص طور پر اندور کے مہاراجہ یشونت راؤ ہولکر کے لیے بنایا تھا۔

،تصویر کا کیپشن

آصف وصی نے اپنی کلیکشن کے لیے تمام معلومات انٹرنیٹ سے حاصل کیں۔ 50 سالہ آصف کے پاس لگ بھگ 800 ایسے ماڈلز ہیں جن میں تقریباً 500 کاروں کے ماڈل اور 300 سائیکلوں اور بائیکس کے ماڈل ہیں۔