عامر خان نے رانی مکھرجی سے معافی کیوں مانگی تھی؟

رانی مکھرجی تصویر کے کاپی رائٹ YRF PR
Image caption فلم میں رانی مکھرجی ایک ایسی استاد کا کردار ادا کر رہی ہیں جسے بات کرتے ہوئے ہچکی آتی ہے

انڈیا کی معروف اداکارہ رانی مکھرجی کی بڑے پردے پر تقریباً چار سال کے بعد فلم ’ہچکی‘ کے ساتھ واپسی ہو رہی ہے۔

اس فلمی صنعت میں اپنے ابتدائی دنوں میں اپنی مخصوص آواز کی وجہ سے انھیں مشکلات کا سامنا رہا تھا۔

رانی مکھرجی نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے ابتدا میں پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں بتایا اور کہا کہ آج ان کی آواز اپنی شناخت رکھتی ہے لیکن ایک وقت تھا جب فلم سازوں کا خیال تھا کہ ان کی آواز ایک اداکارہ کے لیے بہت موزوں نہیں ہے۔

فلم ’غلام‘ کا قصہ سناتے ہوئے رانی مکھرجی نے بتایا کی اس فلم میں عامر خان، ہدایتکار وکرم بھٹ اور فلم ساز مکیش بھٹ کا خیال تھا کہ ان کی اصل آواز کردار کو زیب نہیں دیتی اس لیے ان کے کردار کی آواز ڈب کروائی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

٭ ’فواد کا نام شامل کر لو اور پھر بتاؤ کہ کون پسند ہے؟‘

٭ بالی وڈ اداکارائیں:’یہ دل مانگے اور‘

وہ اس وقت ’غلام‘ کے ساتھ کرن جوہر کی فلم ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ میں بھی کام کر رہی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AVINASH GOWARIKAR
Image caption رانی مکھرجی نے تینوں خانوں یعنی سلمان، شاہ رخ اور عامر خان کے ساتھ کام کیا ہے

تاہم کرن نے رانی سے کہا کہ جب ان کی پہلی فلم انھی کی آواز میں تھی تو وہ اپنی فلم میں بھی رانی کی اصل آواز ہی رکھیں گے۔ رانی مکھرجی کی پہلی فلم بنگالی زبان میں ریلیز ہوئی تھی۔

رانی مکھر جی نے بتایا: ’کرن نئے ڈائریکٹر تھے وہ میرے کردار کی آواز کسی اور سے ڈب کروا سکتے تھے لیکن انھوں نے مجھ پر اعتماد ظاہر کیا اور کہا کی میری آواز میری روح ہے۔ ان کا مجھ پر اعتماد مستقبل میں میرے لیے حوصلے کا باعث بنا۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ دیکھنے کے بعد عامر خان نے مجھے فون کیا اور مجھ سے معافی مانگی اور کہا کہ مجھے یقین نہیں تھا کہ تمہاری آواز فلم کے لیے موزوں ہے لیکن فلم دیکھنے کے بعد میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں۔ تمہاری آواز اچھی ہے۔‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
بالی وڈ راؤنڈ اپ: رانی مکھر جی کی ’ہچکی‘ اور شاہ رخ کا ڈرامہ

آواز کے علاوہ رانی مکھرجی کے لیے ان کا چھوٹا قد بھی پریشانی کا باعث تھا لیکن خوش قسمتی سے انھوں نے سلمان خان، شاہ رخ خان اور عامر خان کے ساتھ کام کیا جہاں ان کے قد پر کبھی سوال نہیں کیا گيا۔

رانی مکھرجی نے اپنے فلمی سفر میں کئی بڑے ڈائریکٹرز، پروڈیوسرز اور اداکاروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملنے پر خوشی کا اظہار کیا۔

شوہر نے فلموں میں واپسی پر زور دیا

سینیما سکرین پر واپسی کے بارے میں رانی مکھرجی نے بتایا کہ وہ واپسی کے لیے مزید دو تین سال لینا چاہتی تھیں کیونکہ ان کے لیے ان کی دو سالہ بیٹی ادیرا سب سے اہم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ YRF PR
Image caption رانی مکھرجی کے لیے ان کا قد بھی ابتدا میں مشکل کا سبب تھا

رانی کے مطابق ان کی زندگی بیٹی کی وجہ سے بہت مصروف ہو گئی تھی لہٰذا ان کے شوہر پروڈیوسر ڈائریکٹر آدیتہ چوپڑا نے ان پر فلموں میں واپس آنے کے لیے دباؤ ڈالا۔

فلم ’ہچکی‘ میں رانی ایک ایسی ٹیچر کا کردار نبھا رہی ہیں جنھیں ٹاریٹ سنڈروم ہے۔

اس مرض میں مبتلا شخص نے اپنے جذبات کے اظہار کے لیے ہکلانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ فلم میں رانی کو بات کرتے ہوئے ہچکیاں آتی ہیں۔

اس فلم کی کہانی لوگوں کو تحریک دینے والے معروف امریکی مقرر برینڈ کوہن سے متاثر ہے۔

سدھارتھ پی ملہوترا کی ہدایت میں بننے والی یہ فلم 23 مارچ کو ریلیز ہو رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں