لاطینی امریکہ: پہلا پیار پیرو سے

Image caption پیرو کے دارالحکومت لیما کے ایک باغ میں رواتی لباس پہنے ہوئے ایک جوڑا

جنوبی امریکہ کے ملک پیرو کے دارالحکومت لیما کی سیر کے دوران ایک دن ایک پاکستانی فرید صدیقی سے ملاقات ہوئی۔ کراچی کے رہنے والے صاحب بہت ملنسار ہیں اور لیما میں کئی برسوں سے کاروبار کر رہے ہیں۔ وہ پاکستان اور پیرو پر چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا ہیں اور آپ کے بولنے سے پہلے ہی وہ آپ کو آپ کے اس سوال کا جواب بھی دے دیتے ہیں جو آپ نے ابھی پوچھا ہی نہیں۔ انھوں نے اصرار کیا کہ ہم ان کے ساتھ کھانا بھی کھائیں جس کا انھوں نے ایک ریسٹورانٹ میں نہایت پرتکلف اہتمام کیا۔

کھانے کے دوران جب میں نے ان سے پوچھا کہ یہاں دنیا کے دوسرے کونے پیرو کیسے پہنچے اور اس جگہ کام کرنا کیسا لگتا ہے جہاں زبان بھی ہسپانوی ہے اور پاکستان کجا جنوبی ایشیا کے لوگ بھی نظر نہیں آتے۔ تو ان کا جواب بہت سادہ تھا۔ 'بھائی یہ بھی پاکستان جیسا ہے۔ یہاں آپ جو چاہے تعلقات اور پیسے سے کروا سکتے ہیں۔‘ جب میں نے کچھ حیرت کا اظہار کیا تو انھوں نے کہا کہ میرا تجربہ یہ ہے کہ دنیا میں جو ملک بھی انگریزی کے لفظ 'پی' سے شروع ہوتا ہے وہ کرپٹ ہوتا ہے اور وہاں کام کروانا آسان ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہی چکر ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان ممالک کی لسٹ گنوا دی جن کے نام پی سے شروع ہوتے ہیں۔

پاکستان، پیرو، پاناما، فلپائن اور فلسطین (جو انگریزی میں پی سے شروع ہوتے ہیں)، اور پولینڈ وغیرہ۔ کچھ اور ممالک کے نام بھی تھے جو انھیں یاد نہیں آئے۔

Image caption پیرو کے کھانے دنیا بھر میں مقبول ہیں

یہ تھا میرا پیرو سے پہلا تعارف۔ لیکن اس کے بعد جوں جوں پیرو مجھ پر کھلتا گیا میں اس کے عشق میں گرفتار ہوتا چلا گیا۔

نئے پیروویئن دوست بھی بنے۔ ان میں نِک اور نیلا سرِ فہرست ہیں۔ نہایت ملنسار اور سادہ۔ پہلے ہی دن انھوں نے اپنے گھر میں مجھے دوپہر کا کھانا کھلایا جہاں میرا تعارف کورن یعنی چھلی کے جوس اور پیرو کی 'شان' اِنکا کولا سے ہوا۔ اس دن یہ بھی آشکار ہوا کہ یہاں کے لوگوں کی زندگیوں میں چھلی کی ایک اہم حیثیت ہے۔ آپ جہاں بھی جائیں آپ کے سامنے جو سب سے پہلے چیز رکھی جاتی ہے وہ چھلی کے بھنے ہوئے دانے ہوتے ہیں۔ اور یہاں چھلیوں کے بھی درجنوں رنگ ہیں جن میں گہرا جامنی بہت مقبول ہے۔ اِنکا کولا یہاں کا کوکا کولا ہے لیکن ذائقے میں اس سے بہت مختلف۔ کیونکہ پیرو کی تہذیب 'اِنکا' ہے اس لیے یہاں آپ کو متعدد چیزوں میں 'اِنکا' رنگ ہی نظر آئے گا۔

پیرو کے دارالحکومت لیما کی سب سے خاص بات اس کی بد مست ٹریفک ہے اور مجھے تو اس سے ہی پاکستان کی یاد آنے لگی۔ جہاں دیکھیں ٹریفک بلاک، پندرہ منٹ کا سفر دو گھنٹے میں۔ اگر آپ لندن سے گئے ہیں تو آپ کو ٹیوب یاد آتی ہے اور اگر آپ لاہور سے وہاں پہنچے ہیں تو آپ کو میٹرو بس تو ملے گی لیکن اس پر بھی لمبی لمبی قطاریں۔ آپ اگر بس کے اندر پہنچ بھی گئے تو دھکے لگ لگ کر آپ کا سینڈوچ بن جاتا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے جیسے میرا پیٹ دو تین انچ اندر چلا گیا ہے۔

Image caption لیما کا ایک روایتی گھر، یہاں رنگوں کا استعمال بہت کیا جاتا ہے

پیرو دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں سب سے زیادہ چاندی پائی جاتی ہے۔ اس لیے یہاں آپ کو چاندی کی بہت زیادہ اشیا دکھائیں دیں گی۔ پیرو کو امیر اور غریب ممالک کے درمیان میں کہیں رکھا جا سکتا ہے۔ ملک اقتصادی طور پر تو بہتر ہے لیکن یہاں امیر غریب کا فرق بہت واضع ہے۔ اور اس کا مظاہرہ سب سے زیادہ لیما میں دکھائی دیتا ہے جہاں پورے ملک سے لوگ آ کر بستے جا رہے ہیں اور شہر کے اطراف میں آپ کو سینکڑوں کچی آبادیاں نظر آتی ہیں جہاں کا سب سے بڑا مسئلہ پانی ہے۔

سمندر کے ساتھ بسا ہوا یہ شہر صحرا کی طرف بڑھتا جا رہا ہے۔ سورج کی کرنوں کی طرح زرد رنگ کی ریت کے ٹیلوں میں مکان ہی مکان۔ پھر ریت اور پھر مکان۔ دور تک حدِ نظر یہی مناظر۔ انھیں میں لیما شہر کے قریب ہی پاکاکامک کے کھنڈرات بھی شامل ہیں جو بتاتے ہیں کہ کبھی یہاں بھرپور زندگی پائی جاتی تھی۔

پیرو میں ہوں تو سب سے پہلی چیز جو ذہن میں آتی ہے وہ ماچو پیچو کے رومانوی کھنڈرات ہیں۔ اور اگر آپ نے یہ نہیں دیکھے تو سمجھیں آپ نے پیرو نہیں دیکھا۔ بدقسمتی سے جب میں پیرو پہنچا تو اس وقت وہاں بارش ہو رہی تھی اور میرے پیرو کے دوستوں نے مشورہ دیا کہ بارش میں اوپر ماچو پیچو جانا مناسب نہیں۔ تو پھر کیا کریں۔ طے یہ پایہ کہ اب لیما سے سات گھنٹے کی دوری پر ناسکا شہر چلیں اور زمین پر بنائی گئی میلوں پھیلی ہوئی ان لمبی لکیروں اور اشکال کو دیکھا جائے جنھیں ناسکا لائنز کہتے ہیں۔

Image caption ناسکا لائنز 500 سال قبلِ مسیح بنائی گئی تھیں

500 سال قبلِ مسیح بنائی گئی ان لائنوں اور اشکال کو بنانے کا مقصد کیا ہے یہ ابھی معلوم نہیں ہو سکا لیکن ماہرین کے مطابق شاید یہ کسی مذہبی روایت کا حصہ ہوں۔ کئی ایک تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ اشکال دوسری دنیا کی مخلوق نے بنائی ہیں۔ خدا بہتر جانے لیکن وہاں جا کر پتہ چلا کہ ہم پاکستانی بھی ان کے لیے دوسری دنیا کی مخلوق ہی ہیں۔

ہوا یوں کہ جب ناسکا لائنز دیکھنے کے لیے ہم نے سیسنا جہاز کی ٹکٹیں لیں (یہ لائنز پوری طرح آپ جہاز سے ہی دیکھ سکتے ہیں) تو ایجنٹ نے ہم سے پوچھا کہ آپ کہاں سے ہیں۔ جب ہم نے کہا کہ ہم پاکستانی ہیں تو وہ حیران رہ گیا۔ بولا کہ میرے بیس سالہ کیریئر میں آپ پہلے پاکستانی ہیں جو ہماری ایئر لائنز سے ناسکا لائنز دیکھنے جا رہے ہیں۔ تعجب بھی ہوا اور حیرت بھی۔ تو چلو ہم ہی ٹھہرے 'ایلیئن'۔

یہ تجربہ بھی ایک الگ ہی تجربہ تھا۔ سینکڑوں فٹ کی بلندی سے سیسنا طیارے سے زمین پر بنی اشکال دیکھنا اور سوچنا کہ یہ کیسے اور کیوں بنائی گئیں۔ بندر، وہیل، کتا، مکڑا، ہاتھ، چھپکلی، ہمنگ برڈ یا شکر خورا، کرگس، بگلا، پیلیکن اور انسان۔ اور اس کے علاوہ لمبی لمبی آڑھی ترچھی لکیریں۔ کیوں بنائی گئیں اور کیسے بنیں، اس وقت تو کوئی سیسنا یا ہیلی کاپٹر نہیں تھا جس پر بیٹھ کر ان لکیروں کو آسمان سے دیکھا جا سکتا تھا۔ واپسی پر تمام راستے یہی سوال تنگ کرتا رہا۔

Image caption پیرو میں انکا تہذیب کا بہت عرصے تک راج رہا ہے۔ اس تصویر میں ایک انکا بادشاہ نظر آ رہا ہے

پیرو کو 'گیسٹرونومی کیپیٹل آف دی ورلڈ' بھی کہتے ہیں یعنی کہ یہ بہترین کھانوں کے حوالے سے دنیا کا درالحکومت کہلاتا ہے اور یہاں کے رہائشیوں کے مطابق لوگ یہاں دور دراز سے کھانا کھانے بھی آتے ہیں۔ اور کچھ دن وہاں رہ کر معلوم ہوا کہ اس نے یہ شہرت بلا کسی وجہ کہ نہیں کمائی۔ نت نئی ڈشز اور ہر ڈش پہلی سے بہتر۔ تازہ پھل اور پھلوں کے جوس۔ میں نے اپنے ایک ہفتے کے دورانیے میں ایک مرتبہ روٹی یا ناشتے میں بریڈ نہیں کھائی۔ نہ کسی نے رکھی اور نہ مجھے اس کی طلب محسوس ہوئی۔

آپ چاہے مٹن کھائیں، مچھلی یا سبزیاں سبھی ذائقے میں ایک سے بڑھ کر ایک۔ لیکن میری پسندیدہ تو سویچے ہے جو کہ مختلف قسم کے سی فوڈ، پیاز، لیمو، لائم اور مرچوں کا مرکب ہے۔ اس کے علاوہ بیف کی ڈش لامو سلٹاڈو، کریم میں پکی مرغی اجی دے گلینا، مصالحے دار پنیر میں پکے آلو اور لاما نما جانور الپاکو کا گوشت بھی مشہور ڈشز میں شامل ہے۔

میرے پیروویئن میزبانوں نے مجھے ایک منفرد ڈش کھلانے کا وعدہ بھی کیا۔ میں نے شروع میں تو حامی بھر لی لیکن جب پوچھا کہ یہ کیا ہے تو انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ گِنی پِگ کی ڈش ہے۔ میں نے انکار میں سر ہلایا اور گِنی پِگ کے والے پہیے پر ہی دوڑتے رہنے کو ترجیح دی۔

میری اگلی منزل چلی کا دارالحکومت سینٹیاگو تھا۔ اس کا ذکر پھر کبھی سہی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں