بھارتی ماؤتھ فریشنر کمپنی نے دھوکا دیا: جیمز بانڈ اداکار کی شکایت

پان بہار اشتہار

اداکار پئیرس براسنین نے انڈین حکام کو بتایا ہے کہ انھیں ایک ماؤتھ فریشنر کمپنی نے اپنے برانڈ کی تشہیر کے حوالے سے ’دھوکا‘ دیا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اس بات کی وضاحت کریں کہ انھوں نے پان بہار کے اشتہار میں کیوں کام کیا جو تمباکو نوشی سے منسلک ہے۔

انڈیا کے ایک سینئیر اہلکار کا کہنا ہے کہ براسنین نے بتایا کہ اشوک اینڈ کو نامی کمپنی نے انھیں پان بہار کی خطرناک نوعیت کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

تمباکو نوشی پر پابندی: ملک کیسے تبدیل ہوا؟

بہار میں گٹکا اور پان مصالحے پر بھی پابندی

دہلی میں چبانے والے تمباکو پر پابندی

اشوک اینڈ کو نامی کمپنی نے اداکار کے بیان کے حوالے سے کوئی ردِ عمل نہیں دیا تاہم کمپنی نے سنہ 2016 میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کے پراڈکٹ میں تمباکو نہیں تھا۔

واضح رہے کہ انڈین قانون تمباکو کی مصنوعات سے متعلق تمام اشتہارات کو روکتا ہے۔

دہلی کے محکمۂ صحت کے ایک اہلکار ایس کے آرورا نے کہا کہ براسنین نے انڈین حکومت کو تحریری جواب میں اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ ان کا اس برانڈ سے تعلق ختم ہو چکا ہے۔

اہلکار کے مطابق براسنین نے اس بات سے بھی اتفاق کیا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی اس قسم کی مہمات کے خلاف مزید کوششوں میں مدد فراہم کریں گے۔

جیمز بانڈ فلم سیریز میں کام کرنے والے اداکار نے سنہ 2016 میں پان بہار کے اشتہار میں اپنی تصویر کے ’غیر مجاز‘ استعمال کی مذمت کی تھی۔

براسنین کی جانب سے پان بہار کے اشتہار میں کام کرنے کے بعد متعدد انڈین شہریوں نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے پوچھا تھا کہ وہ کینسر سے منسلک اس پراڈکٹ کی توثیق کیوں کر رہے ہیں؟

اداکار کی جانب سے اعتراضات کے باوجود انڈین چینلز نے اس اشتہار کو چلایا یہاں تک کہ سینیماؤں میں بھی یہ اشتہار دکھایا گیا۔

خیال رہے کہ پان بہار کو عام طور پر پان مصالحہ اور گٹکا کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔

براسنین نے پیپلز میگزین کو بتایا کہ کمپنی نے ان کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا اس کے مطابق انھیں اشتہار میں صرف ایک برانڈ کی تشہیر کرنی تھی جو ’سانس کو تازہ کرنے والا / دانت وائٹر‘ تھا اور اس میں کوئی ’تمباکو‘ یا کوئی بھی ’نقصان دہ جزو‘ شامل نہیں تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں