دلیر مہندی کو انسانی سمگلنگ کے مقدمے میں سزا

دلیر مہندی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دلیر مہندی 1990 کی دہائی کے اواخر میں اپنے پاپ گانوں کی وجہ سے شہرت کی بلندیوں پر تھے

انڈیا کی ریاست پنجاب کے ضلع پٹیالہ میں عدالت نے مشہور پنجابی گلوکار دلیر مہندی کو انسانی سمگلنگ کے ایک مقدمے میں دو برس قید کی سزا سنائی ہے۔

تاہم عدالت نے ان کی درخواستِ ضمانت بھی قبول کر لی ہے۔

انسانی سمگلنگ کا یہ مقدمہ سنہ 2003 کا ہے اور دلیر مہندی اور اور ان کے بھائی شمشیر سنگھ پر الزام تھا کہ سنہ 1998 اور سنہ 1999 میں وہ لوگوں کو رقم کے عوض اپنے طائفے کا حصہ بنا کر بیرونِ ملک لے جاتے رہے اور یہ افراد وہاں سے واپس نہیں آئے۔

استغاثہ کے مطابق وہ دس افراد کو اس طریقے سے امریکہ لے کر گئے جو کہ وہیں رہ گئے۔

مقامی صحافی آر جے ایس اجلا نے بی بی سی پنجابی کو بتایا ہے کہ عدالت نے دلیر مہندی کو دو سال کی سزا کے علاوہ جرمانہ بھی کیا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
دلیر مہندی اور ان کے بھائی پر انسانی سمگلنگ کا الزام تھا

ان کا کہنا تھا کہ سزا سنائے جانے کے بعد، دلیر مہندی کو فوری طور پر حراست میں لیا گیا لیکن عدالت نے انھیں ضمانت دے دی کیونکہ سزا کا دورانیہ تین سال سے کم تھا۔

فیصلے کے بعد عدالت کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دلیر مہندی کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے ضمانت مل گئی ہے۔ ہم اب ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے۔‘

خیال رہے کہ دلیر مہندی 1990 کی دہائی کے اواخر میں اپنے پاپ گانوں کی وجہ سے شہرت کی بلندیوں پر تھے اور ان کے کئی گانے جیسے کہ ’بولو تارا را‘ اور ’تنک تنک تن‘ سپر ہٹ تھے۔

متعلقہ عنوانات