بالی وڈ میں کام کرنا کبھی میرا مقصد نہیں رہا: ماہرہ خان

ماہرہ خان

پاکستان کی مایہ ناز اداکارہ ماہرہ خان نے بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں اپنے بارے میں بننے والے سکینڈلز کے بارے میں بات کی۔

یاد رہے کہ حال ہی میں ماہرہ خان اور بالی وڈ کے مشہور اداکار رنبیر کپور کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جن میں ماہرہ خان رنبیر کے ساتھ سگریٹ نوشی کرتی ہوئی دکھائی دیں۔

ہارڈ ٹاک پر بات کرتے ہوئے ماہرہ نے کہا کہ سگریٹ نوشی کرتی ہوئی تصاویر ان کے کریئر میں پہلا موقع تھا جب ان کو سکینڈل کا سامنا کرنا پڑا۔

’یہ بہت عجیب تھا کیونکہ اس کے کئی پہلو تھے۔ ایک تو یہ آپ کو تکلیف ہوتی ہے کیونکہ آپ اپنے انداز میں اپنی چھٹیاں منا رہے ہیں اور کوئی آپ کی تصویر کھینچتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ ایک طرف میں پاکستان کی وہ شخصیت ہوں جسے پاکستان میں بے حد پیار ملتا ہے اور دوسری طرف پاکستانی مجھے کچھ کرتے دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ اور مجھے اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہوا۔ یہ ایک قومی ایشو بن گیا اور کافی عرصے تک اس پر بحث ہوتی رہی یہاں تک کہ ٹی وی پر پروگرام بھی کیے گئے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

کیا ماہرہ کبھی پاکستان چھوڑیں گیں؟

ماہرہ نے اپنی فلم ’ورنہ‘ کے حوالے سے ایک ٹویٹ کیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’اس فلم میں سب کچھ ایک فسانہ تھا کیونکہ سچائی بتانا اور دکھانا بڑا مشکل ہے۔ اور جو کچھ ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے اس کے مقابلے میں اس فلم میں جو دکھایا گیا ہے وہ کچھ بھی نہیں ہے۔ ‘

اس ٹویٹ کے بعد ان کو ٹرول کیا گیا اور یہاں تک کہا گیا کہ اگر ان کو معاشرے سے اتنا مسئلہ ہے تو پاکستان چھوڑ کر انڈیا چلی جائیں۔

ہارڈ ٹاک میں پاکستان چھوڑنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ماہرہ نے کہا کہ انھوں نے پاکستان چھوڑنے کے بارے میں نہیں سوچا۔

’میں (پاکستان) نہیں چھوڑ سکتی۔ یہ میرا گھر ہے۔ میرا ملک ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ میں ایسی کہانی بہتر طریقے سے سنا سکتی ہوں جو پاکستان اور پاکستانیوں کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ کہانیاں کون سنائے گا؟‘

’بالی وڈ میں کام کرنا کبھی میرا مقصد نہیں رہا‘

ماہرہ خان نے انٹرویو میں اپنے بالی وڈ میں کریئر کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’بالی وڈ میں کام کرنا کبھی بھی میرا مقصد نہیں تھا۔ میں بالی وڈ میں کچھ اور فلمیں کر سکتی تھی لیکن فلم رئیس کے فوراً بعد فلم ورنہ کی شوٹنگ شروع ہو گئی۔ میرا فوکس ہمیشہ ہی سے پاکستان ہی تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کو فلم رئیس کے پاکستان میں ریلیز نہ ہونے پر افسوس ہے کیونکہ وہ اپنے دوستوں، اپنے بیٹے اور تمام فلم بینوں کے ہمراہ بیٹھ کر فلم دیکھنا چاہتی تھیں۔

اسی بارے میں