فیشن کے ذریعے سیکولرازم کا پیغام

فیشن تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں جہاں مذہبی شدت پسندی اور عدم برداشت میں اضافہ ہوا ہے وہیں فیشن انڈسٹری سمیت کئی سماجی حلقے ابھی بھی اس پیغام کو عام کر رہے ہیں کہ قائداعظم کا پاکستان سیکولر پاکستان تھا۔

اس سلسلے میں کراچی میں ایک فیشن شو کیس منعقد کیا گیا جس کا مقصد فیشن کے ذریعے امن و برداشت کا درس دینا ہے۔

’کلر می سیکولر‘ کے عنوان سے ہونے والے اس شو کیس میں جنوبی ایشا کے مذاہب کے مخصوص رنگوں اور علامتوں کو ملبوسات اور جیولری کے ذریعے نمایاں کیا گیا۔

فیشن شو کیس میں شریک ڈیزائنر محسن سعید کا کہنا تھا کہ پاکستان میں عدم برداشت بڑھتی جا رہی ہے اور ایک فکر کے لوگ اپنی سوچ کو سن پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔

فیشن تصویر کے کاپی رائٹ Adnan Pardesi

’11 اگست کو محمد علی جناح کی تقریر میں یہ بات واضح ہے کہ ریاست کا مذہب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

محسن کا کہنا ہے کہ فیشن ایک علامت ہے اور ہم فیشن کے ذریعے ہی یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس علاقے میں دوسری مذہب صدیوں سے مقیم ہیں اور تمام مذاہب کے افراد کو ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔

’ہمارے ہاں سیکولر ازم کو لادینیت سے جوڑ دیا گیا ہے۔ سیکولر ازم کا مطلب یہ نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’فیشن بھی ایک طرح کا اظہار ہے معاشرتی، ثقافتی، مذہبی اور سیاسی اظہار ہے۔ ہم نے اسلام، عیسائیت، بدھ مت، ہندو مت، سکھ مذہب، پارسی کے رنگوں اور علامتوں کو فیشن شو میں نمایاں کیا۔‘

فیشن تصویر کے کاپی رائٹ Deepak & Fahad B

محسن سعید کا کہنا ہے کہ ’فیشن ہمیں آگے کہ وثرن کو دکھاتا ہے اور ملک کو اس وقت سب سے زیادہ سیکولر ازم کی ضرورت ہے۔ اس لیے اس وقت اس کی بات کرنا اور یہ پیغام پھیلانا بہت ضروری ہے۔‘

فیشن شو کیس میں ملبوسات کے ساتھ جیولری اور دیگر آرائشی مصنوعات کی نمائش بھی کی گئی۔ فیشن شو میں شریک ماڈلز نے ٹرک آرٹ کے ڈیزائن والی جیولری پہنی تھی۔

فیشن تصویر کے کاپی رائٹ The Pink Tree

یہ جیولری صائمہ حق نے ڈیزائن کی تھی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صائمہ نے کہا کہ وہ اس فیش کیس کے تھیم سے بہت متاثر ہوئیں۔ ’معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کو برداشت کریں۔‘

صائمہ کا کہنا ہے کہ اسی تھیم کو مدنظر رکھتے انھوں نے منفرد جیولری بنائی۔

صائمہ کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں پاکستان کے ٹرک آرٹ کو پہچانا جاتا ہے۔ ’ٹرک آرٹ میں تین طرح کا ہنر ہوتا ہے، رنگوں سے نقش و نگار بنانا، چمک پٹی اور ٹھوکی۔‘

فیشن تصویر کے کاپی رائٹ Zaheer Abbas

صائمہ کہتی ہیں کہ ’رنگوں سے نقش و نگار کے بارے میں تو سب جانتے ہیں لیکن چمک پٹی اور ٹھوکی کا ہنر کہیں پیچھے رہ گیا اور اسے اتنی پذیرائی نہیں ملی، جتنی ملنا چاہیے تھی۔

صائمہ حق کا کہنا ہے کہ اس نمائش میں انھوں نے چمک پٹی اور ٹھوکی کے نمونوں کی نمائش کی ہے۔

فیش شو کیس میں شریک تمام افراد نے اس منفرد تھیم کو سامنے رکھتے ہوئے ڈیزائن کیے گئے ملبوسات اور جیولری کو سراہا۔

’کلر می سیکولر‘ کے نام سے اس نمائش کو جہاں لوگوں نے سراہا وہیں اس کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس فیشن شو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ اس فیشن شو کے ذریعے ہندو ازم کو فروغ دیا جا رہا ہے کیونکہ ماڈلز نے ہندو نشان کے زیورات پہنے ہوئے ہیں۔

ایک صارف نے لکھا ’ماڈلز نے ہندو نشان اور سلیب گلے میں پہن رکھی ہے اور اس کو فیشن کا نام دیا جا رہا ہے۔‘

۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں