’خواہش ہے کہ ’منٹو‘ کی نمائش پاکستان میں بھی ہو: نندیتا داس

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption نندیتا داس، ویشال بھردواج اور ساکت چوہدری

انڈیا کی نامور اداکارہ اور ہدایت کار نندیتا داس کی خواہش ہے کہ ان کی فلم 'منٹو' کی نمائش پاکستان میں بھی ہو، کیونکہ منٹو انڈیا اور پاکستان دونوں کے ہی لکھاری تھے۔

نندیتا داس نے اس خواہش کا اظہار کراچی میں جاری بین الاقوامی فلمی میلے میں کیا، اس میلے میں ان کے ساتھ ویشال بھردواج اور ساکت چوہدری بھی شریک ہیں۔

اس تین روز فلمی میلے میں 90 ممالک سے بھیجی گئی 200 سے زائد فلموں کی نمائش کی جائے گی، جن میں بالی ووڈ کی فلم 'بھاؤ بلی' اور حال ہی میں ریلیز ہونے والی پاکستان فلم' کیک' بھی شامل ہے۔

نندیتا داس نے کراچی میں نو سال کے بعد فلمی میلے میں شرکت کی ہے، اس سے پہلے وہ کارا فلم فیسٹیول میں شریک ہوئی تھیں جس میں ان کی فلم فراق دکھائی گئی تھی۔

ان دنوں وہ سعادت حسین منٹو پر فلم کی تیاری میں مصروف ہیں، منٹو کو مشترکہ ورثہ قرار دیتے ہیں۔

'منٹو تو انڈین بھی ہیں اور پاکستانی بھی۔ وہ جنوبی ایشیا کے لکھاری ہیں، میں تو چاہتی تھی کہ یہ فلم ہم مل کر بنائیں اب چونکہ بن چکی ہے اور امید ہے کہ ایک دو ہفتوں میں تیار ہوجائےگی تو میں یہاں پاکستان ضرور لانا چاہوں گی تاکہ یہاں کے شائقین بھی دیکھیں کیونکہ یہ ان کے بھی لکھاری ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption ہم یورپ کی طرح علاقائی شناخت قائم نہیں کر پائے

پاکستان کے اداکاروں پر بھارت میں پابندی بھی اس میلے میں زیر بحث آئی، نندیتا داس کا کہنا تھا کہ انڈین موشن پکچرز پروڈیوسرز ایسو سی ایشن نے پابندی لگائی ہے جبکہ جو حقیقی پروڈیوسرز گلڈ ہے اس نے پابندی عائد نہیں کی۔

'بمبئی فلم انڈسٹری کوئی یکساں باڈی نہیں ہے، یہ ایک بہت بڑی صنعت ہے وہاں الگ الگ لوگ ہیں اور ان کے الگ الگ خیالات ہیں وہاں پر ہمیں بھی کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ وہاں کوئی ایک ہی مائینڈ سیٹ نہیں ہے۔

پاکستان اور بھارت میں فلم سازی کے علاوہ دونوں ملکوں کے تعلقات اور علاقائی شناخت پر بھی بحث مباحثے ہوا، نندیتا داس کا کہنا تھا کہ ہم یورپ کی طرح علاقائی شناخت قائم نہیں کر پائے۔

'ہم سیاسی ماحول پر بات کرنے سے کتراتے ہیں، فہمیدہ ریاض کی ایک نظم ہے جس کی پہلی لائن شاید یہ ہے کہ 'تم بلکل ہم جیسے نکلے' ہماری جمہوریت کی ایک تاریخ ہے، اس کے ساتھ سیکیولر ازم کی تاریخ ہے جبکہ آئین بہت اچھا ہے کئی ایسے چیزیں جن کو پاکستانی دوست پسند کرتے ہیں ہم جدوجہد کر رہے ہیں، یہ صحیح وقت ہے کہ ہم جنوبی ایشیائی شناخت کو پروموٹ کریں اور اس میں بنگلادیش ، سری نکا اور نیپال کو بھی شامل کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK

نندیتا داس فائر، ارتھ، فراق سمیت 40 سے زائد فلموں میں کام کرچکی ہیں جن میں زیادہ تر لوگوں کے حقیقی مسائل پر مشتمل کہانیاں ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ان کی زیادہ تر فلمیں الگ الگ زبانوں میں ہوتی ہیں، موجودہ وقت آزاد سینما کے لیے گنجائش کم ہو رہی ہے کیونکہ سب کو ہیپی اینڈنگ والی کہانی چاہیے۔

سنہ 2000 کی فلم بھوندر کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ یہ فلم ایک حقیقی کہانی پر مشتمل تھی، جس میں راجستھان میں بھانوری دیوی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی تھی تقریبا 20 سال ہوگئے ہیں وہ ابھی تک کورٹ میں مقدمہ لڑ رہی ہے اور اسے انصاف نہیں ملا۔ وہ اسی گاؤں میں بچوں کے ساتھ رہتی ہے جو اب بڑے ہوچکے ہیں، جب ہم نے یہ فلم دکھائی تو لوگوں نے کہا کہ آپ نے ہیپی اینڈنگ کیوں نہیں دکھائی۔ ہر فلم کی ہیپی اینڈنگ نہیں ہوتی۔

نندیتا داس کا کہنا تھا کہ انڈیا صرف ممبئی نہیں ہے وہاں کئی زبانیں بولی جاتی ہیں پاکستان جو فلمیں آتی ہیں وہ بالی ووڈ ہے یہاں دیگر زبانوں کی فلمیں لانے کی بھی ضرورت ہے۔