کالے ہرن کے شکار کا مقدمہ: سلمان خان ضمانت کے بعد رہا ہو کر گھر واپس

سلمان خان
،تصویر کا کیپشن

1998 میں سلمان خان نے اپنی فلم 'ہم ساتھ ساتھ ہیں' کی شوٹنگ کے دوران ساتھی اداکاروں کے ہمراہ راجھستان میں شکار کیا

انڈیا میں نایاب کالے ہرن کے غیر قانونی شکار کے مقدمے میں ضمانت منظور ہونے کے بعد بالی وڈ ادکار سلمان خان رہا ہو کر واپس ممبئی میں اپنے گھر پہنچ چکے ہیں۔

اس سے پہلے مقدمے کی سماعت کرنے والے جج کا بھی تبادلہ ہونے کے بعد سلمان خان کی ضمانت منظور کر لی گئی۔

اس وقت بھی سلمان خان کے گھر کے باہر میڈیا کے نمائندوں اور ان کے مداحوں کا ہجوم ہے۔ پولیس اس مجمعے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

سلمان خان نے اپنے گھر کی بالکونی میں آ کر مداحوں کو ہاتھ ہلا کر تسلی دی۔

اس موقعے پر سلمان خان کے ساتھ ان کے والد سلیم خان اور والدہ بھی موجود تھیں۔ ان کی بہن ارپتا بھی اپنے بیٹے کے ساتھ بالکونی میں نظر آئیں۔ سلمان خان نے اپنے بھانجے کو اٹھا کر مداحوں کو ہاتھ ہلایا۔

کچھ لمحے ٹھہرنے کے بعد سلمان خان نے مداحوں کو اشارے سے گھر جا کر سو جانے کی ہدایت کی۔

اس سے پہلے جب عدالت نے سلمان خان کی ضمانت منظور کی تو صبح سے ہی لوگوں کا ایک ہجوم عدالت کے باہر موجود تھا۔ جو انڈیا کے ہر دلعزیز اداکار کی قسمت کا فیصلہ جاننے کے منتظر تھے۔

خیال رہے کہ جمعرات عدالت نے کالے ہرن کے غیر قانونی شکار کے 20 سال پرانے اس مقدمے میں سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے پانچ سال کی ‎سزا سنائی گئی تھی اور انھیں جودھپور کی سینٹرل جیل میں رکھا گیا تھا۔

جمعے کو سلمان خان کی ضمانت کی عرضی پر سماعت مکمل نہیں ہو سکی تھی۔

نایاب کالے ہرنوں کے شکار کا واقعہ 1998 میں پیش آیا جب سلمان خان نے اپنی فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران ساتھی اداکاروں کے ہمراہ راجھستان میں شکار کیا۔ ان کے خلاف مقامی برادری نے مقدمہ درج کروایا جو اس ہرن کو مقدس قرار دیتے ہیں اور ان کا شکار غیر قانونی ہے۔

،تصویر کا کیپشن

سلمان خان کے مداحوں کی بڑی تعداد عدالت کے باہر موجود تھی

دوسری جانب جمعے کو ہی راجستھان ہائی کورٹ کی ویب سائٹ پر ڈالے جانے والے ٹرانسفر آرڈر کے مطابق جودھپور کے ڈسٹرکٹ اور سیشن جج رویندر کمار جوشی کا تبادلہ سروہی کر دیا گیا ہے اور ان کی جگہ چندرشیکھر شرما کو جودھ پور بھیجا جا رہا ہے۔

اداکار سلمان خان کے وکیل مہیش بوڑا نے بتایا کہ عدالت میں ضمانت پر بحث مکمل ہو چکی ہے۔ اور سیشن کورٹ میں انھوں نے یہ دلیل پیش کی کہ ذیلی عدالت کا جمعرات کا فیصلہ بالکل غلط ہے اور اس میں بعض گواہ ایسے پیش کیے گئے تھے جن کی گواہی ایک متعلقہ معاملے میں مسترد کر دی گئی تھی۔

ریاستی ہائی کورٹ کی ویب سائٹ پر ڈالے جانے والے آرڈر نمبر 20 میں کل 87 ججوں کے تبادلے کیے گئے ہیں جن میں رویندر کمار جوشی بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر سلمان خان اور بلیک بک پوچنگ کیس ٹرینڈ کر رہا ہے اور اس کے تحت مختلف قسم کے ٹویٹ سامنے آ رہے ہیں۔

آئی پی ایس سنجیو بھٹ کے آفیشيئل ہینڈل سے لکھا گيا: 'سلمان خان کے کالے ہرن کو مارنے پر ملنے والی سزا سے سبق:

'آپ انڈیا میں کالے ہرن، گائے اور دوسرے تحفظ یافتہ یا مقدس جانور کو مار کر بچ نہیں سکتے۔

'دلتوں، مسلمانوں، مسیحیوں۔۔۔ اور دیگر محروم اور مجبور انسانوں کا قتل بالکل مختلف معاملہ ہے۔'

اداکار شتروگھن سنہا نے لکھا: 'شام پڑھے لکھے دانشور شخص سلیم خان کے ساتھ گزاری۔ وہ ایک لائق بیٹے سلمان خان کے لائق والد ہیں۔ سلمان خان ریل اور ریئل لائف دونوں کے ہیرو ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے اور میں دعا کرتا ہوں کہ انھیں جلد از جلد اس معاملے میں راحت ملے۔'