سعودی عرب میں 35 سال بعد پہلی فلم کی ٹیسٹ سکریننگ

سعودی عرب تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سعودی عرب میں آنے والی متعدد بڑی تبدیلیوں کا کریڈٹ 32 سالہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو دیا جا رہا ہے

سعودی عرب میں آج 35 برس کے طویل وقفے کے بعد سنیما گھر کھلنے سے پہلے مشہور فلم ’بلیک پینتھر‘ کی ٹیسٹ سکریننگ کی جا رہی ہے۔

دنیا میں سنیما گھروں کی سب سے بڑی کمپنی اے ایم سی ’بلیک پینتھر‘ کی ٹیسٹ سکریننگ کرے گی جسے سعودی عرب کے سنیما گھروں میں فلم چلانے کا لائنس جاری کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں گذشتہ 35 برسوں سے سنیما گھروں پر پابندی تھی اور مملکت میں کئی دہائیوں میں کھلنے والا یہ پہلا سنیما گھر ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی عرب میں یک دم سنیما جائز کیسے ہو

سعودی عرب میں خواتین کی پہلی سائیکل ریس

35 سالہ پابندی کے بعد سعودی عرب میں پہلا سنیما

’سعودی خواتین کو عبایہ پہننے کی ضرورت نہیں‘

خواتین پہلی بار سٹیڈیم میں، ’شاندار تبدیلی اور رنگوں کا دھماکہ‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعودی حکام نے رواں ماہ کے آغاز میں دارالحکومت ریاض میں پہلا سنیما کھولنے کا اعلان کیا تھا تاہم اب حکام کا کہنا ہے کہ آج بلیک پینتھر‘ کی ٹیسٹ سکریننگ کی جائے گی۔ امید کی جا رہی ہے کہ اگلے ماہ سے عوام کے لیے سینما گھر کو کھول دیا جائے گا۔

سعودی عرب کی وزارتِ اطلاعات کے سینٹر برائے بین الاقوامی مواصلات کے مطابق ملک میں سنیما گھر کھلنے سے پہلے آج ’بلیک پینتھر‘ کی ٹیسٹ سکریننگ کی جائے گی۔

اے ایم سی انٹرٹینمینٹ کے چیف ایگزیکٹو ایڈم ایرن آج کی جانے والی ٹیسٹ سکرینگ میں شرکت کریں گے۔

خیال رہے کہ اے ایم سی نے گذشتہ سال دسمبر میں سعودی حکومت کے پبلک انویسمنٹ فنڈ کی ایک ذیلی کمپنی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت اے ایم سی آئندہ پانچ برسوں میں ملک کے 15 شہروں میں 30 سے 40 سنیما گھر کھولے گی۔

سعودی عرب میں آنے والی اس جیسی متعدد بڑی تبدیلیوں کا سہرا 32 سالہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو دیا جا رہا ہے جو روایتی طور پر ایک قدامت پسند ملک میں خود کو جدیدیت پسند کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔

گذشتہ برس سعودی عرب میں پہلی مرتبہ خواتین کو ڈرائیونگ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ سعودی عرب میں سنہ 1990 سے خواتین کے ڈرائیونگ کرنے پر پابندی عائد تھی۔

اسی بارے میں