اداکارہ نیٹلی پورٹمین نے اسرائیلی ایوارڈ لینے سے انکار کر دیا

نیٹلی پورٹمین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ہالی وڈ اداکارہ نیٹلی پورٹمین کا کہنا ہے کہ انھوں نے اسرائیلی وزیراعظم کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے کے لیے یروشلم میں ایک تقریب میں جانے سے انکار کردیا ہے جہاں انھیں 20 لاکھ ڈالر کی انعامی رقم دی جانی تھی۔

نیٹلی پورٹمین نے جمعے کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اس تقریب میں جہاں بنیامن نتن یاہو نے خطاب بھی کرنا تھا نہ جانے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ میں بنیامن نتن یاہو کی حمایت نہیں کرنا چاہتی۔‘

خیال رہے کہ جینیسز پرائز فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ کے مطابق ایوارڈ دینے کا یہ سلسلہ 2013 میں شروع ہوا تھا اور یہ ان غیر معمولی افراد کو دیا جاتا ہے جو یہودیوں کی آئندہ نسل کے لیے ’انسپریشن‘ ہوں۔

کرپشن کے الزامات، پولیس اسرائیلی وزیراعظم کے گھر پہنچ گئی

غزہ: فلسطینیوں کا پتنگوں کے ذریعے پیٹرول بموں کا استعمال

فلسطینیوں کے اسرائیل کی سرحد کے قریب مظاہرے

نیٹلی پورٹمین نے اسرائیل کے ثقافت کے وزیر کے ان الزامات کی بھی تردید کی ہے جن میں انھوں نے کہا ہے کہ نیٹلی پورٹمین اسرائیل مخلاف مہم (بی ڈی ایس) کی حمایت کر رہی ہیں۔

آسکر ایوارڈ جیتنے والی اسرائیلی نژاد امریکی اداکارہ نیٹلی پورٹمین کا کہنا تھا کہ ’میں کسی بھی بی ڈی ایس مہم کا حصہ نہیں ہوں اور نہ اس کی حمایت کرتی ہوں۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نیٹلی نے مزید کہا ہے کہ ’میں دنیا میں موجود بہت سے اسرائیلیوں اور یہودیوں کی طرح پورے ملک کا بائیکاٹ کیے بغیر اسرائیلی قیادت سے نالاں ہوں۔‘

جمعے کو جینیسز پرائز فاؤنڈیشن نے بتایا کہ نیٹلی پورٹمین نے جون کے آخر میں یروشلم میں ہونے والی اس تقریب میں شمولیت سے انکار کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

فاؤنڈیشن نے مزید بتایا ہے کہ نیٹلی پورٹمین کے ایک نمائندے نے انھیں بتایا ہے کہ امریکی اداکارہ اسرائیل میں ہونے والی ’حالیہ سرگرمیوں‘ سے پریشان ہیں اور وہ اسرائیل میں ہونے والی کسی بھی عوامی تقریب میں شمولیت سے ’بہتر محسوس نہیں کر رہیں۔‘

پورٹمین نے کہا ہے کہ ایوارڈ کی اس تقریب سے دور رہنے کے ان کے فیصلے کو ’غلط پیش کیا گیا ہے‘۔ انھوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ وہ صرف حقائق سامنے لانا چاہتی تھیں اور ’اپنے لیے بولنا چاہتی تھیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیل آج سے ٹھیک 70 سال پہلے ہالوکاسٹ کے مہاجرین کے لیے پناہ گاہ کے طور پر بنا تھا، لیکن آج ظلم کا شکار بننے والوں سے برا سلوک میری یہودی اقدار کے خلاف ہیں۔‘

’کیونکہ میں اسرائیل کے لیے فکرمند ہوں، مجھے تشدد، عدم مساوات، بدعنوانی اور طاقت کے غلط استعمال کے خلاف کھڑا ہونا ہے۔‘

نیٹلی پورٹمین نے مزید تفصیلات تو نہیں بتائیں لیکن ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو اور ان کی حکومت سے متعلق کئی تنازعات سامنے آئے ہیں۔

یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی شخصیات اس سے حاصل ہونے والی انعامی رقم اپنی مرضی کے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا حق رکھتی ہیں اور نیٹلی پورٹمین کہہ چکی ہیں کہ وہ اس انعامی رقم کو خواتین کی برابری کے منصوبوں کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں