موٹرسائیکل گرل کی اُڑان

موٹرسائیکل گرل تصویر کے کاپی رائٹ MOTORCYCLE GIRL
Image caption موٹرسائیکل گرل زینتھ عرفان کی زندگی اور خاص طور پر ان کے سب سے مشہور سفر سے متاثر ہے

2015 میں عدنان سرور نے اپنی پہلی فیچر فلم بنائی۔ اس کا نام تھا ’شاہ‘ اور وہ پاکستان کے مایہ ناز باکسر حسین شاہ کی زندگی پر مبنی تھی، جنھوں نے 1988 میں سیول (کوریا) کے اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا لیکن جنھیں بیشتر لوگ بھُلا چُکے تھے۔

’شاہ‘ کے مرکزی اداکار، لکھاری، موسیقی کے کمپوزر، ہدایتکار اور پروڈیوسر سب کچھ عدنان سرور خود ہی تھے۔ اور اگرچہ یہ فلم نہایت ہی کم پیسوں میں بنائی گئی تھی اور اس میں بہت سی تکنیکی خامیاں بھی تھیں، اس فلم نے فلم بینوں کے دل جیت لیے کیونکہ اس کی کہانی اور اس کی فلمسازی کا جذبہ لوگوں کی دلوں کو چھوُنے میں کامیاب رہا۔

لگ بھگ اُسی وقت ایک 21 سالہ لڑکی زینتھ عرفان بھی اپنا لوہا منوا رہی تھی۔ وہ لاہور سے خنجراب پاس تک موٹرسائکل پر اکیلے سفر کرنے والی پاکستان کی پہلی خاتون بن گئی تھی اور اُس کے کارنامے، جو وہ سوشل میڈیا پر شیئر کرتی رہتی تھی، دنیا بھر میں پذیرائی حاصل کر رہے تھے۔

پاکستانی فلموں پر تبصرے اور تجزیے پڑھیے

کیک کی مٹھاس

پرچی کا پرچہ

’ورنہ‘۔۔۔ سر پکڑ کر بیٹھیے

کلچر کلیش ، مردانگی اور پاکستانی سنیما کی نئی ہِٹ

’شاہ‘ کے تین سال بعد عدنان سرور نے اپنی دوسری فلم پیش کی ہے جو زینتھ عرفان کی زندگی اور خاص طور پر ان کے سب سے مشہور سفر سے متاثر ہے۔

’موٹرسائیکل گرل‘ کو دیکھ کر سمجھ میں آتا ہے کہ عدنان سرور نے یہ فلم بنانے کا کیوں سوچا۔ زینتھ کی کہانی ہے ہی کچھ اتنی مزیدار۔

زینتھ اپنی بیوہ ماں اور چھوٹے بھائی کے ساتھ رہتی ہے اور گھر میں واحد کمانے والی فرد ہے لیکن بیشتر لوگوں کی طرح ٹرانسپورٹ اُس کا سب سے بڑا دردِ سر ہے۔ آفس کی پِک اینڈ ڈراپ سروس چلانے والا وین کا ڈرائیور اکثر اوقات اس کا انتظار کیے بغیر چلا جاتا ہے اور جب وہ اُس کی وین میں سفر کرتی ہے تو وہ لچرپنے کا مظاہرہ بھی کرتا ہے۔ آخرکار تنگ آکر زینتھ اپنے بھائی سے موٹرسائیکل چلانا سیکھتی ہے اور پھر خود موٹربائیک پر دفتر آنا جانا شروع کر دیتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MOTORCYCLE GIRL
Image caption فلم میں ہیروئن لاہور سے چین کی سرحد تک کا سفر کرنے کا منصوبہ بناتی ہے

لیکن اُسے اِس پر بھی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک طرف اس کی دادی اس کے موٹرسائیکل چلانے سے ناراض ہیں تو دوسری طرف وہ ایڈورٹائزنگ ایجنسی جہاں وہ کام کرتی ہے۔ اس کے باس صاحب بھی پریشان ہیں کہ لوگ اُن کے ہاں ملازمت کرنے والی خواتین کے بارے میں کیا سوچیں گے! دفتر میں اُس کے کام کو بھی وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کی وہ حقدار ہے، صرف اس لیے کہ وہ ایک لڑکی ہے۔

ایک دن اُس کو کھڑے کھڑے نوکری سے نکال دیا جاتا ہے تو وہ اس جھنجھٹ سے دور ہونے کے لیے اور اپنے مرحوم باپ کی ناآسودہ خواہش پورا کرنے کا ٹھان لیتی ہے۔

زینتھ کا باپ جو اب اس دنیا میں نہیں ہمیشہ خواب دیکھتا تھا کہ وہ اپنی موٹرسائیکل پر دنیا گھومے گا۔ یہ بات اس نے کبھی کچھ خطوط میں اپنی بیوی کو لکھی تھی جو زینتھ اپنے پاس سنبھال کر رکھتی ہے۔ وہ اب لاہور سے چین کی سرحد تک کا سفر کرنے کا پلان بناتی ہے۔

اور ساتھ ہے ساتھ اپنے امریکہ میں رہنے والے منگیتر کو (جس سے اس کی شادی اس کی دادی کے اصرار پر طے کر دی گئی ہے) بھی منا لیتی ہے کہ یہ شادی اور امریکہ جانے سے پہلے اس کی آخری خواہش ہے۔ اس سفر پر کیا ہوتا ہے اور اس سے زینتھ کی زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے، یہی اس فلم کا اصل مرکز ہے۔

جو باتیں ’موٹرسائیکل گرل‘ کو دیکھنے کے قابل بناتی ہیں وہ اس کی متاثرکن کہانی، شمالی علاقوں کی خوبصورتی (جن کی دلکشی کو بُرے طریقے سے دکھانا تقریباً ناممکنات میں سے ہے) اور عمومی طور پر سوہائی علی ابڑو کی اداکاری ہے۔

سوہائی پوری دلجوئی سے فلم میں زینتھ عرفان کا کردار نبھاتی ہیں (انھوں نے فلم کے لیے خود موٹرسائیکل چلانا بھی سیکھی)۔ اس کے علاوہ فلم کے گانے بھی عمدہ ہیں۔ خصوصاً زلفی کا ’اُڑ چلیں‘ اور عدنان سرور کا ’پہیہ‘ بہت متاثرکُن ہیں اور فلم کے آخر میں ایک ایسا ’ٹوئِسٹ‘ ہے جو یقیناً فلم کو بہتر بنا دیتا ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
سوہائی نے فلم کے لیے خود موٹرسائیکل چلانا بھی سیکھی

لیکن جہاں ’موٹرسائیکل گرل‘ مار کھاتی ہے وہ دو تین چیزوں میں ہے۔ ایک تو یہ کہ جبکہ فلم کا بجٹ ’شاہ‘ کے مقابلے میں دوگنے سے بھی زیادہ ہے، یہ پھر بھی بہت ہی کم بجٹ میں بنائی گئی ہے اور یہ بات سکرین پر نظر آتی ہے، خاص طور پر اس کی عکاسی میں۔

جہاں کچھ باہر کے سین نہایت ہی خوبصورتی سے فلمائے گئے ہیں ، وہاں اندر کے بیشتر سین ایسے لگتے ہیں کہ کسی عام سے ٹی وی ڈرامے کی طرح عکس بند کیے گئے ہیں۔ اس سے فلم کے تاثر پر زد پڑتی ہے۔ دوسری چیز جس پر زیادہ محنت ضروری تھی وہ اِس کی تدوین ہے۔ تدوین اگر اور کراری ہوتی تو خاص طور پر فلم کے بیچ کا ڈھیلاپن آسانی سے کم کیا جا سکتا تھا۔

لیکن میرے خیال میں بجٹ سے ہٹ کر،’موٹرسائیکل گرل‘ کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس کے سکرپٹ پر قدرے محنت کی ضرورت تھی۔ فی الوقت اس فلم کے بیشتر کردار یک طرفہ لگتے ہیں۔ اگر وہ بُرے ہیں تو بہت بُرے ہیں، اگر اچھے ہیں تو فرشتے ہیں۔

عام زندگی میں ایسا نہیں ہوتا، اچھے لوگ بھی بھیانک کام کر جاتے ہیں اور بُرے لوگوں میں بھی کوئی نہ کوئی پہلو ایسا ہوتا ہے جو اُن کو انسانیت بخشتا ہے۔

کیونکہ کردار ٹھوس نہیں ہیں، اس لیے اکثر و بیشتر اُن کو نبھانے والے اداکار بھی مسئلوں کا شکار ہوتے ہیں اور اُن کی اداکاری میں وہ جان نہیں ہے جو ہونی چاہیے تھی (زینتھ کی ماں کے کردار میں ثمینہ پیرزادہ اس کی ایک مثال ہیں)۔ یا وہ پورے مجسم کردار کی بجائے صرف ایک سٹیریوٹائپ دکھائی دیتے ہیں (زینتھ کے باس کے کردار میں سرمد کھوسٹ اور منگیتر کے کردار میں علی کاظمی دو اور مثالیں ہیں)۔

تصویر کے کاپی رائٹ MOTORCYCLE GIRL
Image caption ثمینہ پیرزادہ نے فلم میں سوہائی کی والدہ کا کردار نبھایا ہے

مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ ’موٹرسائیکل گرل‘ ایک بہت ہی طاقتور فلم ہو سکتی تھی، جو اِن خامیوں کی وجہ سے اس مقام پر آنے سے رہ جاتی ہے۔

بہر کیف، عدنان سرور کی بطور فلمساز ترقی قابلِ ستائش ہے اور اس فلم نے ظاہر کر دیا ہے کہ وہ ایک سوچنے سمجھنے والے فلمساز ہیں۔ اُن جیسوں کی پاکستانی سنیما کو اشد ضرورت ہے۔

اس فلم کی ساری خامیوں کے باوجود میری خواہش ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ، خاص طور پر نوجوان لڑکیاں، اس فلم کو دیکھیں کیونکہ اور کچھ نہیں تو یہ پاکستان کے بارے میں اور اس کی خواتین کے بارے میں ذہنی جالوں کو صاف کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں