ہلکی پھلکی بے وفائی مکمل بے وفائی میں کب تبدیل ہوتی ہے؟

Image caption خود کو کسی تیسرے شخص کے لیے تیار دکھانا موجودہ ساتھی کے ساتھ بے وفائی ہے

ایک زمانہ تھا جب کالر پر لپ سٹک کے داغ، پرفیوم کی خوشبو یا جیب میں کسی غیر متوقہ رسید کا ملنا اس بات کی جانب اشارہ کرتا تھا کہ آپ کا ساتھی بے وفائی کر رہا ہے۔ لیکن سوشل مییڈیا کے اس دور میں بے وفائی کے ثبوت بھی بدل گئے ہیں۔ کسی پارٹی کی تصاویر ہی بہت کچھ کہہ ڈالتی ہیں۔ جدید دور میں ڈیٹنگ ایپس نے اس پورے معاملے کو اور بھی زیادہ الجھا دیا ہے۔

ڈیٹنگ کی دنیا میں ایک تازہ ترین لفظ ہے مائیکرو چیٹنگ یعنی ہلکی پھلکی بے وفائی۔ جیسا کہ نام سے سمجھا جا سکتا ہے کہ اس میں ان تمام باتوں کا شمار ہوتا ہے جو کئی لوگوں کے مطابق بے وفائی نہیں بلکہ شرارت کے زمرے میں آتی ہیں۔ لیکن کیا واقعی ہلکی پھلکی بے وفائی جیسا بھی کچھ ہو سکتا ہے؟ کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟

ساؤتھ ویلز یونیورسٹی میں نفسیات کے پروفیسر ڈاکٹر مارٹن گراف کہتے ہیں کہ مائیکرو چیٹنگ بالکل ممکن ہے۔ ان کے مطابق زیادہ وقت آن لائن گزارنے کے ساتھ ہماری بے وفائی کے طریقوں میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ ان کے مطابق مائیکرو چیٹنگ کرنے والا شخص اپنے ساتھی کے علاوہ کسی تیسرے شخص کے ساتھ ایسا برتاؤ کرتا ہے جس سے ایسا لگے کہ وہ رشتہ قائم کرنے کے لیے جذباتی یا جسمانی طور پر تیار ہے۔

یہ بھی پڑھیے

'رشتہ آ نہیں رہا، رشتہ آ گیا ہے‘

اجے دیوگن سے خاص رشتہ ہے: تبو

سمارٹ فونز کے استعمال کے ساتھ کسی کو یہ اشارہ دینا بہت آسان ہو گیا ہے کہ آپ رشتے کے لیے تیار ہیں۔ یہ اشارہ آپ کسی کے انسٹاگرام کے بہت پرانے پوسٹ کو لائک کر کے یا اسے نجی میسیج بھیج کر بھی دے سکتے ہیں۔

ڈیٹنگ کی تاریخ پر کتاب لکھنے والی نیچی ہوجسن کے مطابق مائیکرو چیٹنگ ایک پرانے برتاؤ کا نیا نام ہے۔ ان کے بقول 'اٹھارہویں صدی میں بھی لوگ غیر مناسب خطوط اور اپنی ڈائری میں غیر مناسب خیالات لکھ کر ایسا کیا کرتے تھے۔ اب صرف اتنا فرق ہے کہ جدید آلات کی مدد سے بڑی آسانی سے آپ اپنے خیالات کسی تک پہنچا سکتے ہیں۔'

ڈاکٹر گراف کے خیال میں مائیکرو چیٹنگ کا مطلب اصل بے وفائی نہیں ہے۔ تاہم یہ ضرور ہے کہ ایسا کرنے سے آہستہ آہستہ آپ بے وفائی کی راہ پر چل سکتے ہیں۔ 'زیادہ تر روابت آن لائن ہونے کی وجہ سے آمنے سامنے بات چیت کم ہوتی ہے۔ ایسے میں رشتوں میں غلط فہمیاں جنم لینے لگتی ہیں۔'

لیکن کیا ایسا کوئی طریقہ ہے جس سے یہ معلوم کیا جا سکے کہ آپ مائیکرو چیٹنگ کر رہے ہیں یا آپ کا ساتھی آپ کے ساتھ بے وفائی کر رہا ہے؟ اسے سمجھنے کے لیے ہم نے پانچ طرح کی صورت حال میں انسانی برتاؤ کے بارے میں ماہرین سے پوچھا۔

پرانے محبوب کو میسیجز

فرض کیجیے کہ آپ اپنے موجودہ محبوب کے ساتھ کوئی ڈراما دیکھنے گئے ہیں۔ لیکن اس ڈرامے میں کچھ ایسا ہے جو آپ کے پرانے محبوب کو بہت پسند ہو۔ آپ اس ڈرامے کی تصویر لے کر اسے بھیج دیتے ہیں۔ چوبیس گھنٹے کے اندر آپ کو اس کا جواب آ جاتا ہے۔ اور آپ کی اس سے بات چیت شروع ہو جاتی ہے۔ کیا یہ بے وفائی کہلائے گی؟

نیچی کے مطابق اپنے پرانے محبوب کے ساتھ رابطے میں رہنے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ لیکن ضروری ہے کہ موجودہ محبوب کو اس بارے میں پتا ہو۔ لیکن اگر آپ اسے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں تو ضرور گڑبڑ ہے۔ بہت سے لوگ اپنے پرانے محبوب کو اس لیے بھی میسیج کرتے ہیں کیوں کہ انہیں پتا ہوتا ہے کہ وہ آج بھی انہیں چاہتا ہے اور انیں وہ توجہ اچھی لگتی ہے۔

سوشل میڈیا پر لائک

اگر آپ رات کو سونے سے پہلے انسٹاگرام پر کسی ایسے شخص کی پوسٹ کھول کر انہیں لائک کرنے لگتے ہیں جو آپ کو بہت پسند ہو۔ اور آپ اگر موجودہ رشتے میں نا ہوتے تو اس سے تعلق ضرور رکھنا چاہتے۔ یہاں تک آپ ایسا بار بار دہراتے ہیں، اپنے لنچ بریک اور دفتر سے گھر تک راستے میں بھی۔ کیا یہ صحیح ہے؟

نیچی کے مطابق کچھ لوگ اس سے بہت بے چین ہو سکتے ہیں۔ لیکن کچھ پر اس کا زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ کسی کا پوسٹ لائک کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ ایسا بار بار کر رہے ہیں تو بات فکر کی ضرور ہے۔

مارٹن کا خیال ہے کہ یہ مبہم بات ہے۔ تاہم کسی کا آپ کے پوسٹ کو بار بار پسند کرنا اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ آپ دونوں کے درمیاں مستقبل میں کچھ ہو سکتا ہے۔

آن لائن دوستی

آپ اپنے کالج کے دوستوں کے ساتھ کہیں چھٹیاں منانے کے لیے جاتے ہیں۔ وہاں کسی ایک شخص سے آپ کی زیادہ دوستی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد ایک دوسرے سے فیس بک پر دوستی بہت عام بات ہے۔ پھر آپ انسٹاگرام پر ایک دوسرے کو فالو کرنے لگتے ہیں۔ اور پھر اچانک آپ سے آپ کا نمبر مانگا جاتا ہے۔ کیا یہ بے وفائی کی راہ ہے؟

رشتوں کی ماہر لیلا کولنز کے مطابق آپ کو ایسی صورت حال میں ایماندار ہونا چاہیے۔ 'اگر آپ ایک مستحکم رشتے میں ہونے کے باوجود کسی تیسرے کے ساتھ دوستی بڑھاتے ہیں اور نجی باتوں کے میسیجز کرتے ہیں تو یہ غلط ہے۔‘

نیچی کا خیال ہے کہ ہم متعدد مرتبہ ایسے لوگوں سے ملتے ہیں جن کے خیالات اور پسند ناپسند ہم سے ملتی ہے۔ اس لیے دوستی بڑھانے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔ حالانکہ اس بات پر غور کرنا بھی ضروری ہے کہ وہ شخص کیا سوچ رہا ہے اور وہ آپ کے ساتھ کیسے رشتے کی امید لگا رہا ہے۔ اگر آپ اس کے ساتھ نجی میسیجز شیئر کر رہے ہیں جو کہ آپ اپنے موجودہ ساتھی سے چھپا رہے ہیں، تو ظاہر ہے کہ آپ کچھ غلط کر رہے ہیں۔

ڈیٹنگ ایپ پر پروفائل

اپنے لیے مناسب ساتھی کی تلاش میں ہم میں سے کئی لوگ ڈیٹنگ ایپ پر پروفائل بناتے ہیں۔ لیکن اگر ایک مستحکم رشتے میں کئی مہینے گزارنے کے بعد بھی آپ نے اپنی پروفائل ڈیلیٹ نہیں کی ہے اور ابھی بھی آپ کبھی کبھی ایپ چیک کرتے ہیں۔ کیا یہ مائیکرو چیٹنگ ہے؟

نیچی کہتی ہیں کہ ایک مستحکم رشتے میں ہونے کے باوجود اگر آپ اپنی پروفائل ڈیلیٹ نہیں کر رہے ہیں تو اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس سے آپ کا موجودہ ساتھی بھی ہمیشہ بے چین ہی رہے گا۔

یہ بھی پڑھیے

ضرورتِ رشتہ: لیفٹسٹ دولھا درکار ہے

خلجی اور ملک کافور کا رشتہ کیا تھا؟

لیلا کہتی ہیں کہ یہ بے رحمی اور ناقابل قبول بات ہے۔ یہ مائیکرو چیٹنگ ہے۔ اگر آپ کا کسی کے ساتھ رشتہ ہے تو آپ کیوں کسی ایپ کا استعمال کریں گے؟ وہ کہتی ہیں کہ کوئی بھی ایسی بات جو آپ اپنے موجودہ ساتھی سے چھپائیں گے، بے وفائی کے زمرے میں آتی ہے۔

کسی اور کا تصور

اپنے ساتھی کے ساتھ ہوتے ہوئے اگر آپ کسی اور شخص کا چہرہ تصور کر رہے ہوں تو کیا یہ فکر کی بات ہیں ہے؟ کیا ایسا کرنا مائیکرو چیٹنگ کہلائے گا؟

لیلا کہتی ہیں کہ کسی اور کا تصور یا خواہش کرنا بے وفائی نہیں ہے۔ یہ ایک بہت نجی بات ہے۔ لیکن اگر آپ انہیں اس بارے میں میسیج کرتے ہیں تو ایسا کرنا غلط ہوگا۔

نیچی کا خیال ہے کہ کسی ایک کے ساتھ رشتے کا عہد کر کے کسی تیسرے کا تصور غیر مناسب بات نہیں ہے۔

'میرے خیال میں کسی اور کا تصور کر لینے سے آپ بے وفائی کا قدم اٹھانے سے دور رہ سکتے ہیں۔ اس میں بے وفائی جیسی کوئی بات نہیں ہے اور ایسا بہت سے لوگ کرتے ہیں۔ لیکن اگر آپ اپنے ساتھی کے لیے موجود نہ ہوں تو آپ کے ساتھی کو فوراً اس بات کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ آپ کا دھیان کہیں اور ہے۔ ہو سکتا ہے کہ انہیں پتا نہ چلے۔ لیکن پھر بھی ان کے لیے جزباتی اور جسمانی طور پر موجود نہ ہونا غلط ہے۔‘

اسی بارے میں