ہالی وڈ پروڈیوسر وائنسٹین کا ریپ اور جنسی زیادتی کے الزامات سے انکار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اگر وائنسٹین پر ریپ یا جنسی زیادتی کے الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ان کو 25 سال قید ہو سکتی ہے

ہالی وڈ کے پرڈیوسر ہاروی وائنسٹین نے منگل کو نیو یارک کی سپریم کورٹ میں اپنے خلاف ریپ اور جنسی زیادتی کے الزامات سے انکار کیا ہے۔

ان پر گذشتہ ہفتے گرینڈ جیوری نے ریپ اور جنسی زیادتی کی فرد جرم عائد کی تھی۔

66 سالہ وائنسٹین نے اس سے قبل اپنے وکیل کے ذریعے کہا تھا کہ انھوں نے کبھی بھی کسی سے زور زبردستی کر کے سیکس نہیں کیا ہے۔

مزید پڑھیئے

جنسی ہراسگی کے خلاف ہالی وڈ میں جلوس

جنسی ہراس کے خلاف ہالی وڈ کی ’ٹائم اپ‘ مہم

’جنسی زیادتی کی ذمہ دار خود عورتیں ہی ہیں‘

اگر وائنسٹین پر ریپ یا جنسی زیادتی کے الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ان کو 25 سال قید ہو سکتی ہے۔

سابق فلم پروڈیوسر وائنسٹین پر الزام ہے کہ انھوں نے 70 خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔

ان کو لاس اینجلس، لندن اور امریکی وفاقی حکومت کی تفتیش کا بھی سامنا ہے۔

نیو یارک کی سپریم کورٹ میں انھوں نے کالے رنگ کا سوٹ اور ٹائی پہن رکھی تھی۔

ان کے وکیل بینجمن بریفمین کا موقف ہے کہ استغاثہ پر شدید دباؤ ہے کہ اس کیس میں سزا دلوائی جائے کیونکہ یہ ایک ہائی پروفائل کیس ہے اور ’می ٹو‘ مہم کی وجہ سے بھی دباؤ ہے جو جنسی ہراساں کے حوالے سے ہے۔

وائنسٹین اس وقت دس لاکھ ڈالر کی ضمانت پر ہیں۔ انھوں نے جی پی ایس ٹریکر پہننے پر آمادگی ظاہر کی ہے اور اپنا پاسپورٹ بھی عدالت میں جمع کرا دیا ہے۔

اسی بارے میں