سعودی عرب: ’نامناسب لباس‘ پہننے پر خاتون ٹی وی میزبان کے خلاف تحقیقات

شیری ال رفائی تصویر کے کاپی رائٹ AL AAN TV

سعودی عرب میں حکام ایک خاتون ٹی وی میزبان کی جانب سے ’غیر مناسب‘ کپڑے پہن کر رپورٹنگ کرنے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

شیری الرفائی نامی ٹی وی میزبان سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ پر عائد پابندی ختم ہونے کے بعد رپورٹنگ کر رہی تھیں۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب فلم بندی کرتے وقت شیری الرفائی کا عبایا تیز ہوا چلنے سے اڑ گیا اور اس کے نیچے پہنا ہوا لباس ظاہر ہو گیا۔ شیری الرفائی کا کلپ آن لائن ہو جانے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے naked_woman_driver_in_Riyadh کا ہیش ٹیگ استمعال کرتے ہوئے اپنے غصے کا اظہار کیا۔

دبئی کے الآن ٹی وی کے لیے کام کرنے والی مس رفائی کا موقف ہے کہ انھوں نے کوئی غلط نہیں کیا۔

خیال رہے کہ سعودی قوانین کے مطابق مسلمان خواتین کو گھر سے باہر عبایا اور سکارف پہننا لازمی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’گھر میں گاڑی کھڑی ہے مگر ہاتھ نہیں لگا سکتی تھی‘

گاڑی کے بعد اب سعودی خواتین بائیک چلائیں گی؟

سعودی عرب میں خواتین کی پہلی سائیکل ریس

سعودی عرب میں خواتین کے لیے گاڑیوں کا پہلا شو روم

سعودی عرب میں خواتین کے لیے قوانین میں نرمی آئی ہے اور حال ہی میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دی گئی ہے۔

سعودی عرب میں ہونے والی یہ اصلاحات شہزادہ محمد بن سلمان کے اقتصادی تبدیلیوں کے وژن 2030 کے تحت کی جا رہی ہیں۔

محمد بن سلمان نے رواں برس مارچ میں اعلان کیا تھا کہ خواتین کو صرف مہذب لباس پہننا چاہیے، عبایا پہننے کی ضرورت نہیں ہے۔

انھوں نے سی بی ایس ٹی وی کو بتایا: ’شریعت کے قوانین بہت واضح ہیں کہ خواتین مردوں کی طرح مناسب لباس پہنیں۔‘

سعودی عرب کے جنرل کمیشن برائے آڈیو ویوئل نے منگل کو ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ انھوں نے نامعلوم ٹی وی میزبان کی ویڈیو پر تحقیقات شروع کر دیں ہیں کیونکہ ویڈیو میں ظاہر ہوتا ہے کہ خاتون نے غیر مناسب لباس پہنا ہوا تھا جو قواعد و ضوابط کے خلاف تھا۔‘

دوسری جانب شیری الرفائی نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

سعودی عرب کی نیوز سائٹ ایجل نے رفائی کے حوالے سے بتایا: ’میں نے مناسب لباس پہنا ہوا تھا اور خدا سچائی کو سامنے لائے گا۔‘

سعودی عرب کی نیوز سائٹ ایجل کے مطابق شیری الرفائی متحدہ عرب امارات واپس آ گئی ہیں۔

اسی بارے میں