ڈرائیونگ سیٹ پر ریپ کرتی سعودی گلوکارہ کی ویڈیو نے ہلچل مچا دی

تصویر کے کاپی رائٹ LEESA A

سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملے ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا لیکن ایک نوجوان ریپر اور ڈائریکٹر نے بالکل بھی وقت ضائع نہیں کیا۔

جس روز سرکاری طور پر خواتین پر سے ڈرائیونگ کرنے کی پابندی اٹھائی گئی اسی دن گلوکارہ لیسا اے نے سوشل میڈیا ریپ (گانے کی ایک قسم) کرتے ہوئے ایک ویڈیو پوسٹ کر کے ہلچل مچا دی۔

انھوں نے ہیوندائے گاڑی کی ڈرائیور سیٹ پر بیٹھ کر کیمرے میں دیکھتے ہوئے گایا، ’مجھے کہیں جانے کے لیے کسی کی ضرورت نہیں ہے، ڈرائیونگ لائسنس میرے پاس ہے۔‘

رواں ماہ کی 24 تاریخ کو سعودی عرب میں خواتین پر سے ڈرائیونگ کرنے کی پابندی اٹھائی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

’نامناسب لباس‘ پہننے پر ٹی وی میزبان کے خلاف تحقیقات

’فلم کی ٹیکسی ڈرائیور جیسا بننا بچپن کا خواب تھا‘

گاڑی کے بعد اب سعودی خواتین بائیک چلائیں گی؟

کئی دہائیوں سے عائد اس پابندی کو ختم کرنے کا اعلان گذشتہ ستمبر میں کیا گیا تھا اور رواں ماہ کے آغاز میں پہلا لائسنس جاری کیا گیا تھا۔

لیسا اے اس قبل سوشل میڈیا پر کم ہی دکھائی دیتی تھیں، لیکن جب انھوں نے اپنی یہ تازہ ویڈیو انسٹا گرام اور یوٹیوب پر شائع کی تو اسے اب تک کل ملا کر ایک عشاریہ چھ ملین بار دیکھا گیا۔

اس ویڈیو میں انھوں ڈرائیونگ کرتے، ایکسلیریٹر دباتے، گیر بدلتے اور ساتھ میں ریپ کرتے دکھایا گیا ہے: ’یو، لگتا ہے کہ آپ کو یاد نہیں آج 10 ہے، جس کا مطلب ہے کوئی ٹیکسی نہیں۔‘

ان کا اشارہ 24 جون کی جانب تھا جب اس دن اسلامی کیلنڈر کے مطابق چاند کی 10 تاریخ تھی۔

انھوں نے مزید گایا: ’میں مزاق نہیں کر رہی، آج میں خود ڈرائیونگ کر سکتی ہوں۔ سٹیئرنگ میرے ہاتھ میں ہے، پیڈل میرے پاؤں کے نیچے ہے۔۔۔ میں سیٹ بیلٹ اپنے عبایہ کے اوپر پہنتی ہوں۔‘

جس ٹویٹ کے ذریعے اس ویڈیو کو شیئر کیا گیا اسے تقریباً تین لاکھ افراد نے لائک کیا اور ایک لاکھ چار ہزار بار سے زائد مرتبہ شیئر کیا گیا۔

ٹوئٹر صارف @lkigai نے لکھا: ’سعودی عرب نے خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دی اور یہ پہلی چیز ہے جو وہ کر رہی ہیں۔‘

لیسا نے اپنے ریپ کا اختتام دیگر مسافروں کو لفٹ کی پیشکش کے ساتھ متنبہ کرتے ہوئے کیا: ’خبردار دروازہ زور سے بند نہ کرنا، کیونکہ اگر آپ نے دروازہ زور سے بند کیا تو میں آپ کو سیٹ بیلٹ سے باندھ دوں گی۔‘

اسی بارے میں