کوہستان کا معذور شاعر: ’جب شاعری شروع کی تو لوگوں نے پاگل کہا‘

ولی صادق شاعر تصویر کے کاپی رائٹ ANWAR SHAH
Image caption محمد ولی صادق کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے

خشک اور بنجر پہاڑوں کی سرزمین ضلع کوہستان میں اونچے پہاڑوں کے وسط میں واقعے گاؤں سناگئی میں ایک کمرے سے واہ واہ کی صدائیں بلند ہورہی ہیں، چند نوجوان زمین پر بیٹھے ہیں جبکہ چارپائی پر ایک معذور نوجوان شاعر نہایت جوش اور خوشی سے اردو کے اشعار پڑھ رہا ہے۔

بھاری آواز کا مالک اور آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے والے یہ معذور شاعر محمد ولی صادق ہیں جو چند سال قبل ایک پہاڑی سے گرنے کے باعث دونوں ٹانگوں سے معذور ہو گئے تھے۔

وہ اپنی زندگی کو ایک المیے سے تعبیر کرتے ہیں جہاں درد اور کرب کے علاوہ کسی اور چیز کی توقع نہیں تاہم وہ بہت خوش ہیں کیونکہ اب ان کی لکھی ہوئی کتاب، فریاد صادق، شائع ہوئی ہے۔

جس علاقے میں شاعری کو کارِ فضول اور معیوب سمجھا جاتا ہو وہاں کار سخن ایک باہمت اور حوصلہ مند ہی کرسکتا ہے۔

ولی صادق کہتے ہیں کہ ’جب میں نے شاعری شروع کی تو سخت گیر موقف رکھنے والے عزیز و اقارب اور بیشتر مقامی لوگ ذہنی بیمار اور پاگل جیسے القاب سے یاد کرتے تھے لیکن اب صورتحال یکسر مختلف ہے اور لوگ ٹولیوں کی شکل میں کلام سننے کے لیے آتے ہیں۔‘

محمد ولی صادق کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔ ان کے بوڑھے والد کھیتی باڑی کرتے ہیں جبکہ بڑا بھائی دماغی توازن کھونے کی وجہ سے ایک کمرے تک محدود ہے۔

ان کے پاس اپنی کتاب شائع کروانے کے لیے رقم بھی نہیں تھی۔ پھر علاقے کے چند نوجوانوں نے مل کر چندہ مہم شروع کی اور تقریباً ایک سال کی جدوجہد کے بعد 85ہزار روپے اکھٹے ہوئے جس سے کتاب کی چھپائی ممکن ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ ANWAR SHAH
Image caption ولی صادق کے پاس اپنی کتاب چھاپنے کے لیے بھی رقم نہیں تھی

کتاب کے لیے چندہ جمع کرنے والے محمد جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے سوشل میڈیا پر بھی کتاب کی اشاعت کے لیے مالی مدد کی اپیل کی تھی لیکن حکومت اور ادبی تنظیموں سمیت کسی نے پوچھا تک نہیں۔

وہ اس بات پر افسردہ نظر آئے کہ کتاب کی تقریب رونمائی میں کسی سرکاری شخصیت نے شرکت نہیں کی اگرچہ ڈپٹی کمشنر کوہستان کو اس حوالے سے خصوصی دعوت دی گئی تھی۔

ولی صادق کی شاعری میں زمانے کی بے حسی کا غم، دوست و احباب کی کنارہ کشی کا دکھ اور عشق و محبت کے موضوعات ملتے ہیں۔

ان کے کلام میں کہیں کہیں تصوف کے مضامین موجود ہیں تو کہیں زندگی سے مایوس اور کبھی تقدیر پر صابر و شاکر بھی نظر اتے ہیں۔

Image caption کوہستان کے علاقے دوبیر جاتے ہوئے پہاڑیوں پر جگہ جگہ ان کے لکھے ہوئے اشعار پڑھنے کو ملتے ہیں

وہ اپنی شاعری میں درد اور کرب کی کہانیاں بیان تو کر رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے دنیا کے تغیرات کو بھی اپنے گرفت میں لیا ہے۔

محمد ولی صادق اپنی شاعری کے بدولت مقامی طور پر بہت شہرت حاصل کر چکے ہیں۔

کوہستان کے علاقے دوبیر جاتے ہوئے پہاڑیوں پر جگہ جگہ ان کے لکھے ہوئے اشعار پڑھنے کو ملتے ہیں جبکہ بیشتر گاڑیوں پر بھی ان کے اشعار لکھے گئے ہیں۔

اس سوال پر کہ وہ اپنی مادری زبان کوہستانی میں شاعری کیوں نہیں کرتے ان کا کہنا تھا کہ کوہستانی محدود زبان ہے اور ان کے مقابلے میں اردو ایک وسیع زبان جس کے بولنے اور سمجھنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں