بالی وڈ ڈائری: ’ہمارا معاشرہ روز بروز بیمار ہوتا جا رہا ہے‘

انڈین اداکارہ رچا چڈھا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بالی وڈ کی نئی دبنگ اداکارہ رچا چڈھا بے خوف ہو کر اپنی بات کہہ جاتی ہیں۔ کچھ عرصے پہلے ریپ کے موضوع پرانھوں نے جس طرح بغیر لگی لپٹی اپنی رائے ظاہر کی تھی اس کے بعد انھیں سوشل میڈیا پر ٹرول کیا گیا تھا۔

اس سے پریشان ہوئے بغیر ایک بار پھر رچا نے ہیش ٹیگ می ٹو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ایسے دور میں جب چھوٹے بچوں کو جنسی زیادتیوں کا شکار بنایا جا رہا ہے سینیما کی دنیا مراعات یافتہ پوزیشن میں ہے جبکہ ہمارا معاشرہ روز بروز بیمار ہوتا جا رہا ہے۔ رچا انڈیا کے کچھ شیلٹر ہومز میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کا حوالہ دے رہی تھیں۔

رچا کی فلم 'لو سونیا' میں جسم فروشی کے کاروبار میں لڑکیوں اور بچوں کی سمگلنگ کے تاریک پہلوؤں کو دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ فلم میلبرن میں انڈین فلم فیسٹیول میں دکھائی گئی ہے اور اگلے ہفتے ریلیز ہو گی۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہAFP/ GETTY

امریکی سنگر نِک جونز آج کل انڈیا کے چکر لگا رہے ہیں پہلے وہ پرینکا کے ساتھ آئے اور اب اپنے پاپا جی کے ساتھ انڈیا پہنچ گئے۔

میڈیا کے مطابق اس بار نک اپنے پاپا کے ساتھ اس لیے آئے ہیں تاکہ منگنی کی رسم ادا کی جا سکے۔ بیچارے جیسے ہی ایئر پورٹ پہنچے تو حسبِ توقع میڈیا ان پر ٹوٹ پڑا۔ کسی طرح جان بچا کر وہاں سے نکلے۔ میڈیا نے ان کی تصاویر کے ساتھ اپنی خواہشات کو خبر بنا کر پیش کیا۔

کسی نے ان کے پاپا کے ہاتھوں میں بیگ کی تصویر لگا کر لکھا کہ پاپا جی ہونے والی بہو کے لیے منگنی کا تحفہ لے کرآئے ہیں۔ بھیا جی بیگ میں کیا تھا آپ کو کیسے معلوم ہوا۔ ہاں نک کا بار بار انڈیا آنا اور وہ بھی اپنے گھر والوں کے ساتھ اس بار کا اشارہ ضرور ہے کہ ہر خبر افواہ نہیں ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہFACEBOOk

بالی وڈ میں جہاں ایک طرف مصالحہ یا کمرشل فلمیں ہمیشہ کی طرح کامیاب ہو رہی ہیں وہیں کچھ ایسی فلمیں بھی آہستہ آہستہ باکس آفس پر کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہیں جنھیں کسی زمانے میں متوازی سینیما کہا جاتا تھا۔ اس طرح کی فلمیں صرف خاص لوگوں یا طبقے کے لیے ہی سمجھی جاتی تھیں جیسے 'بریلی کی برفی'، 'دم لگا کے ہیشا‘ اور 'بدری ناتھ کی دلہنیا'۔

یہ وہ فلمیں ہیں جن میں چھوٹے شہروں کے لوگوں کے مسائل اور ان کی زندگی کی عکاسی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ فلمیں لوگوں کو پسند آئیں اور انھوں نے پیسہ بھی کمایا۔ پھر کیا تھا اس فارمولے کو ہٹ ہوتے دیکھ کر دوسرے فلسماز بھی چھوٹے شہروں کی بڑی بڑی کہانیوں کی تلاش میں نکل پڑے۔ اس تلاش کا نتیجہ ہے فلم ’سوئی دھاگہ‘ اور ’بتی گل میٹر چالو‘۔

ان دونوں فلموں کے ٹریلر کافی اچھے ہیں اور لگتا ہے کہ فلم لوگوں کے مسائل اور ان کی زندگی کے بہت نزدیک ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ رجحان کچھ عرصے رہے گا یا پھر بھیڑ چال کی نذر ہو جائِے گا۔