آنکھ مارنے والی اداکارہ نے ’توہین مذہب نہیں کی‘، مقدمہ خارج

انڈیا کی سپریم کورٹ نے نوجوان اداکارہ پریا وریئر کے خلاف توہینِ مذہب کا مقدمہ خارج کر دیا ہے۔ انھوں نے ایک فلم کے سین میں آنکھ ماری جسے بعض مسلمانوں گروہوں کی جانب سے ’توہین مذہب‘ قرار دیا گیا تھا۔

پریا وریئر نے اپنی پہلی فلم کے ایک گانے کے دوران آنکھ ماری، جس کے بعد یہ ویڈیو کلپ انڈیا میں وائرل ہو گیا تھا۔

الزام لگانے والوں نے ’مقدس گیت‘ کے استعمال پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ گیت پیغمبر اسلام اور ان کی زوجہ حضرت خدیجہ کی مدح میں لکھا گیا ہے اور اسلام میں آنکھ مارنے کی اجازت بھی نہیں ہے۔

مزید پڑھیئے

26 سیکنڈ کے کلپ نے ’ڈریم گرل‘ بنا دیا

پلک جھپکتے ہی! سوشل میڈیا پر ہٹ

'آنکھ مارنا جائز نہیں اور فلم میں یہ توہین مذہب ہے'

جواب میں اداکارہ کا کہنا تھا کہ اعتراض کرنے والوں کو یہ گانا سمجھنے میں ’غلطی‘ ہوئی ہے۔

پولیس کی جانب سے اس گانے کو فلم سے ہٹانے کی مسلمان گروپ کی درخواست پر مقدمہ درج کرنے کے خلاف پریا وریئر نے اعلیٰ عدالت میں پٹیشن دائر کی تھی۔

چیف جسٹس دیپک مشرا نے اداکارہ پریا وریئر، کے ساتھ ساتھ فلم کے ہدایتکار اور پروڈیوسر خلاف مقدمہ خارج کرتے ہوئے کہا: ’فلم میں کوئی گانا گاتا ہے اور آپ کے پاس مقدمہ درج کرنے علاوہ کچھ نہیں۔‘

اعتراض کرنے والوں کا کہنا تھا کہ ’30 سیکنڈ کے کلپ میں ایک سکول کی طالبہ کو ایک سکول کے لڑکے کے ساتھ مسکراتے اور آنکھ مارتے دکھایا ہے۔ آنکھ مارنا ہی اسلام میں جائز نہیں ہے اور جب یہ عمل ایک مقدس گیت پر ثبت کیا جائے تو یہ عمل توہین مذہب کے زمرے میں آ جاتا ہے۔'

فروری میں ریلیز ہونے والا یہ گانا چند ہی لمحوں میں انٹرنیٹ پر وائرل ہو گیا تھا۔

انسٹاگرام پر اب پریا وریئر کو اس وقت فالو کرنے والوں کی تعداد پلک جھپکتے ہی 35 لاکھ تک پہنچ گئی، فیس بک پر ڈھائی لاکھ سے زیادہ اور ٹوئٹر پر درجنوں اکاؤنٹس پریا وارئر کا اصلی ٹوئٹر ہینڈل ہونے کا دعوی کر رہے تھے۔

ملیالم فلم 'اورو آدار لو' اس مقدمے کی وجہ سے وقت پر تو ریلیز نہ ہو سکی تاہم اب اسے آئندہ ماہ ستمبر میں ریلیز کیا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں