لوڈ ویڈنگ کا ڈبل لوڈ

لوڈ ویڈنگ تصویر کے کاپی رائٹ LoadWedding
Image caption عیدالاضحیٰ پر پیش کی جانے والی فلموں میں 'لوڈ ویڈنگ' باکس آفس کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہی آ سکی

کچھ مہینے پہلے، جب ’لوڈ ویڈنگ‘ کے ٹریلر منظرِ عام پر آئے تو میرا صدقِ دل سے خیال تھا کہ ہدایتکار نبیل قریشی اور پروڈیوسر فضّہ علی میرزا کی نئی فلم بہت ہی دلچسپ فلم ہوگی اور عید پر ریلیز ہونے والی تین پاکستانی فلموں میں کامیاب ترین ہو گی۔

ایک طرف اس میں فہد مصطفیٰ اور مہوش حیات کی سٹار جوڑی ہے، دوسرا اس کی کہانی عام فلموں سے ہٹ کر لگ رہی تھی، اور تیسرا نبیل اور فضّہ کی منجھی ہوئی فلمساز ٹیم تھی جو ’نامعلوم افراد‘ اور ’ایکٹر اِن لاء‘ جیسی منفرد فلمیں پہلے پیش کر چُکے تھے۔

لیکن ہوا یوں کہ عیدالاضحیٰ پر پیش کی جانے والی فلموں میں ’لوڈ ویڈنگ‘ باکس آفس کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہی آ سکی، جو کافی حیران کُن بات ہے۔ اب اس کے گِرد ایک تنازع بھی کھڑا ہو گیا ہے کیونکہ ’لوڈ ویڈنگ‘ کے فلمسازوں کا کہنا ہے کہ اُن کی فلم کے ساتھ سنیما مالکان نے جان بوجھ کر زیادتی کی ہے۔

حسن زیدی کے دیگر تجزیے پڑھیے

طیفا کے نئے باب

سات دن میں بارہ مسالے

’ورنہ‘۔۔۔ سر پکڑ کر بیٹھیے

’خانہ پری کے لیے دیا گیا کام منظور نہیں‘

ظاہر ہے یہ بات سنیما مالکان مسترد کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’لوڈ ویڈنگ‘ کو کم شوز ملنے کی وجہ یہ تھی کہ فلم بینوں کی کم تعداد اس فلم میں دلچسپی رکھتی تھی۔ خیر، اس الزام یا موقف کی سچائی جو بھی ہو، میں آپ کو بحیثیت فلم نقاد فلم کے حوالے سے صرف اپنی ناقص رائے ہی بتا سکتا ہوں۔

میرے اپنے خیال میں ’لوڈ ویڈنگ‘ اصل میں دو فلمیں ہیں۔ اِنٹرمِشن سے پہلے کی فلم ایک لو سٹوری ہے جس میں راجہ (فہد مصطفیٰ) بچپن سے میراب عرف میرُو (مہوش حیات) سے شادی کا خواہشمند ہے لیکن اس کے پیار میں دو بڑی رکاوٹیں ہیں۔ پہلی تو یہ کہ وہ کبھی اپنے پیار کا کھُلّم کھُلّا اظہار نہیں کرتا اور پھر میرُو کی شادی کسی اور سے ہو جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ LoadWedding
Image caption سنیما مالکان کہتے ہیں کہ 'لوڈ ویڈنگ' کو کم شوز ملنے کی وجہ یہ تھی کہ فلم بینوں کی کم تعداد اس فلم میں دلچسپی رکھتی تھی

تقدیر راجہ کو ایک اور موقع دیتی ہے جب میرُو کا شوہر شادی کی رات ہی کو فوت ہو جاتا ہے۔ اب دوسرا مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ ایک طرف میرُو پر منحوس ہونے کی تہمت لگ جاتی ہے اور دوسری طرف راجہ کی ماں (ثمینہ احمد) اس کو تنبیہ کرتی ہے کہ اس کی شادی اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک اس کی بڑی بہن بےبی باجی (فائزہ حسن) کا بیاہ نہ ہو جائے۔ بےبی باجی کی شادی میں نہ صرف اس کا موٹاپا حائل ہے، بلکہ اس میں اُن کے گھرانے کی غربت کا بھی ہاتھ ہے کیونکہ رشتے والے ہمیشہ ڈھیر سارا جہیز ساتھ مانگتے ہیں۔ بہرکیف، کسی طرح راجہ اپنی ماں اور میرُو دونوں کو منانے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور اس کی شادی اُس کی مرضی کے مطابق ہو جاتی ہے۔

یہ تو ہے کہانی اِنٹرمِشن سے پہلے کی اور یہاں تک مجھے ’لوڈ ویڈنگ‘ میں بہت لطف آیا۔ نبیل قریشی یقیناً ایک بہت سُلجھے ہوئے ہدایتکار ہیں اور خاص طور پر جس خوبی سے وہ پنجاب کے چھوٹے شہر میں زندگی کی تفصیلات سکرین پر لے کر آتے ہیں، وہ ایسا ہدایتکار ہی کر سکتا ہے جو چھوٹی چھوٹی چیزوں کا اچھا مشاہدہ بھی کرتا ہو اور اُن کا خیال بھی رکھتا ہو۔ فہد مصطفیٰ اور مہوش حیات بھی بہت عمدہ کام پیش کرتے ہیں اور اُن کے سکرین پر رشتے میں کافی کیمِسٹری بھی نظر آتی ہے۔ خاص طور پر فہد اب پاکستانی سنیما کے ہر فن مولا اداکار کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ اِن دونوں کے علاوہ فائزہ حسن اور قیصر پیا (جو راجہ کے دوست اور کہانی کے راوی کا رول ادا کرتے ہیں) کے کردار اور اُن کی اداکاری مرکزی کرداروں کو بہت خوبی سے سپورٹ کرتے ہیں۔ ثمینہ احمد اور نورالحسن، راجہ کے ماں اور ماموں کی حیثیت سے بھی اچھا کام کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’سوشل میڈیا سے دور رہنا اداکاروں کے لیے بہتر‘

50 سال کی عمر کے بعد فن کی دنیا چھوڑ دوں گا: فہد مصطفیٰ

کہانی کی رفتار کے حوالے سے ایک بات کا خاص ذکر کرنا چاہوں گا۔ اگرچہ کہانی آہستہ آہستہ آگے بڑھتی ہے، لیکن اس میں کبھی بھی بوریت محسوس نہیں ہوتی۔ نبیل قریشی سستے قہقہوں کا سہارا لینے کی بجائے کرداروں کو ڈیویلپ ہونے دیتے ہیں، جو اُن کے بطور ہدایتکار پُختہ ہونے کا ثبوت ہے۔ بلکہ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ اُن کی کہانی پر گرفت اور اُس کی پیسنگ (یعنی رفتار) میں مجھے ایک پسندیدہ فلم ’اوئے لکی لکی اوئے‘ کی جھلک بھی نظر آئی۔ ایسی پیسنگ ایک پُراعتماد ہدایتکار ہی رکھ سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ LoadWedding
Image caption فائزہ حسن لکھے گئے کردار کو بہت خوبی سے نبھاتی ہیں لیکن کہانی کی سمت کامسئلہ اپنی جگہ برقرار رہتا ہے

لیکن پھر اِنٹرمِشن آجاتا ہے اور اس کے بعد ایک دوسری فلم شروع ہو جاتی ہے۔ اس فلم کا دارومدار بےبی باجی کی اپنی شادی نہ ہونے پر بڑھتی تلخی اور اس کی شادی کے لیے جہیز اکٹھا کرنے کی کوششوں سے ہے اور اس کاوش کا تعلق ٹی وی کے ایک گیم شو اور اس کے میسنے اور چالاک گیم شو ہوسٹ عاشق رفیق (فہیم خان) سے ہے۔ پہلی فلم، یعنی وقفہ سے پیشتر فلم، میں جن باتوں کا عندیہ دیا گیا تھا کہ شاید آگے جا کر اُن باتوں کا کہانی پر اثر ہو گا— جیسا کہ میرُو کے اوپر بدشگونی کی تہمت اور اس کا پولیو ورکر کے طور پر کام کرنے کے لیے گھر سے نکل جانا— وہ سب یکایک بھُلا دیا جاتا ہے۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ میرُو کے کردار کو اس دوسری فلم میں تقریباً سائیڈ پر ہی کر دیا جاتا ہے۔

سب سے افسوسناک بات میرے نقطۂ نظر سے یہ ہے کہ یہ دوسری فلم سستے مزاح کی خاطر، خاص طور پر گیم شو ہوسٹ (جس کی مُشابہت ایک جانی پہچانی شخصیت سے بنائی گئی ہے) پر جگتیں لگانے کے لیے، ایک نئی سمت نکل پڑتی ہے۔ اس فلم میں لمبے لمبے سین گیم شو کے ہیں جس طرح آپ ٹی وی پر بارہا دیکھ چُکے ہیں اور جن کی وجہ سے کہانی کا سر پیر سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ہاں، آپ کو یہ سمجھ آتا ہے کہ فلمساز جہیز کی لعنت کے خلاف ایک پیغام دینا چاہتے ہیں، لیکن اِنٹرمِشن سے پہلے کی فلم اور اِنٹرمِشن کے بعد کی فلم میں ٹون یا طرزِبیان میں اتنا بڑا فرق ہے کہ میرا سر تھوڑا چکرا سا گیا۔ جہاں پہلی فلم پنجاب کے چھوٹے شہروں میں زندگی کے گِرد گھومتی ہے، وہاں دوسری فلم زیادہ تر چینلز کے سٹوڈیوز کے گِرد گردش کرتی رہتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ LoadWedding
Image caption فلم ایک لو سٹوری ہے جس میں راجہ (فہد مصطفیٰ) بچپن سے میراب عرف میرُو (مہوش حیات) سے شادی کا خواہشمند ہے

بےشک پاکستانی ٹی وی چینلز پر ’سیٹائر‘ پر مبنی ایک اچھی کہانی بنائی جا سکتی ہے (اور نبیل قریشی اس ضمن میں ’ایکٹر اِن لاء‘ میں بھی کوشش کر چُکے ہیں) لیکن یہ کہانی اِس فلم کے تناظر میں کچھ جچتی نہیں۔ بلاشبہ اس دوسری فلم میں فلم بینوں کے لیے قہقہے زیادہ ہیں لیکن یہ قہقہے اصل کہانی کو دبا دیتے ہیں۔ اِس دوسری فلم کی سٹار فائزہ حسن ہیں جو لکھے گئے کردار کو بہت خوبی سے نبھاتی ہیں لیکن کہانی کی سمت کامسئلہ اپنی جگہ برقرار رہتا ہے۔

’لوڈ ویڈنگ‘ میں ایک دو اچھے گانے بھی ہیں جو شانی ارشد نے کمپوز کیے ہیں۔ اِن میں سب سے اچھا وہی گانا ہے جو ہر جگہ فلم کی پروموشن کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، یعنی ’گُڈ لک‘، لیکن ’رنگیا‘ بھی سننے سے تعلق رکھتا ہے اور فلم کی آرٹ ڈائریکشن کی خاص طور پر داد دینی چاہیے۔ افسوس کی بات ہے کہ یہ ساری تفصیلات کہانی کے غیرمربوط ہونے سے ماند پڑ جاتی ہیں۔

میں نے پہلے بھی ’ایکٹر اِن لاء‘ اور ’نامعلوم افراد 2‘ کے حوالے سے یہ کہا تھا کہ یہ فلمیں سکرپٹ کی کمزوری کا شکار ہو گئیں۔ اب ’لوڈ ویڈنگ‘ کو دیکھ کر مجھے یقین ہو چلا ہے کہ نبیل اور فضّہ کو اس پہلو پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ (اس فلم میں محسن عباس حیدر کا نام بھی بطور لکھاری شامل ہے لیکن عموماً یہ بوجھ نبیل اور فضّہ ہی سنبھالتے ہیں۔) میں اُن سے اُمید یوں بھی رکھتا ہوں کہ باقی ہر شعبے میں یہ دونوں فلمساز انتہائی باصلاحیت ہیں اور کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ ایسی فلم نہ بنا سکیں جو ہر لحاظ سے عمدہ ہو۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں