برطانیہ میں اردو ٹی وی چینل کا لائسنس نشریات سے پہلے ہی منسوخ

ٹی وی کیمرہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

برطانوی میڈیا کے نگراں ادارے آفکام نے ایک اردو ٹی وی چینل کا لائسنس اس کے نشریات شروع کرنے سے پہلے ہی منسوخ کر دیا ہے۔

آفکام کا فیصلہ گذشتہ سال اکتوبر میں بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام فائل آن فور کے بعد عمل میں آیا ہے جس میں برطانیہ میں شائع ہونے والے اردو اخبارات، ٹی وی چینلوں اور ریڈیو سٹیشنوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔

پروگرام کی تیاری کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ اردو اخبار اوصاف کے لندن ایڈیشن میں شائع ہونے والے چند مضامین میں القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن، افغان طالبان کے رہنما ملا عمر، انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں برسرِ پیکار کالعدم شدت پسند تنظیموں کے سربراہان کی تعریف کی گئی ہے۔

بی بی سی کے پروگرام کے بعد یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ آیا ایک اخبار کی انتظامیہ جس میں اس نوعیت کا مواد شائع ہو رہا ہے آفکام کی طرف سے جاری کردہ براڈکاسٹ لائسنس رکھنے کے لیے موزوں ہے۔

اسی بنیاد پر آفکام نے 18 اکتوبر کو خود اوصاف یوکے لمیٹڈ کے بارے میں اپنی تحقیقات کا آغاز کیا تھا اور اوصاف کی انتظامیہ سے اوصاف اخبار اور اوصاف ٹی وی کے مابین تعلق سے متعلق وضاحت طلب کی تھی۔

اوصاف انتظامیہ کو سات نومبر کو ایک اور مراسلہ بھیجا گیا اور آفکام نے اپنے فیصلے میں اوصاف انتظامیہ کی طرف سے 23 اکتوبر اور 10 نومبر کو موصول ہونے والے موقف کا ذکر کیا ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’نفرت انگیز مواد‘ پر آفکام کی کارروائی

اے آر وائی کی برطانیہ میں نشریات بند

جمعرات کو جاری کیے اپنے فیصلے میں آفکام نے کہا ہے کہ ٹی وی چینل کا لائسنس رکھنے والی برطانوی کمپنی اوصاف یو کے کے پاکستان اور لندن سے شائع ہونے والے اوصاف اخبار سے قریبی تعلقات ہیں جس میں وہ مضامین شائع ہوئے تھے۔

آفکام کے مطابق یہ مواد نفرت انگیزی، جرم، دہشت گردی پر مبنی افعال کے ابھارنے کے زمرے میں آتا ہے۔

’یہاں یہ حقیقی خطرہ موجود ہے کہ لائسنس کے حامل ہمارے براڈکاسٹنگ قواعد کی خلاف ورزی کر سکتے ہیں اور اس نوعیت کا مواد اوصاف ٹی وی پر نشر کر سکتے ہیں جیسا انھوں نے زوزنامہ اوصاف میں شائع کیا ہے۔ یہ ناصرف ناضرین کے لیے ضرررساں ہو سکتا ہے بلکہ آفکام کی ریگولیٹری سرگرمیوں پر بھی سوال کھڑے کر سکتا ہے۔‘

’ان سنگین نتائج کی روشنی میں ہمیں اس بات کا اطمینان نہیں رہا کہ اوصاف یوکے لمیٹڈ کی انتظامیہ ایک براڈکاسٹ لائسنس رکھنے کے لیے موزوں ہے۔ اس بنیاد پر ہم ان کا لائسنس منسوخ کر رہے ہیں۔‘

دوسری جانب اوصاف کے سینیئر ایڈیٹر محمد حنیف لودھی نے بی بی بی کو ای میل کے ذریعے ادارے کی ادارتی پالیسی کے اصولوں کو دہرایا جو امن، یقین اور اتحاد پر مبنی ہیں اور کہا کہ فائل آن فور پر پیش کیے جانے والے مواد کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔

تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ فائل آن فور میں جن مضامین پر سوالات اٹھائے تھے ان میں ادارتی پالیسی کی خلاف ورزیاں ہوئیں۔ یہ رواں سال کے شروع میں اس وقت شائع ہوئے تھے جب محمد حنیف لودھی اپنے دفتر میں نہیں تھے۔

بی بی سی کو بتایا گیا کہ دفتری انکوائری کی گئی جس میں سٹاف کے دو ارکان کو نوکری سے برطرف کیا گیا۔

محمد حنیف لودھی نے یقین دہانی کرائی کہ اضافی اقدامات اٹھائے گئے ہیں تاکہ مستقل میں ایسا مواد دوبارہ شائع نہ ہو۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں