ماہرہ خان: ’نصف سے زیادہ پناہ گزین بچے ہونا لمحۂ فکریہ ہے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’نصف سے زیادہ پناہ گزین بچے ہونا لمحۂ فکریہ ہے‘

پاکستان سے اس سال صرف ایک ہزار افغان پناہ گزین اپنے وطن جا سکے ہیں جس کی ایک بڑی وجہ افغانستان میں امن و امان کی صورتحال اور سہولیات کی فقدان بتایا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی خیر سگالی کی سفیر معروف پاکستانی ادارکارہ ماہرہ خان نے کہا ہے کہ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ دنیا بھر میں پناگزینوں میں آدھے سے زیادہ بچے ہیں۔

پشاور کے قریب اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے اضا خیل مرکز میں سنیچر کو یو این ایچ سی آر کے حکام اور اس ادارے کی خیر سگالی کی سفیر معروف ادارکارہ ماہرہ خان نے دورہ کیا ہے۔ جس میں انھیں مہاجرین کی واپسی کے عمل سے آگاہ کیا گیا اور انھیں بتایا گیا کہ کس طریقہ کار کے تحت افغان پناہ گزینوں کی رجسٹریشن اور ان کی شناخت کی جاتی اور پھر کس طرح واپسی کا عمل مکمل کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں!

شعیب منصور اور ماہرہ کی ’ورنہ‘ کا انتظار

’کوئی کیوں طے کرے کہ آپ کون ہیں؟‘

افغان رہ سکتےہیں، پاکستانی ہندو کیوں نہیں؟

راشد خان: افغان پناہ گزین کا کرکٹ کی بلندیوں تک سفر

ہالی وڈ کی معروف اداکارہ انجیلینا جولی کے بعد پاکستانی فلم سٹار ماہرہ خان کو یو این ایچ سی آر نے خیر سگالی کی سفیر کے طور پر انتخاب کیا ہے۔ ماہرہ خان نے کہا کہ اس کام کے لیے منتخب ہونے پر انھیں خوشی ہے۔

ماہرہ خان نے صحافیوں کو بتایا کہ ’یہ افسوس کی بات ہے کہ دنیا بھر میں جتنے مہاجرین ہیں ان میں نصف تعداد بچوں کی ہے اور یہ لمحہ فکریہ ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ یہ کام سب کو مل کر کرنا ہے کیونکہ بچے کسی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔

ماہرہ خان کے ہمراہ یو این ایچ سی آر کے سربراہ فیلیپو گرینڈی اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ مارک لووکاک تھے۔

فلیلیپو گرینڈی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقاتیں کی ہیں اور انھیں پناہ گزینوں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بے گھر افراد کی واپسی رضا کارانہ ہوگی اور انھیں زبردستی واپس نہیں بھیجا جائے گا جسے وہ سراہتے ہیں۔

Image caption ماہرہ خان کے ہمراہ یو این ایچ سی آر کے سربراہ فیلیپو گرینڈی اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ مارک لووکاک تھے

انھوں نے کہا کہ اب تک 40 لاکھ سے زیادہ پناہ گزین واپس جا چکے ہیں اور انھیں یاد ہے کہ سال 202 کے بعد لوگ ٹرکوں پر سوار ہو کر واپس افغانستان جاتے تھے کیونکہ انھیں یقین تھا کہ افغانستان میں امن بحال ہوگا اور وہاں حالات بہتر ہوں گے لیکن بد قسمتی سے وہاں بد امنی کی وجہ سے واپسی کا سلسلہ تھم سا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں بین الاقوامی سطح پر افغانستان کی مدد کرنی چاہیے تاکہ وہاں حالات بہتر ہوں۔

پشاور میں یو این ایچ سی آر کے ترجمان قیصر خان آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سال اب تک ایک ہزار افراد وطن واپس جا چکے ہیں جبکہ 14 لاکھ افغان پناہ گزین اب بھی پاکستان میں مقیم ہیں۔

یو این ایچ سی ار نے دو سال پہلے واپس جانے والے پناہ گزینوں کے لیے امدادی رقم دو سو ڈالر فی کس سے بڑھا کر چار سو ڈالر کر دی تھی اور اس کے علاوہ پاکستان میں تشدد کے متعدد واقعات کے بعد افغان پناہ گزینوں کے خلاف پولیس نے کریک ڈاؤن شروع کر دیا تھا جس وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ واپس چلے گئے تھے لیکن چند ماہ بعد ہی بڑی تعداد میں وہی پناہ گزین واپس پاکستان آگئے تھے۔

اسی بارے میں