جوانی کا دوسرا نشہ

تصویر کے کاپی رائٹ JPNA2

اگر آپ نے میری طرح 2015 کی بلاک بسٹر فلم ’جوانی پھر نہیں آنی‘ دیکھی تھی تو شاید آپ کو یاد ہوگا کہ اس فلم کے مرکزی کردار تین مرد تھے جو ایک چوتھے مرد، یعنی اُن کے لفنٹر دوست کے بہکاوے میں آکر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر تھائی لینڈ گُلچھرّے اُڑانے جاتے ہیں۔ وہاں مختلف مُشکلات میں پھنستے ہیں اور آخرکار اپنی بیویوں کے ہاتھوں پکڑے جاتے ہیں۔

وہ فلم حیرت انگیز طور پر باکس آفس پر ریکارڈ بنانے میں کامیاب رہی، لیکن نہ تو اس کی کہانی بہت غیر معمولی تھی (وہ ایک انگریزی فلم ’ہینگ اوور‘ سے کافی متاثر لگتی تھی) اور نہ ہی وہ تکنیکی حوالے سے بطور فلم کچھ خاص دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی، حالانکہ اس میں مزاح کے کئی پہلو یقیناً تھے۔

عام طور پر لوگوں کا خیال تھا کہ اس کے سکرپٹ کی شعبدہ بازی (جو پرانے زمانوں میں نام نہاد ’چوّنی کلاس‘ کے مزاج کی تھی) اور یہ کہ اُن دنوں پاکستانی فلموں پر قحط پڑا ہوا تھا، اِن دونوں عناصر کا اس فلم کی کامیابی میں بڑا ہاتھ تھا۔

حسن زیدی کی مزید تحریریں پڑھیے

لوڈ ویڈنگ کا ڈبل لوڈ

طیفا کے نئے باب

’ورنہ‘۔۔۔ سر پکڑ کر بیٹھیے

دو سال آگے بڑھیے۔ جب اس فلم کی ٹیم یعنی پروڈیوسر ہمایوں سعید، ہدایتکار ندیم بیگ اور لکھاری واسع چودھری نے اعلان کیا کہ وہ ’جوانی پھر نہیں آنی 2‘ بنانے جا رہے ہیں تو میرے کچھ تحفظات تھے۔

پیسہ بنانا اپنی جگہ اچھا لیکن نہ صرف یہ کہ اس دوران ہمایوں اور ندیم دونوں ایک بہتر اوریجنل فلم (پنجاب نہیں جاؤں گی) بنا چُکے تھے اور کمتر فلم بنانے سے اُن کی ساکھ کو دھچکا لگتا، مجھے یہ بھی شک تھا کہ ’جوانی‘ جیسی کہانی کو اور کھینچا جا سکتا ہے۔

پچھلی فلم کے آخر میں شادی شدہ مرد توبہ کرلیتے ہیں اور لفنٹر دوست کو بھی شریکِ حیات مل جاتی ہے۔ کیا اب اُن سے پھر وہی حرکات کروائی جائیں گی؟ مجھے ڈر تھا کہ ’جوانی‘ زبردستی کی فلم محسوس ہوگی۔

مجھے یہ کہتے ہوئے بےحد خوشی ہے کہ میں بالکل غلط تھا۔

’جوانی پھر نہیں آنی 2` دراصل ’جوانی پھر نہیں آنی‘ سے کئی درجہ بہتر فلم ہے اور اس سے زیادہ مزیدار بھی۔

نہ تو اس میں پہلی فلم کی شعبدہ بازی ہے اور نہ اس کی کہانی سیکویل بنانے کی خاطر زبردستی ٹھونسی ہوئی لگتی ہے۔ تکنیکی طور پر اس کا معیار ندیم بیگ کے بطور ہدایتکار پختہ ہونے کا ثبوت تو ہے ہی لیکن اصل مہارت اس میں واسع چودھری کی ہے، جنہوں نے کہانی کو نہ صرف بڑھایا ہے بلکہ اس کو ایک نئ سمت بھی دی ہے۔

جب فلم شروع ہوتی ہے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ شیری (ہمایوں سعید) تُرکی میں خودکُشی کرنے والا ہے۔ پچھلی فلم میں شیری ہی باقی دوستوں کو بہکا کر تھائی لینڈ لے گیا تھا لیکن فلم کے آخر میں اس کو اپنی محبت مل گئی تھی۔

آگے جاکر یہ پتہ چلتا ہے کہ شیری کی بیوی سکائی ڈائیونگ کے ایک حادثے میں چل بسی تھی اور اس وقت سے شیری ڈیپریشن میں مبتلا ہوگیا ہے۔ فی الوقت ہمیں صرف یہ نظر آتا ہے کہ اس کے دو دوست، شیخ (واسع چودھری) اور پرویز عرف پیپے (احمد علی بٹ) اُس کو خودکُشی کرنے سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔

یہاں سے کہانی پیچھےکی طرف جاتی ہے اور پچھلی فلم سے اب تک کی روداد بیان کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ JPNA2

دوستوں سے شیری کا تعلق ٹوٹ چُکا تھا۔ اُن کا ایک دوست سیف (حمزہ علی عباسی) آسٹریلیا شِفٹ ہو گیا تھا۔ شیخ پولیس کی نوکری چھوڑ کر ایک ناکام سی سیکورٹی کمپنی چلاتا ہے اور اپنی پختون بیوی گُل کے طعنے سُنتا رہتا ہے۔

پیپے ایک چھوٹا سا جم چلاتا ہے اور ترکی میں رہنے والے اپنے امیر اور کامیاب سالے راحت (فہد مصطفیٰ) کی ترقی کی کہانیاں اپنی بیوی لبنیٰ (عظمیٰ خان) سے سُن سُن کر تنگ آچُکا ہے۔

جب لبنیٰ یہ اعلان کرتی ہے کہ اس کا بھائی سب کو ترکی اپنی منگیتر اور اس کے ابا سے ملوانے اور اپنا رشتہ پکّا کرنے کی خاطر بلا رہا ہے، تو پیپے نہیں جانا چاہتا۔ لیکن لبنیٰ کی ناراضی کے مدِ نظر اور شیخ کے اصرار پر، جو مفت کے ٹرپ پر خوش ہوتا ہے، وہ مان جاتا ہے۔

اور اس طرح پیپے اور شیخ اپنی بیویوں کے ہمراہ ترکی پہنچتے ہیں، جہاں اُن کی ملاقات راحت کی منگیتر زوئی (ماورا حسین) اور اس کے فیشن ڈیزائنر باپ بالانی (سہیل احمد) سے ہوتی ہے۔ یہ خاندان بہت مالدار ہے اور ساتھ ہی ساتھ بہت عجیب و غریب بھی۔ لیکن یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ راحت ہر صورت میں اس خاندان میں شادی کرنا چاہتا ہے۔

دریں اثناء پیپے اور شیخ کو ٹی وی کے ذریعے معلوم ہوتا ہے کہ شیری وہیں پر ایک پاگل خانے میں داخل ہے اور وہ اپنے پرانے دوست کو ملنے اُس کے پاس جاتے ہیں۔

پاگل خانے والے، جو شیری کی آئے دن خودکُشی کی کوششوں سے تنگ آچُکے ہیں، موقع غنیمت جان کر شیری کو اُن کی حوالے کر دیتے ہیں۔ لبنیٰ اور عظمیٰ شیری کو اپنے خاوندوں پر بُرا اثر سمجھتی ہیں، اور اُنہیں شیری کی اپنی زندگی میں دوبارہ آمد پر کوفت ہوتی ہے۔ لیکن وہ اُس کی حالت کے مدِ نظر اُسے تھوڑی دیر تک برداشت کرنے پر آمادہ ہو جاتی ہیں۔

ساتھ ہی ساتھ پیپے اور شیخ پر یہ راز بھی فاش ہوجاتا ہے کہ راحت اصل میں کامیاب بزنس مین نہیں بلکہ دو نمبری ہے، جس سے پیپے کو انتہائ خوشی ہوتی ہے کیونکہ اب راحت اسے دبا نہیں سکتا۔ بلکہ اب وہ اور شیخ مِل کر راحت کو اپنی باتیں منوانے کے لیے بلیک میل کر سکتے ہیں۔

اگر یہاں تک کی کہانی آپ کو کچھ گُنجلک اور ناقابلِ یقین لگ رہی ہے تو اس کے آگے کی کہانی میں اور بہت سے موڑ آنے باقی ہیں۔ اس میں شیری کا پھر محبت میں مبتلا ہونا، راحت کے پیچھے ایک مافیا کا لگنا، دبئ میں پاکستان اور انڈیا کی روایتی دشمنی، ایک غصّیلے لڑکی کے باپ کو منانا، اور پیپے کا ساڑھی میں ملبوس عورت کا روپ دھارنا شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ JPNA2

ظاہر ہے یہ ایسی کہانی نہیں ہے جس کا حقیقت سے قریبی موازنہ کرنا ضروری ہے۔ آپ ایسی فلمیں اُن کی روانی اور مزے کے لیے دیکھتے ہیں۔ اور اِن دونوں پیمائش کے اصولوں پر ’جوانی پھر نہیں آنی 2‘ بہت خوبصورتی سے پورا اُترتی ہے۔ اس میں کئ جگہ پر آپ کو بےساختہ ہنسی آجائے گی۔ اور کہانی کی منطق میں اس کے موڑ بھی صحیح بیٹھتے ہیں۔

نہ صرف ’جوانی 2‘ میں بیشمار ہنسا دینے والے جملے اور مرحلے ہیں بلکہ عموماً اس کے اداکاروں کی ’ٹائمنگ‘ بھی لاجواب ہے۔

اس حوالے سے ہمایوں سعید، فہد مصطفیٰ، واسع چودھری اور احمد علی بٹ کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ کنول جیت سنگھ ، جو دبئ میں انڈیا کے ایمبیسیڈر کا رول ادا کرتے ہیں، بہت عمدہ کام کرتے ہیں۔ سہیل احمد کا رول تھوڑا رسمی ہے لیکن شُکر یہ ہے کہ وہ اپنے بناوٹی زنانہ انداز میں حدیں پار نہیں کرتے۔

’جوانی‘ کی دنیا میں عورتوں کے رول خاص اہمیت کے نہیں ہوتے لیکن ثروت گیلانی خاص طور پر اپنا کردار نہایت خوبی سے نبھاتی ہیں۔ افسوس کہ عظمیٰ خان پہلی فلم کی طرح یہاں بھی دب جاتی ہیں۔ ماورا حسین اور کبریٰ خان (جو شیری کی نئ محبت اور انڈین ایمبیسیڈر کی بیٹی سلینا کا کردار ادا کرتی ہیں) گزارے لائق کام کرتی ہیں۔

شاید اگر اُن کے رول بہتر طرح سے لکھے جاتے تو اُن کو اپنی اداکاری کے جوہر دکھانے کا زیادہ موقع ملتا۔

عمر شہزاد سلینا کے منگیتر سلطان نواب کا کردار ادا کرتے ہیں، اور اگرچہ وہ کردار میں ضرورت سے زیادہ شدّت لے آتے ہیں، یہ ابھی اُن کی پہلی فلم ہے اور اُن میں ’اسکرین پریزنس‘ نظر آتی ہے جو خوش آئند بات ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ JPNA2

فلم کے گانے کچھ زیادہ یاد رہ جانے والے نہیں ہیں لیکن موقع کی مناسبت سے ٹھیک بیٹھتے ہیں۔ اِن میں شیراز اُپل کا ’بہکا رے‘ اور ساحر علی بگّہ کا ’عشق ہوا طاری‘ شجاع حیدر کے کوک اسٹوڈیو سے مشہور ہونے والے ’آیا لاڑیئے‘ کے بعد سب سے منفرد ہیں۔

جہاں تک ہدایتکاری کا تعلق ہے، اداکاروں کی مزاحیہ ٹائمنگ ہی ندیم بیگ کے ہُنر کی سب سے اچھی گواہی ہے۔ اس طرح کی فلم میں ہدایتکار کا نمایاں نہ ہونا ہی اچھی ہدایتکاری کی بہترین دلیل ہے۔ لیکن فلم کے کلائمیکس کے ایک سین نے مجھے سپین کے مشہور اور معروف ہدایتکار پیدرو آلمودووار کی یاد دلا دی۔ اُن کی مزاحیہ فلمیں بھی کچھ ایسے ہی ڈرامائی مسخرےپن سے بھری ہوتی ہیں۔

’جوانی پھر نہیں آنی 2‘ نے پاکستان کا باکس آفس ریکارڈ ایک بار پھر توڑ دیا ہے اور اب وہ پاکستانی فلموں کی کامیاب ترین فلم بن چُکی ہے۔

20 دنوں میں اس نے دنیا بھر سے53 کروڑ سے زیادہ کما لیا ہے۔ (اس سے پہلے دو پچھلے ریکارڈ بھی ہمایوں سعید اور ندیم بیگ کی فلموں نے ہی قائم کیے تھے، یعنی ’جوانی پھر نہیں آنی‘ اور ’پنجاب نہیں جاؤں گی‘ نے۔

کہا جاسکتا ہے کہ یہ پاکستانی سنیما کی سنہری جوڑی ہے۔ فلمسازوں کے لیے تو یہ بہت اچھی خبر ہے ہی لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ دیکھنے والوں کے لیے بھی یہ پیسہ وصول فلم ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں