پھانسے چڑھنے سے 24 گھنٹے پہلے۔۔۔
اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پھانسی چڑھنے سے 24 گھنٹے پہلے۔۔۔

سزائے موت کے خلاف عالمی دن کے موقع پر اپنی نوعیت کی پہلی اور منفرد پرفارمنس منگل کی رات 12 بجے سے بغیر کسی وقفے کے جاری ہے۔

یہ 24 گھنٹے کی پرفارمنس ذوالفقار علی خان کے بارے میں ہے جو سزائے موت کے قیدی تھے اور جنھیں 6 مئی 2015 کی صبح لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔ ذوالفقار علی نے اپنی پھانسی سے قبل کہا 'لکھے گئے تقدیر کے فیصلے کی سزا 19 سال کے طویل عرصے کے بعد پوری ہوئی۔'

ذوالفقار علی خان کو ان کے جیل کے ساتھی قیدی اور عملہ احتراماً ڈاکٹر ذوالفقار کہتے تھے۔ ان کے پاس علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے حاصل کردہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی تھی جو انھوں نے قید کے دوران حاصل کی۔ انہوں نے نہ صرف اپنی تعلیم مکمل کی بلکہ جیل میں قید درجنوں قیدیوں کو تعلیم دی اور اپریل سنہ 2009 کے آخر تک ان کے 12 قیدی شاگردوں نے بی اے، 23 نے انٹر اور 18 نے میٹرک کے امتحانات پاس کیے۔

ذوالفقار علی خان کا ایک خط جو ان کے وکلا نے بی بی سی کو دیا اس میں انھوں نے اپنے جیل کے ایام کے بارے میں تفصیل لکھی، اپنے خدشات، اپنی لاوارث بچیوں کے مستقبل اور ان کی تعلیم کے حوالے سے پریشانیوں کا ذکر کیا۔

بی بی سی کو اُن قیدیوں کے خطوط بھی پہنچے جنھوں نے ذوالفقار علی خان کے جیل میں مثالی کردار کے بارے میں لکھا اور اس بارے میں بھی لکھا کہ انھوں نے جیل میں تعلیم کیسے مکمل کی۔ جنہیں آپ اس لنک پر کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔

ذوالفقار علی خان کے کردار کو نامور ہدایت کار اور اداکار سرمد کھوسٹ ادا کررہے ہیں جن سے ہمارے نمائندے موسیٰ یاوری نے بات کی اور ان سے اس پرفارمنس کا مقصد پوچھا۔

سرمد نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’اس میں ایک چیلنج تھا، میں نے پہلے کبھی ایسی پرفارمنس نہیں کی، اس طرز کی پرفارمنس نہیں ہوئی۔ سو وہ تو تھا لیکن اس طرح کی چیز کو آپ 24 گھنٹے کا سکرپٹ نہیں دے سکتے۔ اس کا کوئی ڈائیلاگ ہے یا ایکشن ہے اس کو آپ نہیں کر سکتے جب تک آپ اس کو مہنیوں میں توڑ توڑ کر اور حصوں میں شوٹ کریں۔ لیکن یہ براہ راست ہے تو یہ ایسے ہی ہوگا جیسے ایک دن زندگی کا ہوتا ہے ۔ تو ادھر تک پہنچنے کے لیے ہم کچھ ایسی چیزیں کر رہے ہیں، تھیٹر میں ریہرسل بہت ضروری ہوتی ہے اس لیے ہم ریہرسل کافی عرصے سے کر رہے ہیں۔‘

اس سارے پروگرام کے لیے کام کرنے والی تنظیم جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی رمل محی الدین نے بتایا کہ ’کافی چیزیں جو لوگوں کو معلوم نہیں کہ جب کسی کو پھانسی دیتے ہیں تو کیا ہوتا ہے۔ مطلب کہ جو سزائے موت کا قیدی ہوتا ہے اس کو جب تین دن تک قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے۔ ان کو صرف چائے یا دودھ یا پیکٹ میں بسکٹ ملتے ہیں۔ ان کو کوئی کھانا نہیں ملتا کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ آپ بیمار ہوں۔ یہ چیز کافی پریشان کن ہے کہ ہم ایک بندے کو کہتے ہے کہ وہ مرنے کے لیے بالکل صحت مند ہو۔ کہ جب ایک بندہ بالکل صحت مند ہو، قابل ہو، کام کر سکتا ہو، اپنی پوری زندگی جی سکتا ہے۔ تب ہی آپ اس کو پھانسی دیں گے ورنہ اگر وہ بیمار انسان ہے تو اس کو پھانسی نہیں دے سکتے۔‘

بی بی سی اردو نے سزائے موت کے حوالے سے گذشتہ چار سالوں میں مختلف پہلوؤں پر کام کیا جن کے بارے میں ٹویٹس کا یہ سلسلہ ہمارے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر موجود ہے۔ آپ اسے پڑھ سکتے ہیں۔