اداکار ارشد حسین: ’لوگ سیلفی بنانے کو ترستے ہیں مگر مدد مانگو تو آنکھیں پھیر لیتے ہیں‘

ارشد حسین تصویر کے کاپی رائٹ Arshad Hussain
Image caption ارشد حسین کا تعلق مردان سے ہے۔ انھوں نے پاکستان ٹیلی ویژن اور نجی ٹی وی چینلز پر متعدد ڈراموں میں کام کیا ہے اس کے علاوہ وہ سٹیج اور ریڈیو پاکستان میں بھی ایک عرصے تک کام کر چکے ہیں

کسی بھی ملک کے فنکاروں اور اداکاروں کو اپنی شہرت اور شخصیت برقرار رکھنے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے۔ ان فنکاروں کو جب کام ملنا بند ہو جاتا ہے یا وہ کسی مشکل میں آتے ہیں تو شہرت کی اونچائیوں سے ایسے گرتے ہیں کہ سنھبل نہیں پاتے۔ ایسا ہی کچھ خیبر پختونخوا کے متعدد فنکاروں اداکاروں، گلو کاروں، شعرا اور ادیبوں کے ساتھ ہو چکا ہے۔

ٹی وی، فلم، سٹیج، ریڈیو اور دیگر فورمز پر گذشتہ 30 سال سے کام کرنے والے ارشد حسین آج کل کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں۔ جو کچھ ان کے پاس تھا اپنے علاج پر سب خرچ کر بیٹھے ہیں۔

ارشد حسین کے ساتھیوں کے مطابق اب وہ ہمت ہار چکے ہیں۔

ارشد حسین کی مالی مدد کے لیے خیبر پختونخوا کے فنکار متحد ہو گئے ہیں اور انھوں نے حکومت اور دیگر امدادی اداروں سے ان کی مدد کرنے کی اپیل کی ہے۔

پشاور میں اداکاروں اور فنکاروں نے ’سپورٹ ارشد حسین‘ کے نام سے ایک مہم شروع کی ہے جس کا مقصد ان کے علاج کے لیے رقم کا انتظام کرنا ہے۔

اس مقصد کے لیے پشاور پریس کلب میں بدھ کو ایک پریس کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں سینئیر اداکار، شعرا اور ادیب موجود بھی تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Arshad Hussain
Image caption ارشد حسین آج کل کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں

معروف گلوکار بختیار خٹک کا کہنا تھا کہ ارشد حسین نے دو سال تک اپنا علاج خود کرایا ہے، جس پر ایک اندازے کے مطابق 40 لاکھ روپے خرچہ آیا ہے، تاہم اب وہ ہمت ہار چکے ہیں اسی لیے ان کے ساتھی اداکاروں اور فنکاروں نے ان کی مدد کا بیڑا اٹھایا ہے۔

بختیار خٹک نے کہا کہ ایک فنکار کو اپنی شہرت اور شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے بہت کچھ کرنا ہوتا ہے جس میں لباس، خوراک، اس کا خوبصورت نظر آنا جیسے عوامل شامل ہیں جس کے لیے اسے خرچہ کرنا پڑتا ہے، تاہم اس کے لیے اس کا معاوضہ انتہائی کم ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کچھ عرصہ فنکاروں کو کام نہ ملے تو ان کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے اور سکرین پر شہرت کی جس چمک دمک کا وہ عادی ہوتا ہے اس سے گر جاتا ہے۔

بختیار خٹک کے بقول جس اداکار یا فنکار کے ساتھ لوگ ایک سیلفی بنانے کو ترستے ہیں، جب وہ کسی محکمے میں مدد کے لیے جاتا ہے تو سب آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔

Image caption گلوکارہ ستارہ، پروڈیوسر حمیداللہ، شاعر ادیب پروفیسر اباسین یوسفزئی، اداکار منتظم شاہ اور اداکارہ ثنا دائیں سے بائیں

معروف پشتو شاعر اور مصنف پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ارشد حسین کو علاج کی اشد ضرورت ہے اور اس کے لیے حکومت کو فوری اقدامات لینے چاہییں۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کو منصوبہ بندی کرنا ہو گی تاکہ اس حساس طبقے کے مسائل کا مستقل حل تلاش کیا جا سکے۔

پریس کانفرنس میں موجود سینئیر اداکار خالد خٹک کا کہنا تھا کہ محکمۂ ثقافت غیر فعال ہے اور اداکاروں اور فنکاروں کا استحصال کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر وہ یہ بتا دیں کہ آج بھی پی ٹی وی پر ایک سینیئر اداکار کو ریہرسل کے لیے جانے کے صرف 40 روپے ملتے ہیں تو شاید کوئی یقنین نہیں کرے گا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

فنکار اتنی کسمپرسی میں کیوں مرتے ہیں؟

’یہ فن میرے ساتھ ہی قبر میں چلا جائے گا‘

گلی میں ڈرامہ، تہہ خانے میں ڈی جے

انھوں نے کہا کہ اگر پشاور کا یہ نشتر ہال فنکاروں کے حوالے کر دیا جائے اور ابتدائی طور پر کچھ فنڈز جاری کر دیے جائیں تو امید ہے کہ اداکار معاشی طور پر کمزور نہیں رہیں گے۔

ارشد حسین کا تعلق مردان سے ہے۔ انھوں نے پاکستان ٹیلی ویژن اور نجی ٹی وی چینلز پر متعدد ڈراموں میں کام کیا ہے اس کے علاوہ وہ سٹیج اور ریڈیو پاکستان میں بھی ایک عرصے تک کام کر چکے ہیں۔

وہ گذشتہ 30 سالوں تک اس فیلڈ سے منسلک رہے ہیں۔ انھیں دو سال سے مثانے میں کینسر کا مرض لاحق ہے جس کے لیے وہ مختلف ہسپتالوں میں علاج کرا چکے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران متعدد اداکاروں اور فنکاروں نے اس شعبے کو خیر آباد کہہ دیا تھا۔ بیشتر گلوکار غیر ممالک منتقل ہو گئے ان میں گلزار عالم افغانستان اور عالم زیب مجاہد امریکہ چلے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے فنکاروں کی فلاح کے لیے اقدامات کیے تھے جس میں ایک فنڈ مقرر کیا گیا تھا۔

اس فنڈ سے ہر فنکار کو 30 ہزار روپے ماہانہ دیے جاتے تھے لیکن یہ سلسلہ چند ماہ تک جاری رہا تھا اور اس کے بعد فنڈ کی فراہمی بند کر دی گئی تھی۔

اسی بارے میں