پرینکا چوپڑا: ’میں اس وقت بہت خوش ہوں، ایسی چیزیں مجھے پریشان نہیں کر سکتیں‘

پرینکا اور نک جوانس کی شادی حال ہی میں ہوئی ہے تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پرینکا اور نک جوانس کی شادی حال ہی میں ہوئی ہے

ایک امریکی ویب سائٹ کے آرٹیکل میں ’دھوکے باز‘ قرار دیے جانے کے بعد انڈیا میں سوشل میڈیا صارفین اداکارہ پرینکا چوپڑا کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہے ہیں۔

دی کٹ میں شائع کیے جانے والا یہ مضمون اب ہٹا لیا گیا ہے تاہم اس میں کہا گیا تھا کہ اداکارہ نے امریکی گلوکار نک جونس کو ’پھنسا کر ان سے شادی کی تاکہ ان کے کریئر کو سہارا مل سکے‘۔

انڈین عوام خاص کر جو پہلے اس شادی کو پسند نہیں کر رہے تھے وہ بھی پرینکا کا دفاع کرنے لگے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پرینکا کے 75 فٹ لمبے دوپٹے نے میگن مارکل کو بھی مات دے دی

پرینکا چوپڑا نے نِک جونس سے شادی کر لی

ہندو شدت پسند پلاٹ پر پرینکا چوپڑا کی معافی

خود پرینکا چوپڑا نے ہندوستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس آرٹیکل پر ’ردِ عمل یا بیان‘ نہیں دینا چاہتیں۔

ان کا کہنا تھا ’میں اس وقت بہت خوش ہوں۔ ایسی چیزیں مجھے پریشان نہیں کر سکتیں۔‘

کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مضمون نسل پرستی پر مبنی ہے۔

اس خبر نے ایک طرح سے اس جوڑے کے بارے میں حالیہ شادی کی خبروں میں ان لوگوں کے لیے پھر سے جان بھر دی ہے جن کا ان کی شادی کی تازہ ترین خبروں سے دل بھر گیا تھا۔ اب وہ سب پرینکا کا دفاع کر رہے ہیں۔

حتیٰ کہ وہ لوگ بھی جو اس شادی کو غیر ضروری طور پر شاہانہ قرار دے رہے تھے خصوصاً 75 فٹ لمبے گھونگھٹ کی وجہ سے جسے ایک ٹیم کو اٹھا کر لانا پڑا۔

اس سے پہلے پرینکا چوپڑا کے نک جونس کے ساتھ بڑھتے مراسم کی خبروں پر کئی انڈینز خوش نہیں ہوتے تھے۔ کئی لوگ یہ جانتے تک نہیں تھے کہ نک جونس کون ہیں لیکن پھر بھی انھیں سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر یا پوسٹس پسند نہیں تھیں جن میں وہ ساتھ ساتھ نظر آتے تھے۔

لیکن دی کٹ میں شائع ہونے والے مضمون نے سب کچھ بدل دیا۔

یکم دسمبر کو 36 سالہ پرینکا چوپڑا اور 26 سالہ نک جونس کی شادی کے تین دن بعد شائع ہونے والے اس آرٹیکل میں لکھا گیا ’کچھ ہے جو لوگوں کو پتا نہیں ہے یا انھوں نے اسے تسلیم کر لیا ہے کہ میرے خیال میں پرینکا چوپڑا دور جدید کی ایک ’فریبی اداکارہ‘ ہیں۔ یہ سچ ہے کہ نک جونس یکم دسمبر کو ایک دھوکہ دہی پر مبنی رشتے میں بندھ گئے ہیں۔‘

انڈینز نے فوراً ہی جوڑے کے تعلق کو دھوکہ قرار دیے جانے کو مسترد کیا اور کہا کہ آرٹیکل کے مصنف کے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ نک نے یہ تعلق نہ چاہتے ہوئے قائم کیا ہے۔

انڈینز اور دیگر اشاعتی اداروں کی جانب سے مذمت کیے جانے پر اس آرٹیکل کو ’تبدیل‘ کر دیا گیا۔ اور بدھ کی شام تک یہ آرٹیکل ویب سائٹ سے ہٹا ہی دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی یہ کہا گیا کہ یہ اشاعت ایک غلطی تھی۔

لیکن اس وقت تک نقصان ہو چکا تھا اور اس بارے میں ٹویٹس اور پوسٹس پھیلنے لگیں اور لوگوں نے اس پر حیرت کا اظہار کیا۔

اس متنازع آرٹیکل کو کئی انڈینز اور امریکی ویب سائٹس نے نشانہ بنایا اور اسے ’زینوفوبک‘ یعنی غیر ملکیوں سے نفرت پر مبنی قرار دیا۔

نیوز لانڈری میں صحافی نیشا سوسن نے سوال کیا کہ ماریا سمتھ کا تحریر کردہ یہ مضمون ’نشے میں کی گئی اشاعت‘ تھی۔

خواتین کے حقوق کی علمبردار ایک امریکی ویب سائٹ ’جیزیبل‘ میں پراچی گپتا نے اس آرٹیکل کے لب لباب کو کچھ اس طرح بیان کیا ’اس میں پرینکا چوپڑا کو شہرت کی بھوکی غیر ملکی، جس نے انڈیا میں نام کمایا اور اب امریکہ میں کامیابی پر نگاہیں جمائے ہوئے ہے اور اس کے لیے اس کی سیڑھی بھلا کون ہے؟ ایک سفید مرد۔‘

ان کا مزید کہنا تھا یہ مضمون ’سراسر نسل پرستانہ اور صنفی امتیاز پر مبنی ہے۔‘

جلد ہی بالی وڈ اور ہالی وڈ کے فنکاروں نے بھی اس مضمون کے خلاف ٹویٹ کرنا شروع کر دیں جن میں سونم کپور، پرینکا کے دیور جو جونس، گیم آف تھرونز کی اداکارہ صوفی ٹرنر شامل ہیں۔

اسی بارے میں