مولے نو مولا نہ مارے تے مولا نئی مردا: ’دا لیجینڈ آف مولا جٹ' کا پہلا ٹریلر جاری

دا لیجینڈ آف مولا جٹ تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption دا لیجینڈ آف مولا جٹ کا پوسٹر

سنہ 1979 میں پاکستانی سنیما کی مشہور ترین فلم 'مولا جٹ' ریلیز ہوئی تھی جس نے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کیے تھے اور اسے ابھی بھی پاکستانی فلم انڈسٹری کی سب سے اہم فلم قرار دیا جاتا ہے۔

تقریباً چار دہائی بعد ہدایتکار بلال لاشاری نے پاکستانی تاریخ کی اس معرکتہ الآرا فلم کو دوبارہ نئے سرے سے بنانے کا فیصلہ کیا اور جمعے کی شام 'دا لیجینڈ آف مولا جٹ' کا پہلا ٹریلر جاری کیا گیا جس نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا۔

فواد خان، ماہرہ خان، حمزہ علی عباسی اور حمائمہ ملک جیسے ستاروں کی کاسٹ والی اس فلم کا دو منٹ بائیس سیکنڈ طویل ٹریلر جیسے ہی ٹوئٹر، فیس بک اور یو ٹیوب پر سامنے آیا تو جیسے ایسا محسوس ہوا کہ پاکستانی شائقین اس فلم کے لیے ترسے ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

یہ بھی پڑھیے

جب لکشمی چوک میں ہر طرف علی اعجاز نظر آتے تھے

معروف اداکار علی اعجاز انتقال کر گئے

محض چند گھنٹوں میں اس فلم سے متعلق پانچ موضوعات پاکستان کے سب سے بڑے ٹرینڈز میں شامل ہو گئے۔

یہی نہیں، انڈیا سے کچھ صارفین نے تبصرہ کیا کہ اس فلم کے بارے میں تو انڈین ٹوئٹر پر بھی ذکر ہو رہا ہے اور وہ وہاں کہ چند بڑے ٹرینڈز میں سے ایک ہے۔

یونس ملک کی ہدایتکاری میں بننے والی مولا جٹ میں سلطان راہی نے مرکزی کردار ادا کیا تھا جبکہ ان کے ساتھ مشہور زمانہ ولن نوری نت کا کردار مصطفی قریشی نے ادا کیا تھا جبکہ فلم کے لکھاری ناصر ادیب تھے۔

بلال لاشاری کی فلم میں مولا جٹ کے لیے فواد خان کو چنا گیا جبکہ حمزہ علی عباسی نوری نت کا کردار ادا کریں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فلم کے لکھاری بلال لاشاری کے علاوہ ناصر ادیب خود ہیں۔

Image caption چار دہائی قبل بننے والی فلم مولا جٹ کا پوسٹر

چار دہائی قبل بننے والی فلم کی کہانی پنجاب کے شہر گجرانوالہ کے دیہاتی علاقوں کے گرد گھومتی ہے جس میں ایک نوجوان پنجاب کے گاؤں میں ظالم زمینداروں کے خلاف ہتھیار اٹھا لیتا ہے اور اپنے سب سے بڑے دشمن نوری نت کو شکست دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

'دا لیجینڈ آف مولا جٹ' کے ٹریلر آنے پر فلم کے ہیرو فواد خان نے مولا جٹ کے تاریخی ڈائیلاگ کو استعمال کرتے ہوئے ٹریلر کی ٹویٹ کی۔

فلم کی ہیروئن ماہرہ خان نے اپنی ٹویٹ میں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں سے اپنی سالگرہ کی نیک تمنائیں وصول کر رہی ہیں اور فلم کے ٹریلر کے ریلیز پر مبارک باد بھی۔

بالی وڈ کے معروف ہدایتکار انوراگ کشیاپ نے بھی ٹریلر کے ریلیز پر اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

اس کے علاوہ شائقین نے بھی اپنی خوشی کا اظہار کیا اور ٹریلر کی تعریف کی۔

لیکن جہاں اس فلم کے ٹریلر کو بے حد سراہا گیا، وہیں چند صارفین نے تبصرہ کیا کہ کیا فلمساز اصل فلم کی روح کو برقرار رکھ سکیں گے یا نہیں۔

حسن چیمہ نے اس پر ٹویٹ کی کہ نوری نت کا بحیثیت ولن کا کردار بہت زبردست تھا اور انھیں ڈر ہے کہ نئی فلم میں اسے کہیں تبدیل نہ کر دیا ہو۔

اسی طرح ایک اور صارف شیری نے کہا کہ میں اصل فلم کی بہت بڑی فین ہوں لیکن میں اس نئی فلم کو پرانی والی سے الگ کر کے دیکھوں گی کیونکہ اس فلم میں جو دونوں مرکزی کرداروں کا رول تھا وہ ناقابل فراموش ہے۔

یہی تاثر صارف جنید کا تھا جنھوں نے کہا کہ اس فلم کے ٹریلر کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ اطالوی شہر روم میں بنی ہے، نہ کہ پنجاب میں۔

اسی طرح ایک اور صارف ماہو نے لکھا کہ اس فلم کا ٹریلر بہت زبردست ہے لیکن مجھے نہیں پتا کہ کیا میں پرانی فلم سے خود کو الگ کر سکوں۔

ایک جانب شائقین کی اکثریت فلم کا شدت سے انتظار کر رہی ہے اور دوسری جانب چند اپنے خدشات بیان کر رہے تھے، وہیں چند اور صارفین ایسے بھی تھے جو یہ سوچ رہے تھے کہ پنجابی زبان والی فلم کراچی کے رہائشیوں کو کیسے سمجھ آئے گی۔

ٹریلر کے مطابق اگلے سال جون میں عید الفطر کے موقع پر یہ فلم عام نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔

’فلم کے کاپی رائٹس حقوق پر تنازع‘

واضح رہے کہ مقامی اخباروں کے مطابق فلم کا ٹریلر جاری ہونے سے چند روز قبل فلم کی پروڈیوسر عمارہ حکمت کی جانب سے لاہور میں ایف آئی اے کو اپیل درج کی گئی ہے جس میں فیس بک پر ایک صارف کی شکایت کی گئی ہے کہ وہ ’دا لیجینڈ آف مولا جٹ‘ کے خلاف منفی پراپیگینڈا کر رہا ہے اور اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔

عمارہ حکمت کی اپیل کے مطابق مبینہ طور پر لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس سے فارغ التحصیل فلمساز نے فیس بک پر عمارہ حکمت اور بلال لاشاری کے خلاف منفی باتیں کہیں ہیں اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

اس اپیل کے نتیجے میں عدالت نے فیس بک کو صارف کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

اسی بارے میں