یہ ملک ہمارا ہے اور کسی میں ہمیں یہاں سے نکالنے کی ہمت نہیں: نصیر الدین شاہ

نصیرالدین شاہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نصیر الدین شاہ یکے بعد دیگرے کئی تنازعے میں گھرتے نظر آ رہے ہیں

بالی وڈ اداکار نصیر الدین شاہ نے رواں ہفتے ایک متنازع بیان دے کر جیسے بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ دے ڈالا۔

ویسے ان کے اس بیان کو متنازع کہنا غلط ہو گا کیونکہ انھوں نے انڈیا کے موجودہ حالات میں اپنے کچھ خدشات کا اظہار کیا ہے جوایک آزاد ہندوستانی ہونے کے ناطے ان کا بنیادی حق ہے۔

دراصل نصیر الدین شاہ حال ہی میں ریاست اتر پردیش میں پر تشدد ہجوم کے ہاتھوں ایک پولیس افسر کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے اظہار تشویش کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج انڈیا میں جو حالات ہیں جہاں ایک انسان کے مقابلے میں گائے کی موت کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اب اس جن کو واپس بوتل میں بند کرنا بہت مشکل ہو گا۔

نصیر الدین شاہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھیں اپنے بیٹوں عماد اور ووان کی فکر ہے کیونکہ انھوں نے اپنے بچوں کو کسی خاص مذہب کی تعلیم نہیں دی اگر کل کوئی بھیڑ انھیں گھیر لیتی ہے تو وہ کیا بتائیں گے کہ وہ کون ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مجھے اس سب پر خوف نہیں آتا بلکہ غصہ آتا ہے۔

بہر حال نصیر الدین شاہ کے اس بیان کے فوراً بعد ہی بھکتوں کو کام مل گیا اور سوشل میڈیا پر نصیر الدین شاہ کو پاکستان کا ٹکٹ کٹوانے کے مشوروں کے ساتھ انھیں غدار کا خطاب دیا جانے لگا۔ لیکن نصیراالدین شاہ نے سوشل میڈیا پر ان ٹرولز کا منھ توڑ جواب پہلے ہی دیدیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 'یہ ہمارا ملک ہے اور کسی کی ہمت نہیں کہ وہ ہمیں یہاں سے نکالے۔'

یہ بھی پڑھیے

’کوہلی دنیا کے سب سے بدتمیز کھلاڑی ہیں‘

’ہر ورکنگ وومن کا شوہر سیف جیسا ہونا چاہیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

یکساں مواقع

رواں ہفتے بالی وڈ کے کچھ بڑے فلم سازوں اور اداکاروں کے ایک بڑے وفد نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور ملک میں جی ایس ٹی کے نفاذ سے انڈسٹری کو درپیش مالی مسائل ان کے سامنے رکھے۔

یہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اس وفد میں کسی خاتون اداکارہ یا فلمساز کو شامل نہیں کیا گیا یعنی اس وفد میں صرف اور صرف مرد شامل تھے جس پر انڈسٹری کی خواتین نے جم کر اعتراض کیا۔

ان میں سب سے پہلے اداکارہ اور فلمساز دیا مرزا معترض ہوئیں۔ دیا مرزا نے سوشل میڈیا پر اکشے کمار کو ایک پوسٹ لکھا کہ پوری انڈسٹری کی نمائندگی صرف مرد کیسے کر سکتے ہیں؟

دیا کے اس اعتراض کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں نے دیا سے سوال کیا کہ ہر بات میں مرد عورت کا مقابلہ کیوں؟ تو دیا کا جواب تھا کہ یہ بات مقابلے کی نہیں یکساں مواقع کی ہے۔ دیا مرزا کا اعتراض بجا ہے لیکن پِدر شاہی والی ذہنیت کے غلبے میں شاید لوگوں کو اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ کسی مسئلے پر عورتوں کی رائے شامل ہونا ضروری ہے اور یہی ذہنیت عورت کے وجود کو جھٹلاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

وہ خوشی ملی ہے مجھکو۔۔۔

اسی انڈسٹری میں رنویر سنگھ جیسے مرد بھی ہیں جو کھلے عام اپنی بیگم کو اپنی خوش قسمتی اور اپنی زندگی میں ہونے والا چمتکار کہتے ہوئے محفلوں میں خوش و خرم شامل ہو رہے ہیں۔

چاہے وہ امبانی کی بیٹی کی شادی ہو یا پرینکا کے ولیمے کی دعوت، رنویر کی خوشی چھپائے نہیں چھپ رہی ہے۔ اسی ہفتے سٹار سکرین ایوارڈز میں جب انھیں بہترین اداکار کا ایوارڈ دیا گیا تو رنویر سنگھ کا کہنا تھا کہ اس سے خوبصورت زندگی ہو ہی نہیں سکتی۔

یہ بھی پڑھیے

دیپکا اور رنویر کی شادی 14، 15 نومبر کو

رتک روشن کا فلرٹ یا ’ریٹنگ بڑھانے کا گھٹیا طریقہ'

ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ سے ہی یہ خواب دیکھا کرتے تھے کہ ایک دن ان کی شادی دپیکا سے ہو گی اور ایوارڈ لیتے وقت وہ انکے ساتھ ہوں گی اور آخر کار ان کے ساتھ یہ چمتکار ہو ہی گیا۔ رنویر سنگھ ان اداکاروں میں سے ایک ہیں جنھوں نے دپیکا کے ساتھ تین فلموں میں کام کیا اور انھیں اپنی ہیروئن سے کہیں کم فیس دی گئی جسے انھوں نے بڑے فخر کے ساتھ قبول کیا۔

اسی بارے میں