جسٹن ٹروڈو سے مشابہت نے افغان گلوکار کو مشہور کر دیا

Composite image of Justin Trudeau and Abdul Salam Maftoon تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جسٹن ٹروڈو اور عبدل سلام مفتون کا موازنہ۔

ایک جی سیون تنظیم کے رکن ممالک میں سے ایک کے سربراہ ہیں جبکہ دوسرے شادیوں میں گانے گانے والے، لیکن آپس میں ان کی مشابہت افغانستان میں ایک مقبول ٹیلنٹ شو کے نتائج پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔

شمال مشرقی افغانستان سے تعلق رکھنے والے عبدالسلام مفتون کی وجۂ شہرت کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو سے مشابہت رہی ہے۔

29 سالہ مفتون اب افغانستان میں گلوکاری کے مشہور مقابلے ’افغان سٹار‘ میں حصہ لے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پشاور کے گلوکار کے لیے اعلیٰ افغان صدارتی ایوارڈ

مقابلے کے ایک جج نے اس مشابہت کی طرف لوگوں کی توجہ دلائی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب مفتون آخری آٹھ امیدواروں میں سے ایک ہیں۔

صوبہ بدخشاں سے تعلق رکھنے والے مفتون نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ: ’مجھے سوشل میڈیا پر جسٹن ٹروڈو کی تصاویر دیکھنے سے پہلے ان کے بارے میں کچھ معلوم نہ تھا‘۔

ان کے بقول ’مشابہت کی بدولت میرے جیتنے کے امکانات 50 فیصد بڑھ گئے ہیں‘۔

افغانوں نے انٹرنیٹ پر ان دونوں کی متعدد تصاویر لگائی ہیں جن میں دونوں کا موازنہ کیا جا رہا ہے۔

شو کے ایک افغان نژاد کینیڈین جج، قیس الفت نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے یہ مشابہت پہلی دفعہ تب محسوس کی جب وہ آخری 12 امیدواروں کو مشق کروا رہے تھے۔

انھوں نے کہا: ’میں نے محسوس کیا یہ بالکل میرے وزیر اعظم کی طرح دکھائی دیتا ہے تو میں اور شو کے میزبان اس بارے میں ہنسنا شروع ہو گئے‘۔

اس مشابہت کا ذکر ٹی وی پر براہ راست ہوا جس کی وجہ سے مفتون بہت جلد مقبول ہو گئے۔ قیس الفت کہتے ہیں: ’اس کے بعد وہ وائرل ہو گئے، ہر کوئی سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں بات کر رہا تھا‘۔

افغان سٹار ملک کے مقبول شوز میں سے ایک ہے۔ یہ شو طالبان کی حکومت کے خاتمے کے چار سال بعد 2005 میں شروع ہوا تھا۔

اس وقت سے عسکریت پسند گروہ نے اسے اسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دیا اور اسے نقصان پہنچانے کی دھمکیاں بھی دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty
Image caption 29 سالہ مفتون کا تعلق صوبہ بدخشاں سے ہے

لیکن اپنے صوبے کے روایتی لباس میں ملبوس مفتون نے جب پشتو اور دری زبان میں رومانوی لوک نغمے پیش کیے تو انھوں نے ججوں اور سامعین دونوں کو متاثر کیا۔

الفت کہتے ہیں: ’وہ ایک باصلاحیت فنکار ہیں، میں ان کی ترقی کے لیے دعا گو ہوں‘۔

اس شو کا فائنل 21 مارچ یعنی نوروز کی شام کو ہو گا۔

لیکن ہار ہو یا جیت مفتون کو یہ معلوم ہے کہ ان کی اس نئی شہرت کی بدولت ان کے شادیوں پر گانے والے کاروبار کو بہت فائدہ ہونے والا ہے۔

انھوں نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ وہ اب اپنے ہمشکل وزیراعظم ٹروڈو سے ملاقات کے خواہاں ہیں۔ انھوں نے کہا: ’وہ ایک بین الاقوامی شخصیت ہیں جبکہ میں افغانستان کے دور دراز علاقے سے تعلق رکھنے والا ایک غریب شخص ہوں‘۔

اسی بارے میں