کنگنا راناوت کی زبان کی دھار میں تیزی برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ MANIKARNIKA FILM POSTER
Image caption منیکرنیکا فلم کا ایک منظر جو کہ 25 جنوری کو ریلیز ہونے والی ہے

سنہ2009 :- 'فلم انڈسٹری میں کام کرنے والی لڑکیاں اپنے آپ کو صرف ایک جنسی شئے کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ انھیں ایکٹنگ سے زیادہ اپنے لُکس کی فکر رہتی ہے۔'

سنہ 2019 :- 'چار تاریخ دانوں نے منیکرنیکا کو پاس کیا ہے۔ اگر کرنی سینا نے میری فلم کی مخالفت کی تو میں بھی راجپوت ہوں، انھیں برباد کر دوں گی۔'

سماجی میڈیا پر جاری دس سالہ چیلنج (10YearChallenge#) کے ضمن میں مندرجہ بالا دو بیانوں کو دیکھاجائے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ جس زبان سے یہ الفاظ نکلے ہیں ان کی دھار میں مسلسل تیزی آئی ہے۔

(خیال رہے کہ کرنی سینی نامی تنظیم نے اس سے قبل رانی پدماوتی پر منبی فلمی کی مخالفت کی تھی)

اس تیز دھار والی زبان کی ملکہ بالی وڈ اداکارہ کنگنا راناوت ہیں جن کی زبان کے وار سے کئی بڑے اداکار اور ہدایتکار بھی گھایل نظر آتے ہیں۔

یہ وہی کنگنا ہیں جن کی 'بے مثال' اداکاری کے سبب کبھی انھیں 'کوئن' یا رانی، تو کبھی 'تنو' اور کبھی 'سمرن' پکارا گیا کیونکہ وہ اپنے کرادار میں پوری طرح ضم ہونے کا ہنر جانتی ہیں۔

ان کی ادکاری تو بولتی ہی ہے لیکن ان کی زبان کا شور بھی کم نہیں۔ بالی وڈ میں 'اقربا پروری' پر انھوں نے زور شور سے اپنی آواز بلند کی جبکہ انھوں نے اپنے رشتوں میں آنے والی تلخيوں پر بھی سامنے والے کو زیر کرتی نظر آئیں۔

یہ بھی پڑھیے

مجھے ہر چیز کے لیے لڑنا پڑتا ہے: کنگنا رناوت

عمران خان کے نام کنگنا رناوت کا پیغام

کریئر کے جس دور میں دوسری اداکارہ اپنے لیے کسی گاڈ فادر کی متلاشی ہوتی ہیں اس دور میں کنگنا خود کو کسی باغی کی طرح پیش کر رہی ہیں۔

وہ فلمی دنیا کی رنگا رنگ لیکن تنگ گلیوں میں لکھی جانے والی سکرپٹ میں اپنا دخل چاہتی ہیں۔ اپنے مکالمے کا انتخاب کرتی ہیں اور ہدایت میں بھی اپنا دخل چاہتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کنگنا کے ماضی پر ایک نظر

بالی وڈ کی چمک دمک سے دور وہ پہاڑی ریاست ہماچل پردیش کے منڈی ضلعے میں 23 مارچ سنہ 1987 کو پیدا ہوئیں لیکن ان کی پیدائش پر خوشیوں کے بجائے ماتم منایا گیا۔ اس کی وجہ گھر والوں کی لڑکے کی شدید خواہش تھی کیونکہ وہاں پہلے سے ہی ایک بچی کی ولادت ہو چکی تھی۔

لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان متعصب رویے پر بھی وہ بولتی رہی ہیں۔ انھوں نے کئی بار اپنے گھر کی بھی مثالیں دی ہیں کہ ان کی پیدائش پر گھر میں ماتمی ماحول تھا کیونکہ وہ 'انچاہی بچی' تھیں یعنی گھر والے ان کی پیدائش نہیں چاہتے تھے۔ شاید یہی 'انچاہے پن' نے ان میں باغی ذہنیت کی پرورش کی۔

انڈیا کے اخبار ہندوستان ٹائمز کے ساتھ بات چیت کے دوران کنگنا نے اپنے بچپن کے بارے میں کہا: 'میں بچپن سے ہی ضدی اور باغی ذہنیت کی ہوں۔ اگر میرے والد میرے لیے گڑیا اور بھائی کے لیے پلاسٹک کی بندوق لاتے تو میں گڑیا لینے سے انکار دیتی۔ مجھے تفریق پسند نہیں تھی۔'

کنگنا ہماچل پردیش سے نکل کر پہلے پنجاب کے دارالحکومت چنڈیگڑھ اور پھر 16 سال کی عمر میں دہلی آ گئیں۔ کچھ عرصے بعد انھیں ماڈلنگ کی پیشکش ہونے لگی اور کنگنا رفتہ رفتہ پہاڑوں سے اتر کر میدانی رنگوں میں ڈھلنے لگیں۔

انھوں نے چند ماہ تک اسمیتا تھیئٹر گروپ سے اداکاری کی تربیت بھی لی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایوارڈ لینے سے اجتناب

جب کنگنا نے فلم انڈسٹری میں اپنا کریئر بنانے کا خیال ظاہر کیا تو ان کا فیصلہ گھر کے افراد کو ناگوار گزرا۔ کنگنا کہتی ہیں: 'جب مجھے پہلی فلم کا آفر ملا تو خوش ہو کر میں نے گھر والوں کو بتایا۔ جب میری ماں کو یہ پتہ چلا کہ اس فلم کو وہی ڈائریکٹر بنا رہے ہیں جنھوں نے فلم 'مرڈر' بنائی ہے تو انھیں تشویش ہونے لگی۔ انھوں نے سوچا کہ کوئی میری بلو فلم بنا دے گا۔'

کنگنا کی پہلی فلم 'گینگسٹر' تھی۔ کسی کے وہم و گمان بھی نہیں آیا ہوگا کہ گھنگھرالے بالوں والی، پتلی دبلی نازک سی ایک لڑکی جو ہندی بھی صاف صاف نہیں بول پا رہی تھی وہ ایک دن فلم انڈسٹری کے بڑے بڑے سورما کے خلاف مورچہ کھول دے گی۔

سنہ 2006 میں 'گینگسٹر' کے ساتھ 'رنگ دے بسنتی'، 'لگے رہو منا بھائی'، اور 'فنا'، جیسی کئی بڑی فلمیں ریلیز ہوئیں لیکن کنگنا کو ان کی پہلی ہی فلم کے لیے 'بیسٹ فیمیل ڈیبیو' کے ایوارڈ سے نوازا گيا۔

یہ بھی پڑھیے

'بولے چوڑیاں بولے کنگنا'

مجھے مردوں سے نفرت نہیں ہے: کنگنا

پہلی فلم کے ساتھ جو ایوارڈ کا سلسلہ شروع ہوا وہ مسلسل جاری رہا۔ فلم 'فیشن' میں انھوں نے نشے میں ڈوبی ہوئی خود بین و خود آرا ماڈل کا کردار اس خوبصورتی کے ساتھ ادا کیا کہ انھیں قومی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

اس کے بعد کنگنا کو 'کوئن' اور 'تنو ویڈز منو' کے لیے سنہ 2015 اور سنہ 2016 کا قومی ایوارڈ دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جبکہ اس دوران انھوں نے سنہ 2014 میں مختلف اداروں کی جانب سے دیے جانے والے فلمی ایوارڈ کا بائیکاٹ کیا۔ انھوں نے تمام ایوارڈز شو کو 'بے بنیاد' قرار دیا۔

ایک انٹرویو میں کنگنا نے کہا: 'ان ایوارڈز کا مقصد صرف اپنا وکیپیڈیا کا صفحہ پُر کرنا ہوتا ہے۔ ابتدا میں، میں بہت اچھی طرح سے تیار ہوکر ان ایوارڈز تقاریب میں جاتی تھی۔ لیکن ایک بار مجھے 'لائف ان اے میٹرو' کے لیے ایوارڈ دیا جانا تھا۔ میں ٹریفک میں پھنس گئی۔ جب تک میں وہاں پہنچی میرا ایوارڈ سوہا علی خان کو دے دیا گیا۔'

کنگنا نے معروف فلم ساز کرن جوہر کو اُنھی کے شو 'کافی ود کرن' میں مووی مافیا اور اپنی فلموں کے ذریعہ اقربا پروری کو فروغ دینے والا کہا۔

کنگنا کے اس انٹرویو کے بعد بالی وڈ میں اقربا پروری پر زور شور سے بحث شروع ہو گئی۔ فلم انڈسٹری دو حلقوں میں منقسم ہو گئی۔ کرن جوہر اور ان کے بہت سے قریبی ساتھیوں نے کنگنا سے دوری بنا لی۔

یہ بھی پڑھیے

کرن اور کنگنا کی نوک جھوک تلخی میں تبدیل

یہ خیال ظاہر کیا جانے لگا کہ اس انٹرویو کے بعد کنگنا کا بالی وڈ میں ٹھہرنا مشکل ہو جائے گا۔ انھیں فلمیں نہیں ملیں گی۔

بہر حال اس کے باوجود ان کی زبان کی دھار کند نہیں پڑی۔ ایک بار پھر انھوں نے کہا کہ انھیں فلم انڈسٹری میں 'کسی خان یا کپور کی ضرورت نہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کنگنا اپنے تعلقات کے بارے میں کھل کر بات کرنے کے لیے بھی جانی جاتی ہیں۔ اداکار رتک روشن کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں بھی انھوں نے باتیں کیں اور ایک انٹرویو میں انھیں 'سلی ایکس' یعنی 'نادان سابق' بھی کہا۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان ای میلز سامنے آنے لگے اور بالی وڈ ایک بار پھر کئی خیموں میں منقسم نظر آیا۔

بعض حلقوں سے کنگنا کے کردار پر بھی سوال اٹھایا گیا۔ کسی وقت کنگنا کے عاشق رہنے والے ادین سمن نے تو یہاں تک کہ دیا کہ کنگنا نے ان پر کالا جادو کروایا تھا۔

بہر حال ان تمام تنازعات کے بعد بھی کنگنا بالی وڈ میں اپنی مسکراہٹوں کے ساتھ قائم ہیں اور ان کی آنے والی فلم 'منی کرنیکا' جو کہ جھانسی کی رانی کے کردار پر مبنی ہے اس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں