شو بز راؤنڈ اپ: سیف علی خان اپنی بیٹی سارہ کے بارے میں فکر مند کیوں ہیں؟

سارہ علی خان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سیف علی خان کی بیٹی سارہ علی خان بالی وڈ کے افق پر چمکنے والا وہ نیا ستارہ ہے جس کے بارے میں ہر کوئی بات کر رہا ہے اور کیوں نہ کرے سارہ نے انڈسٹری میں آتے ہی دو فلمیں دی ہیں جن میں سے پہلی فلم' کیدار ناتھ' کامیاب رہی اور دوسری 'سمبا' باکس آفس پر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔

اداکاری کے علاوہ سارہ جس طرح سے میڈیا کے ساتھ گفتگو کرتی ہیں وہ بھی لوگوں کو کافی متاثر کر رہا ہے۔ جس طرح سارہ میڈیا میں چھائی ہوئی ہیں اس سے ان کے پاپا سیف علی خان فکر مند ہو گئے ہیں کیونکہ میڈیا سارہ کی ہر سرگرمی پر نظر رکھنے لگا ہے۔

سوال یہ ہے کہ شو بز میں قدم رکھنے کے بعد اپنی بیٹی کا میڈیا میں اتنا ایکسپوز ہونے پر سیف اتنی فکر کیوں ہیں؟

یہ بھی پڑھیے

رنویر دیپیکا کا نام اپنانے پر کیوں آمادہ ہوئے؟

اب بالی وڈ سے مودی کیا چاہتے ہیں؟

'96 کلو وزن کے ساتھ ہیروئن کیسے بن سکتی تھی'

سارہ علی خان کا کریئر اور پرینکا کی کوششیں

’بیٹی کے فلمی کریئر پر سوال کیوں؟'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

میڈیا کی بے تحاشا کوریج کا شکار صرف سارہ ہی نہیں سیف کے سب سے چھوٹے بیٹے تیمور علی خان بھی تو ہیں جس پر سیف یا ان کی بیگم کرینہ نے کبھی لگام کسنے کی کوشش نہیں کی جبکہ سارہ بالغ ہیں اور دو فلمیں دے چکی ہیں پھر سارہ کی اتنی فکر کیوں۔؟

ویسے والدین کی فکر یا ڈانٹ بچوں کے لیے کیا معنی رکھتی ہے یہ کوئی اداکار کارتک آرین سے پوچھے۔ فلم 'سونو کے ٹیٹو کے سوئٹی' سے کامیابی حاصل کرنے والے کارتک آرین کہتے ہیں کہ اپنی فلم کی کامیابی کے بعد ان کے زمین پاؤں پر رہیں اس لیے انھوں نے میڈیا سے بات کرنی بند کر دی تھی۔

اب ان کی فلم 'لکا چھپی' کا ٹریلر ریلیز ہوا ہے تو وہ میڈیا کے سامنے موجود ہیں۔ کارتک کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے ممی پاپا آج بھی انھیں ڈانٹتے ہیں یہاں تک کہ کبھی کبھی کان کے نیچے تھپڑ بھی رسید کر دیتے ہیں تاکہ ان کے پاؤں زمین پر رہیں۔ کارتک صاحب آپ کے پاؤں نہ ہوئے باز کے پر ہو گئے جنھیں باندھنا مشکل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کرن جوہر نے آخر کار کرکٹر ہاردک پانڈیہ اور کے ایل راہل کے اس قسط پر اپنی زبان کھول ہی دی جس میں ان دونوں کرکٹرز نے خواتین کے بارے میں قابلِ اعتراض باتیں کی تھیں۔

’کافی ود کرن‘ کی اس قسط کے بعد دونوں کرکٹرز کو بی سی سی آئی نے معطل کر دیا تھا۔

کرن کہتے ہیں کہ انھوں نے ان دونوں سے وہی سوال کیے جو وہ دوسرے لوگوں سے کرتے ہیں لیکن جواب پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا۔ اگر کرن کی بات ٹھیک ہے تو پھر اس دوران وہ ہاردک کی حوصلہ افزائی کرتے کیوں نظر آئے یا پھر انھوں نے اس کی ایڈیٹنگ کیوں نہیں کی؟ کیونکہ اگر وہ ایسا کرتے تو انھیں ٹی آر پی کیسے ملتی اور ساتھ ہی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بے تحاشہ پبلسٹی بھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں